بریکنگ نیوز
Home / کالم / اتحاد کی ضرورت

اتحاد کی ضرورت

دونوں واقعات اندوہناک تھے،ترکی میں روسی سفیر کا ایک مسلمان کے ہاتھوں قتل اور جرمنی میں بارہ افراد کا قتل عام، پہلے خبر آئی کہ برلن میں ہونیوالی دہشت گردی میں ہوسکتا ہے ایک پاکستانی نوجوان ملوث ہو، بعد میں ا س خبر کو جب غلط قرار دیا گیا تو پاکستانیوں کی جان میں جان آئی نو منتخب امریکی صدر پہلے ہی سے مسلمان دشمنی میں بھرا بیٹھا ہے اس نے برلن کے واقع پر یکدم ایک بیان داغ دیا کہ وہ حلف اٹھانے کے بعد اس قسم کی دہشت گردی کرنیوالوں کی اچھے طریقے سے خبر لے گا، خدا جانے یہ جو ہم میں اتنی زیادہ انتہا پسندی سرایت کرچکی ہے یہ کیا گل کھلائے؟ اس لمبے جملہ معترضہ کے بعد اب ہم آتے ہیں چند اہم قومی امور کی جانب کہ جن پر من حیث القوم عوام اور حکومت دونوں کو سنجیدگی سے غور وخوض کرنا ہوگا خصوصی فوجی عدالتوں کی مدت 7جنوری 2017کو ختم ہونیوالی ہے، خدا لگتی یہ ہے کہ ان عدالتوں نے کئی دہشت گردوں کوسزادی ہے اور اگر آج ماضی کے مقابلے میں ملک میں دہشت گردی کی شرح کم ہوئی ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ان فوجی عدالتوں نے دہشت گردوں کے دلوں میں خوف پیدا کردیا ہے کہ اگر انہوں نے معصوم جانوں سے کھیلا تو وہ پھانسی سے نہ بچ پائیں گے، ہم ان لوگوں سے بالکل اتفاق نہیں کرتے کہ جو ان فوجی عدالتوں کے کام کی مدت میں مزید اضافہ دینے کے مخالف ہیں، وہ یہ بھول رہے ہیں کہ ابھی مکمل طورپر دہشت گردوں کی کمر نہیں ٹوٹی۔

کم ازکم ایک یا دو سال مزید خصوصی فوجی عدالتوں کا وجود ضروری ہے ابھی تو پنجاب میں کئی کالعدم جماعتوں پر ہاتھ نہیں ڈالاگیا، رانا ثناء اللہ پر ماضی میں بھی اس قسم کے الزامات لگتے رہے ہیں کہ انہیں اپنے ووٹ بنک کی زیادہ فکر ہے اور وہ کئی کالعدم جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں کے خلاف کاروائی کے حق میں نہیں کہ مبادا (ن)لیگ کا ووٹ بنک متاثر نہ ہو، ووٹ بنک اپنی جگہ پر ملک کی بقاء ووٹ بنک سے زیادہ مقدم ہوتی ہے، اس وقت یہ ملک کسی نفاق کا متحمل نہیں ہوسکتا، سب سیاسی جماعتوں کو یکجا ہوکر اس ملک کے اس بڑے دشمن کے خلاف سینہ سپر ہونے کی ضرورت ہے جو کہ اس ملک کی بیخوں میں پانی دیکر اسے اجاڑنا چاہتا ہے آج اس ملک میں بسنے والے تمام مسلمانوں کو آپس میں اتحاد کی ضرورت ہے لہٰذا اس نازک موقع پر کوئی سیاسی رہنما اگر یہ بات کرتا ہے کہ میں ملک کو پانچ حصوں میں تقسیم ہوتا دیکھ رہا ہوں تو یہ بات ہر محب وطن پاکستانی کو بری لگتی ہے اسی طرح کوئی اگر یہ شوشہ چھوڑتا ہے کہ افغان مہاجرین کو پاکستان کی شہریت دے کر اٹک اور میانوالی تک ایک الگ صوبے کی تشکیل کردی جائے تو وہ کوئی دانشمندانہ تجویز پیش نہیں کررہا الٹا وہ اس ملک کو مزید تقسیم کرنیکی بات کررہا ہے، ہم تو کافی دنوں سے منتظر تھے کہ حکومتی رہنما اس قسم کی باتوں کانوٹس لیں گے ۔

اور سرکاری طورپر انکی مذمت کریں گے پر انکو تو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو ، الخاموشی نیم رضا۔ کیا انکی خاموشی کا یہ مطلب لے لیاجائے کہ وہ مندرجہ بالا تجاویز سے اتفاق کرتے ہیں اگر ایسا نہیں توپھر انہوں نے چپ کیوں سادھ رکھی ہے وہ کھل کر ان پر اپنے خیالات کا اظہار کیوں نہیں کرتے؟ جوں جوں 27دسمبر 2016ء کی تاریخ نزدیک آرہی ہے حکومتی زعماء اور پی پی پی کے رہنماؤں کے درمیان زبانی جنگ شدت اختیار کرتی جارہی ہے اور سیاسی حالات تصادم کی طرف جارہے ہیں عام آدمی ان دو سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں کے درمیان تکرار اور جملوں کے تبادلوں کے صرف مزے لے رہا ہے وہ ان کو سنجیدہ اسلئے نہیں لے رہا کہ ایک دوسرے پر الزام لگانے والے دونوں فریقین کا اپنا دامن بھی پاک صاف نہیں دونوں پارٹیوں کے اکثر رہنما وارداتیے ہیں ہاں یہ بات ضرور ہے کہ انکا طریقہ واردات مختلف ہے۔