بریکنگ نیوز
Home / بزنس / بھارت کیساتھ تجارت ختم کرنے سے نقصان پاکستان کا ہوگا، انجینئر خرم دستگیر

بھارت کیساتھ تجارت ختم کرنے سے نقصان پاکستان کا ہوگا، انجینئر خرم دستگیر

اسلام آباد۔وفاقی وزیر تجارت انجینئر خرم دستگیر نے کہا ہے کہ بھارت کیساتھ تجارت ختم کرنے سے پاکستان کا نقصان ہوگا،پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت کا حجم بھارت کی عالمی تجارت کا صرف 0.4 فیصد ہے،جس کو ختم کرنے سے بھارت پر بہت کم اثر پڑیگا،پاکستان میں بہت سا خام مال بھارت سے آتا ہے جو ہماری صنعتوں میں استعمال ہوتا ہے،بھارت سے تجارت بند ہونے سے ہماری صنعت بہت متاثر ہوگی،بھارت کے ساتھ تجارت کو بطور بدلہ استعمال کرنا موثر نہیں ہو گا۔

وہ جمعہ کو سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا کے توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دے رہے تھے۔ قبل ازیں سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایل او سی پر بھارتی افواج کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی کے نتیجے میں درجنوں بے گناہ پاکستانی شہری جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت ایل او سی کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور ہمیں دھمکیاں دے رہا ہے،لیکن پھر بھی ہماری بھارت سے تجارت2 سے 3 بلین ڈالر کی ہے۔

جب بھارت کی جانب سے ایل او سی کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو پاکستان کی جانب سے تجارت کے حوالے سے رد عمل کیوں نہیں آتا؟ مگرحکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات مصنوعی ہوتے ہیں۔اس موقع پر جواب دیتے ہوئے وزیر تجارت انجینئر خرم دستگیر نے کہا کہ پاک بھارت تجارت خارجہ پالیسی کا معاملہ ہے اور تجارت کو بطور بدلہ استعمال کرنا وسیع پالیسی کا سوال ہے، خارجہ پالیسی کے حوالے سے فیصلہ کرنا حکومت یا پارلیمنٹ کا اختیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت کا حجم بھارت کی عالمی تجارت کا صرف 0.4 فیصد ہے، تجارت روکنے سے بھارت پر بہت کم اثر پڑیگا۔

اگر ہم بھارت کی امپورٹ پر پابندی بھی لگا دیں لیکن پھر بھی بھارت کی معیشت پر بہت کم اثر پڑے گا، انجینئر خرم دستگیر نے کہا کہ پاکستان میں بہت سا خام مال بھارت سے آتا ہے،یہ خام مال ہماری صنعتوں میں استعمال ہوتا ہے،اس کے بند ہونے سے ہماری صنعت کو بہت نقصان ہو گا،بھارت کے ساتھ تجارت کو بطور بدلہ استعمال کرنا موثر نہیں ہو گا،پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کے دوران خبریں آئیں کہ بھارتی وزیر اعظم پاکستان سے تجارت روکنے کے حوالے سے کوئی اجلاس کر رہے ہی، تاہم یہ اجلاس نہیں ہوا،اگر ضرورت پڑی تو ہم پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت restrict کرنے کو تیار ہیں،لیکن پاکستان بھارت تجارت کو روکنا پاکستان کے مفاد میں نہیں۔