بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / کرپشن کی بات کرنیوالے بلاول سرے اوردبئی کے محل بھول گئے، چوہدری نثار

کرپشن کی بات کرنیوالے بلاول سرے اوردبئی کے محل بھول گئے، چوہدری نثار

اسلام آباد۔ وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ بچے کی اوٹ پٹانگ باتوں کا جواب نہیں دے سکتا،چیخنے چلانے والے مذکر مونث میں فرق نہیں کرسکتے،تعجب ہے کہ پیپلزپارٹی بھی کرپشن کے خلاف مہم چلائے گی،سانحہ کوئٹہ پرکمیشن کی رپورٹ پر بہت شور مچایا گیا پھرکرپشن کی بات کرنے والے بلاول بھٹو سرے اوردبئی کے محل بھول گئے جس شخص کی والدہ کانام پانامالیکس میں ہے وہ دوسروں پربات کرتاہے، عجب کرپشن کی غضب کہانی ،یہ جواب نہیں دیتے تھے۔

اچھا ہوتاوہ شخص کہتا کہ میری ماں کا کیس بھی سپریم کورٹ میں لے جایا جائے، پیپلز پارٹی کا کرپشن مخالف مہم چلانا ایسے ہے جیسے بھارت میں بی جے پی مسلمانوں کے حقوق کے لیے مہم چلائے،بلاول کے باورچی بھی سرکاری خزانے سے تنخواہ لیتے ہیں، منی لانڈرنگ کا کیس ضائع کرنے والوں کو سامنے لایا جائے گا ، ماضی میں بم دھماکے ہوتے رہے، حکمران عوام کو میٹھی گولیاں دیتے رہے، پولیس کی تربیت کمانڈوز کی طرز پر کی گئی۔

، دہشت گردی کے واقعات میں کچہری کے وکلا بھی شہید ہوئے، ان کا کیا دباؤ ہوگا جن کے پلے کچھ نہیں، مجھ پر کوئی دباؤنہیں ضمیر کا دباؤہوتو محسوس ہوگا، قافلے کی خلاف ورزی پر تفتیش کی تومعلوم ہوا امریکی سفارت خانے کا ہے، امریکی سفارت خانے کو کہا ہے کہ آئندہ خلاف ورزی پرقانونی کارروائی کی جائے گی، امریکی فورسز نے یہاں آکر ایک شخص کو قتل کیا اور لے گئے، تین ہفتے زور لگانے کے بعد پارلیمنٹ کا مشترکہ سیشن ہوا، آئی جی اے ڈی خواجہ کی جبری رخصتی افسوسناک ہے،ان کی وجہ سے حالات میں بہت بہتری آئی ،مجھ سے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والوں کی اصلیت قوم کے سامنے آگئی،گذشتہ 10سالوں میں صرف باتیں ہوئیں کام نہیں ہوا، تھائی لینڈ کے وزیر داخلہ کو خط لکھ رہا ہوں ، کریڈٹ دیں ہم سفاک قاتل کو بنکاک سے اٹھا کر لائے ، وفاقی کابینہ سے مطالبہ کریں گے کہ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر لائی جائے۔ اسلام آباد میں پولیس اہلکاروں کی پاسنگ آؤٹ پریڈ تقریب سے خطاب اور میڈیا سے بات کرتے ہوئے چوہدری نثارنے کہا کہ کابینہ میں مطالبہ کروں گا کہ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ پبلک کی جائے، کرپشن کی بات کرنے والے بلاول سرے اوردبئی کے محل بھول گئے۔

جس شخص کی والدہ کانام پانامالیکس پرہے وہ دوسروں پربات کرتاہے، عجب کرپشن کی غضب کہانی، یہ جواب نہیں دیتے تھے، اچھا ہوتاوہ شخص کہتا کہ میری ماں کا کیس بھی سپریم کورٹ میں لے جایا جائے، پیپلز پارٹی کا کرپشن مخالف مہم چلانا ایسے ہے جیسے بھارت میں بی جے پی مسلمانوں کے حقوق کے لیے مہم چلائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کو مونث مذکر کا معلوم نہیں ، تھائی لینڈ کے وزیر داخلہ کو خط لکھ رہا ہوں جب کہ کریڈٹ دیں ہم سفاک قاتل کو بنکاک سے اٹھا کر لائے۔ اس سے قبل وزیرداخلہ چوہدری نثارنے تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ پولیس میں شامل ہونے والے پاکستان کا مان رکھیں، آپ نے قانون کی پاس داری کرنی ہے، اسلام آباد پولیس میں بہت بہتری آئی لیکن ابھی بھی بہت گنجائش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اللہ تعالی کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھواور مجرموں، چوروں، کارکنوں کے لیے زمین تنگ کردو، مجھے خوشی ہے آپ اس جہاد میں شامل ہورہے ہیں، ایک جوان سب کچھ بدل سکتا ہے اور وہ تم بھی ہوسکتے ہو، آپ کی ذمہ داری چھوٹی نہیں ہے،آپ کے ہاتھ میں اللہ تعالی نے انصاف کی چھڑی دے دی ہے۔ چوہدری نثار نے کہا کہ آپ نے ہمیشہ حلال کھانا اور انصاف کرنا ہے، میری التجاہ ہے کہ لوگوں کو انصاف دوگے ، دل میں اللہ کا خوف رکھو گے تو دنیا میں اورآخرت میں بھی فلاح پاؤ گے، آپ حکومت کے نہیں پاکستان کے ملازم ہیں اور حرام میں برکت اور سکون نہیں۔

بس نیک نیتی اور انصاف میں سکون ہے۔ رینجرزکے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ رینجرزنے پولیس کے ساتھ مل کر اسلام آباد کو پر سکون بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اسلام آباد پولیس کو رینجرز کے نوجوانوں کو دیکھ کر اپنا معیار مزید تبدیل کرنا چاہیئے کیونکہ وہ بہترین طریقے سے اپنی ذمہ داری سنبھالتے ہیں۔ چوہدری نثارنے کہا کہ مجھے کرائم ریٹ زیرو کے قریب چاہیئے،آپ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے تربیت لے چکے ہیں، دہشتگردی کے خلاف جنگ کا پہلا دستہ اسلام آباد پولیس کا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پولیس اہلکار ملک کے ساتھ وفاداری نبھائیں، آپ کی مراعات جتنی بھی ہوں کم ہیں، آپ سینہ سپرہوکر کام کرتے ہیں، آپ نے بہادری اور طاقت سے دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے اور میں شہیدوں کے خاندانوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے دہشتگردی کا خاتمہ کیا۔ حکومتیں آنی جانی ہیں، پہلے دھماکے ہوتے رہے، حکومتیں خواب خرگوش کے مزے لیتی رہیں لیکن ہم نے اپنی حکومت میں ہمیشہ عملی کام کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حلف میں کہا گیاہے افسران بالا کا حکم مانوں گا، میں نے کبھی ایک نائب قاسد کی بھرتی کی بھی سفارش نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے دہشتگردی کے خلاف عملی کام کیا ۔پولیس نے دہشت گردوں کے خلاف قربانیاں دیں ۔آپ کا وزیر داخلہ کسی سے کم نہیں ،کسی بھی وقت مقابلہ کرلیں ۔