بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / چوہدری نثار کا اعلان

چوہدری نثار کا اعلان


وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے سانحہ کوئٹہ سے متعلق جاری جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ سپریم کورٹ سمیت ہر فورم پر چیلنج کرنے کا اعلان کیاہے ‘ وزیر داخلہ نے اپنے خلاف پارلیمنٹ میں پیش ہونے والی تحریکوں کا سامنا کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے ‘ وزیر داخلہ کا گلہ ہے کہ کمیشن رپورٹ کی خبر میں ان کا موقف نہیں تھا ‘ وزیر داخلہ اپنی گزشتہ روز کی پریس کانفرنس میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کا ریکارڈ بھی سامنے لانے کا اعلان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ انٹیلی جنس بنیادوں پر20 ہزار سے زائد آپریشن ہو چکے ہیں میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر داخلہ سے نیکٹا کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاسوں سے متعلق بھی پوچھا گیا تھا جبکہ پوچھے گئے سوالات میں بورڈ آف گورنرز کے اجلاس کے نہ ہونے سے متعلق وزیر داخلہ نے بتایا تھا کہ یہ وزیراعظم سے متعلق ہے ‘رپورٹس کے مطابق وزیر داخلہ اس معاملے پر مستعفی ہونے کی پیشکش بھی کر چکے ہیں جسے وزیراعظم نے تسلیم نہیں کیا۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ چوہدری نثار ایک سینئرجج پر حملہ آور ہو کر عدالت عظمیٰ کی تضحیک کر رہے ہیں وطن عزیز میں اس وقت سیاسی محاذ آرائی شدت پر ہے اس میں جوڈیشل کمیشن رپورٹ اور اس پر وزیر داخلہ اور اپوزیشن جماعتوں کے رد عمل نے صورتحال کو مزید گرما دیا ہے پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی جانب سے اقدامات کے مطالبے آ رہے ہیں پیپلز پارٹی 27 دسمبر کی ڈیڈ لائن دیئے ہوئے ہے جبکہ خبررساں ایجنسی کے مطابق پی پی پی حکومت کیخلاف گرینڈ الائنس تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کر رہی ہے اس الائنس کا مقصد حکومت کے خلاف احتجاج کو موثر بنانا ہے اسکے ساتھ پیپلز پارٹی چوہدری نثار سے استعفیٰ لینے کا مطالبہ بھی کر رہی ہے پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ کمیشن کی رپورٹ میں وزیر داخلہ کو مجرم قرار دیا جا رہا ہے ‘ سیاسی اختلافات اور محاذ آرائی اپنی جگہ عوام کے جان ومال کا تحفظ اور عوام کو درپیش مسائل کا حل سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے منتخب قیادت کو اس وقت برسرزمین صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے لوگوں کے تحفظ اور ریلیف پر بھی توجہ دینا ہو گی کیونکہ عام آدمی اپنے مسائل کا حل چاہتا ہے ۔
سندھ طاس پر اصولی موقف
پاکستان نے سندھ طاس معاہدے میں کوئی بھی تبدیلی قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے ‘ اس کیساتھ ہی بھارت کی جانب سے دو متنازعہ آبی منصوبوں کو مکمل کرنے کے معاملے کو مزید طول دینے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے ‘ بھارت کی جانب سے بات چیت کیلئے رضا مندی کیساتھ مزید وقت بھی مانگا جا رہا ہے تاہم ہر بات ریکارڈ کا حصہ ہے کہ بھارت اس سے پہلے تنازعہ کے دوران ہی مخصوص حکمت عملی کیساتھ ایک آبی منصوبہ مکمل کر چکا ہے اس طرح دیگر معاملات پربھی مذاکرات کا عمل جب بھی شروع ہوا بھارت نے عین وقت پر اسکو سبوتاژ کیا اسی طرح بھارت کی جانب سے سرحدوں پر اشتعال انگیزی بھی معمول بن چکی ہے۔

جبکہ پاکستان تمام معاملات بات چیت کے ذریعے نمٹانے کا حامی رہا ہے پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں اصلاح احوال کیلئے بھی مثبت کردارا دا کیا تاہم ڈو مور کے دیگر مطالبات کیساتھ اب امریکہ حقانی نیٹ ورک کیخلاف کاروائی نہ کرنے کا الزام بھی لگا رہا ہے امریکہ اور دیگر ممالک کو چاہئے کہ بھارت اور افغانستان سے متعلق پاکستان کے اصولی موقف کوسپورٹ کریں اوردونوں ملکوں پر دباؤ ڈالیں تاکہ پاکستان کے خلاف اشتعال انگیزیوں اور الزام تراشی کا سلسلہ ختم ہو ۔