بریکنگ نیوز
Home / کالم / عطیہ خون، صدقہ جاریہ

عطیہ خون، صدقہ جاریہ

خیبرمیڈیکل یونیورسٹی پشاور کے ذیلی ادارے انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل میڈیسن اینڈ ری ہیبی لیٹیشن میں عطیہ خون کی ایک تقریب سے طبی ماہرین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستا ن میں ہرایک منٹ میں کسی نہ کسی فرد کو خون کی ضرورت کے علاوہ روزانہ اوسطاً38ہزار خون کے عطیات درکار ہوتے ہیں اسی طرح سیف بلڈ ٹرانسفیوژن ادارے کے اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ تیس لاکھ بوتل خون کی ضرورت کے مقابلے میں صرف پندرہ لاکھ خون کی بوتلیں دستیاب ہوتی ہیں جن میں صرف تین فیصدخون عطیہ شدہ ہوتا ہے جو زیادہ ترمریضوں کے لواحقین فراہم کرتے ہیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں خون عطیہ کرنیکی شرح تقریباً 40فیصدہے دنیا میں ہر سال دس لاکھ جبکہ پاکستان میں چھ ہزار نئے افراد کو کینسراور پانچ ہزار کو تھیلی سیمیا کی تشخیص سے انتقال خون کی ضرورت میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے۔واضح رہے کہ خون انسانی جسم کا بنیادی عنصر ہے جس کے بغیر زندگی کاتصور محال ہے ماہرین کے مطابق ایک بالغ مرد میں70ملی لیٹر فی کلوگرام اور ایک بالغ عورت میں67 ملی لیٹر فی کلوگرام خون ہوتاہے ایک نارمل بالغ انسان اپنے جسم کا 13فیصد خون عطیہ کرسکتاہے ایک بالغ مرد سال میں تین ماہ کے وقفے سے چار بار جبکہ بالغ عورت چارماہ کے وقفے سے سال میں تین بار خون عطیہ کرسکتی ہے۔ اسی طرح 18سال سے زائد اور60سال سے کم عمر کاہر صحتمند فرد جس کا وزن 50کلوگرام سے زیادہ ہو اورجسے کبھی ہیپاٹائٹس کا مرض لاحق نہ رہا ہوخون عطیہ کر سکتا ہے‘ یاد رہے کہ کسی زمانے میں لوگ خون دینے سے نہ صرف گھبراتے تھے بلکہ ان کاخیال ہوتاتھا کہ خون دینے سے انسان کے اپنے جسم میں خون کی کمی پیدا ہوجاتی ہے جس سے ایک اچھے بھلے انسان کے بیمار یا جسمانی اور اعصابی طور پر کمزورہونیکا خدشہ پیدا ہو جاتاہے۔

لیکن جب ماہرین طب نے عملی تجرات سے یہ بات ثابت کی کہ انتقال خون سے کسی دوسرے ضرورت مند انسان کی جان توبچ جاتی ہے لیکن اس سے اسکے اپنے جسم یا بدن پرمنفی اثرات کی بجائے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں تواس سوچ کے پروا ن چڑھنے کے نتیجے میں خون عطیہ کرنے کے رجحانات میں مسلسل اضافہ ہونے لگا اور اب تو باقاعدہ عطیہ خون کے کیمپ لگائے جاتے ہیں ماہرین کے مطابق باقاعدگی سے خون عطیہ کرنے سے جسم میں نیا اور تازہ خون تیزی سے بنتاہے جو انسانی جسم اور اچھی صحت کیلئے ضروری تصور کیا جاتا ہے‘ شرو ع میں لوگ انتقال خون کو شرعاً بھی ناجائز سمجھتے تھے لیکن اب وقت گزرنے کیساتھ علمائے کرام اور مفتیان عظام اپنی تحقیق اور فتوؤں سے نہ صرف ضرورت مند افراد کوخون دینے کو شرعاً جائز قرار دے چکے ہیں بلکہ اس عمل کو صدقہ جاریہ اور کارخیرکے زمرے میں بھی شامل کیا گیا ہے انتقال خون کی سب سے زیادہ ضرورت تھیلی سیمیا اور بلڈ کینسر کے مریضوں کو ہوتی ہے جنہیں انکے مرض کی شدت اور کیفیت کے مطابق خون درکار ہوتاہے‘ اسی طرح مختلف حادثات کا شکار ہونیوالے زخمیوں جن سے دوران حادثہ بہت سارا خون بہہ چکاہوتا ہے انہیں بھی اضافی خون درکار ہوتا ہے‘عالمی ادارہ صحت کی گائیڈ لائنز کے مطابق انتقال خون سے پہلے خون کا سکرین کیا جانا اس مریض کی جان اورصحت کیلئے انتہائی ضروری ہے جسے خون لگایاجانا مقصود ہو۔

عالمی ادارہ صحت نے ہیپاٹائٹس اور تھیلی سیمیا سمیت پانچ امراض کی تشخیص کیلئے خون کی سکریننگ کو لازمی قرار دیا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں نہ تو خون کی سکریننگ کا کوئی معقول انتظام ہے اور نہ ہی خون کے غیر محفوظ انتقال کیلئے کوئی خاص اور فعال مکینزم ہے جس کا فائدہ انتقال خون کا غیرقانونی اور مکروہ دھندہ کرنیوالے ادارے اور افراد اٹھا رہے ہیں جبکہ اس منفی عمل کا نقصان عام مریضوں کے حصے میں آرہا ہے جنکا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ یہ بات باعث حیرت ہے کہ پاکستان میں محفوظ انتقال خون کیلئے قوانین موجودہیں۔یہ ان قوانین کی کمزوری اور ان قوانین میں پائے جانیوالے سقم کا نتیجہ ہے کہ ہمارے ہاں آج بھی ایسے سینکڑوں ادارے موجود ہیں جو نہ تومتعلقہ حکومتی اداروں کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں اور نہ ہی ان اداروں میں انتقال خون کے بین الاقوامی معیارات کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔