بریکنگ نیوز
Home / کالم / یک طرفہ سیاسی ماحول!

یک طرفہ سیاسی ماحول!

پاکستان نے کیا سیکھا؟ اس بات کا جواب ماضی کے واقعات و نتائج کو یاد رکھنے والوں کی رائے میں بہت اہم ہے سال دوہزار سولہ اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے نیا سال سیاسی طور پر نہایت سرگرم ہوگا؟ دوہزار اٹھارہ میں عام انتخابات متوقع ہیں‘ اس لحاظ سے اگلا سال کافی اہم ہے اور اس توقع کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ نئے سال میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہوں گی ہر سیاسی جماعت کی توجہ آنیوالے عام انتخابات پر جمی ہے۔ انتخابی گہما گہمی کا آغاز نئے سال سے ہی ہو جائے گا بھرپور انداز میں انتخابی مہمات بھی چلائی جائیں گی‘ پارٹی ٹکٹ دیتے ہوئے کہیں رشتے داری کام آئے گی تو کہیں وفاداری‘ اور کہیں پیسہ اپنے کرشمے دکھائے گا۔بین الاقوامی سطح پر دیکھا جائے تو سیاسی جماعتیں اکثر پارٹی ممبران کی متفقہ رائے اور مشاورت کے بعد جا کر ملک کے سربراہ کی دوڑ کے لئے اپنا نمائندہ منتخب کرتی ہیں‘ جیسے امریکہ میں بھی ہوتا ہے‘ جہاں قائدانہ قابلیت کی خوبیاں دیکھنے کے بعد باراک اوباما کو صدارتی انتخابات کیلئے ٹکٹ مل جاتا ہے اور وہاں پارٹی کنونشن بلوا کر اور پارٹی ممبران کے وفود کی رائے لینے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی ٹکٹ نصیب ہوتا ہے زیادہ دور کیوں جائیں پڑوسی ملک بھارت کی مثال موجود ہے جہاں نریندر مودی کو انکی سیاسی جماعت‘ گجرات میں انفراسٹرکچر اور دیگر شعبوں میں ہونے والی ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک کی وزارتِ عظمیٰ کی دوڑ کیلئے چن لیتی ہے۔

پاکستان کی کہانی مختلف ہے ہمارے ملک میں جمہوری نظام ہے مگر افسوس کے ساتھ ملکی تاریخ میں آج تک اقتدار مودی کی طرح کسی نچلے طبقے سے آنے والے شخص کو دینا تو دور‘ کسی متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے شخص کو بھی نصیب نہیں ہوا افسوس کے ساتھ سیاسی میدان میں برطانوی راج کے بعد اشرافیہ راج ہی قائم رہا ہے ایسا نہیں کہ ہمارے وطن عزیز کے لوگ گزشتہ دہائیوں میں سیاسی طور پر متحرک نہیں تھے یا ان میں قائدانہ صلاحیتوں کا فقدان تھا مختلف سیاسی جماعتوں میں کئی ایسے سیاسی رہنما پیدا ہوئے جن میں سیاسی بردباری اور بہتر پالیسی سازی کا ہنر بھی تھا مگر متوسط طبقے کے کارکنوں اور جیالوں کو اقتداری عہدوں کی تقسیم میں ایک حد تک ہی رکھا گیا حالانکہ ان میں سیاسی بصیرت تھی اور قائدانہ صلاحیت بھی مگر ایسے لوگوں کو ہمیشہ ماتحت ہی رکھا گیا لہٰذا انہیں صلاحیتوں کو استعمال کرنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ ہمارے ملک کی بڑی جماعتوں کے اندر ہی جمہوری عمل نظر نہیں آتا‘ ملک کی اکثر سیاسی جماعتوں کے اندر پارٹی انتخابات ہی منعقد نہیں کر وائے جاتے اکثر سیاسی قائدین آمریت کے خلاف ببانگ دہل تقاریر کرتے ہیں اپنی قربانیاں اور شہادتیں گنواتے ہیں اور اِن شہادتوں کے ترازو ہمارے سامنے پیش کر دیتے ہیں‘ تو پھر اپنی پارٹیوں کے اندر آمرانہ روش کیوں رکھتے ہیں؟مسلم لیگ نواز کی بات کی جائے تو یہاں احسن اقبال‘ اسحاق ڈار‘ پرویز رشید‘ خواجہ سعد رفیق‘ چودھری نثار ‘ دانیال عزیز اور سردار ایاز صادق جیسے منجھے ہوئے سیاسی کارکن ہیں‘ جنہیں پارٹی ٹکٹ بھی دیا جاتا ہے اور وزارتیں بھی لیکن انہیں وزارت عظمیٰ کیلئے نامزد کیوں نہیں کیا جاتا؟ پیپلز پارٹی کو دیکھا جائے تو سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی مجبوری کا سودا تھے‘ بالکل ایسے ہی جیسے راجہ پرویز اشرف رہے مگر کیا سب لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ اس دور میں صدرِ پاکستان جو کہ پیپلز پارٹی کے سربراہ بھی تھے‘ آئینی طور پر ایک بے اختیار پوزیشن رکھتے ہوئے بھی بحیثیت پارٹی سربراہ وزیر اعظم کے فیصلوں پر اثرانداز ہوتے رہے؟ پیپلز پارٹی میں رضا ربانی‘ اعتزاز احسن‘ شیری رحمان‘ خورشید شاہ‘ فرحت اللہ بابر‘ حامد نائیک جیسے سینئر ممبران موجود ہیں۔

‘ جنہیں پارٹی ٹکٹ اور اہم وزارتیں دی جاتی ہیں لیکن وزارتِ عظمیٰ کیوں نہیں؟ وزارت عظمیٰ جیسے اہم ترین عہدے کے لئے سیاسی سوجھ بوجھ‘ فہم و فراست اور فیصلہ کرنیکی صلاحیت سیاسی میدان میں تجربے سے ہی آتی ہے سیاست میں یا کسی بھی جمہوری ملک میں بڑی سیاسی جماعتوں میں ون مین شو نہیں چلتا‘ پارٹی پورے ایک جتھے اور ٹیم ورک میں کام کرتی ہے تو کیا وجہ ہے کہ گراس روٹ سطح کی سیاست سے تجربہ حاصل کرنیوالوں کو وزارتِ عظمیٰ نہیں دی جاتی مگر پارٹی سربراہ ہی اس عہدے کیلئے موزوں ترین قرار پاتا ہے؟ آئندہ عام انتخابات میں کیا مسلم لیگ نواز سے مریم نواز یا حمزہ شہباز وزیرِ اعظم کیلئے نامزد ہوں گے؟ پیپلز پارٹی سے بلاول بھٹو زرداری یا آصفہ بھٹوزرداری کا انتخاب کیا جائے گا؟ اگر واقعی ایسا ہے تو یہ سیاسی اور جمہوری عمل قطعی طور پر نہیں ہوگا ان تمام افراد میں وہ پختگی اور بردباری نہیں جو ان ہی کی جماعت کے دیگر سینئر ترین ممبران میں موجود ہے بھارت کی مقبول ترین جماعت کانگریس پر نظر ڈالی جائے تو کانگریس سے نہ تو سونیا گاندھی وزیرِ اعظم بن رہی ہیں نہ ہی انکے بیٹے راہول اور بیٹی پریانکا گاندھی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی میں بھی موروثی سیاست نہیں ہے۔ نئے زمانے‘ نئے تقاضے اور نئے رجحان کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بڑی سیاسی جماعتیں اگر وزارتِ عظمیٰ جیسے اہم ترین عہدے کے لئے پارٹی صدر یا پارٹی صدر کے بچوں کو نامزد کریں تو ان کی کارکردگی اور شخصی بنیادوں پر سیاسی پختگی کسی کام کی نہیں۔ پاکستان کی سیاست سے شخصیت پرستی کابت توڑنے کیلئے عملی قدم کرنا ہونگے ورنہ سیاسی و انسانی ترقی کی راہ میں ہم دیگر ممالک سے ہمیشہ پیچھے ہی رہیں گے۔(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رابعہ جمیل۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)