بریکنگ نیوز
Home / کالم / نواز لیگ کا نظریاتی سفر

نواز لیگ کا نظریاتی سفر


اکتوبر دوہزار پندرہ کی بات ہے جب لاہور کے حلقہ این اے ایک سوبائیس میں غیر معمولی ضمنی انتخابات کا انعقاد ہوا‘ جس میں اُن لوگوں نے بھی گھروں سے نکل کر پاکستان مسلم لیگ (نواز) کو ووٹ دیئے‘ جو انتخابی عمل سے علیحدہ رہتے تھے یا پھر اُنہوں نے ماضی میں لبرل ہونے کی وجہ سے پیپلزپارٹی کو ووٹ دیئے تھے۔ دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں کسی بھی سیاسی جماعت کو ووٹ نہ دینے والوں نے سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹس پر اظہار خیال کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ اِس مرتبہ انہوں نے نواز لیگ کے امیدوار کو ووٹ دیا‘ پلڈاٹ کے نمائندے اس معاملے کو پنجاب کے شہری متوسط طبقے کے اکثریتی لبرل حلقے کی جانب سے ’اسٹریٹجک ووٹنگ‘ کے طور پر پیش کرتے ہیں جو ’پی ٹی آئی‘ کی عوامیت پسندی کو مشکوک نگاہ سے دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ پنجاب‘ جہاں پی پی پی کا ووٹ بینک تیزی سے کم ہو رہا ہے‘ میں پی پی پی کو ووٹ دینے سے ان کے ووٹ ضائع ہو جائیں گے۔ پلڈاٹ کے نمائندے مانتے ہیں کہ پنجاب کے شہری متوسط طبقے اور پنجاب کے لبرل اور ترقی پسند طبقات کا نواز لیگ کو ووٹ دینا ایک دلچسپ پیش رفت ہے۔ اُن کے مطابق محققین کو اِس رجحان پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے اور یہ کہ نواز لیگ بھی اس بات سے آگاہ ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس آگاہی کی ایک بڑی وجہ یہ ’حقیقت‘ ہے کہ اگر یہ طبقہ این اے ایک سو بائیس میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں باہر نہ نکلتا اور نواز لیگ کو ووٹ نہ دیتا تو نواز لیگ کا امیدوار کامیاب نہیں ہو پاتا۔ پی ٹی آئی کے امیدوار کو دو ہزار چار سو سے زائد ووٹوں کے فرق کے ساتھ شکست ہوئی اور پلڈاٹ کے نمائندے ایسا مانتے ہیں کہ اس حلقے کے ’لبرل‘ طبقے کے ووٹوں کی مدد سے نواز لیگ کے امیدوار کو اس کانٹے دار مقابلے میں ذرا سے فرق کے ساتھ جیت نصیب ہوئی۔

لاہوری مانتے ہیں کہ نواز لیگ اپنا رخ (دائیں بازو سے) ’نہایت اعتدال پسندی‘ کی طرف ایسے وقت میں موڑ رہی ہے جب ’بائیں بازو کی لبرل‘ پی پی پی اپنے نظریئے کو پالیسی میں بدلنے میں ناکام ہو رہی ہے جبکہ پی ٹی آئی ’’زیادہ سے زیادہ عوامیت پسند دائیں بازو کی جماعت‘‘ کے طور پر دکھائی دیتی ہے‘ مسلم لیگ حقیقت میں ایک جدت اور اعتدال پسند جماعت تھی مگر 1985ء میں جب اِس جماعت کو ایک بار پھر متحد کیا گیا تب یہ ایک قدامت پسند تنظیم بن گئی جو ضیاء کی آمریت سے قربت رکھتی تھی۔1988ء میں یہ دائیں بازو کے بین الجماعتی اتحاد‘ اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) کی رکن تھی۔ آئی جے آئی 1990ء کے عام انتخابات میں کامیاب ہوئی اور نواز شریف وزیر اعظم بنے مگر مسلم لیگ ایک بار پھر مختلف دھڑوں میں تقسیم ہو گئی اور نواز لیگ اِن میں سے سب سے بڑا دھڑا بنا۔ نواز لیگ نے 1985ء کی مسلم لیگ کی سماجی و سیاسی قدامت پسندانہ روش اختیار کی لیکن اقتصادی آزادی پر بہت زور دیا گیا۔سال 1999ء میں نواز لیگ کی دوسری حکومت فوجی بغاوت میں ختم کئے جانے اور نواز شریف کو جلاوطن کرنے کے بعد پارٹی آہستہ آہستہ اپنی سماجی و سیاسی قدامت پسندانہ روش سے دور ہونا شروع ہوئی جو کہ اس نے 1990ء کی دہائی میں اختیار کی تھی۔

پارٹی زیادہ سے زیادہ اعتدال پسندی کی جانب گامزن ہونا شروع ہوئی مگر بڑے پیمانے پر اقتصادی آزادی کی اب بھی حمایت جاری رکھی۔ یہاں تک کہ پارٹی کا ماننا تھا کہ ماضی میں پارٹی جس قدامت پسند روش پر قائم تھی‘ اس پر قائم رہتے ہوئے زیادہ تر اقتصادی منصوبوں (جن میں غیر ملکی سرمایہ کاری مطلوب تھی) کی تکمیل ممکن نہیں تھی۔ نواز لیگ 2008ء کے قومی انتخابات میں دوسرے نمبر رہی مگر پنجاب میں صوبائی حکومت قائم کرنے میں کامیاب رہی۔ قلیل مدت کے لئے یہ ’پی پی پی‘ کی سربراہی میں بننے والی نئی مرکزی حکومت کی سرگرم اتحادی بنی مگر جلد ہی ساتھ چھوڑ کر حزبِ اختلاف کی بینچوں پر جا بیٹھی۔ پنجاب میں اپنی حکومت کے دوران پارٹی اپنے اقتصادی پروگرام کو واضح طور پر تشکیل دینے میں کامیاب رہی۔ سال 2013ء کے عام انتخابات میں بھاری اکثریت سے فتح یاب ہونے کے بعد پارٹی نے خود کو ایک معتدل سماجی روپ دینے اور اقتصادی آزادی اور ترقی کے لئے اپنی طرز کی پالیسیوں کو ترتیب دینے اور اس پر عمل درآمد کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔

اس لحاظ سے آج کی نواز لیگ میں 1990ء کی دہائی والی پارٹی جیسا کچھ نہیں ہے۔ پارٹی ایک اعتدال پسند تنظیم بننے کا پختہ عزم کر چکی ہے جو کہ مختلف مسائل پر اپنا رُخ ایک فیصلہ کن نکتہ اعتدال کی جانب کر رہی ہے۔ مگر اِن سب کے ساتھ شہری پنجاب میں شاید اب ایک اضافی (اور ایک مکمل طور پر نیا) حلقہ وجود میں آ رہا ہے جو پی پی پی کو صوبے میں موجود کٹر قدامت پسند گروپس اور پی ٹی آئی کی ’انارکی مائل‘ عوامیت پسندی کو باز رکھنے کے لئے انتہائی کمزور سمجھتا ہے۔ بلاشک و شبہ یہ ایک انتہائی دلچسپ پیش رفت ہے اور نواز لیگ ماضی کے مقابلے میں آج زیادہ منظم اور بڑی جماعت ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ندیم پراچہ۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)