بریکنگ نیوز
Home / کالم / کیا ہی اچھا ہو

کیا ہی اچھا ہو

سپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس اپوزیشن کی تین چار دن کی ہنگامہ آرائی کے بعد غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا جو دو چار دن یہ اجلاس جاری رہا اس میں کیا کیا دیکھنے کو ملااگر یہی کچھ اسمبلیوں میں ہونا ہے تو ہمارے خیال میں اسمبلیوں کے اجلاس بلانا ہی فضول ہے اسمبلی میں ہمارے خیال کے مطابق بہت ہی پڑھے لکھے لوگ اور سینئر پارلیمنٹیرین بیٹھے ہیں جن کو اسمبلی کے تقدس کا خیال بھی ہونا چاہئے اور اس میں کوئی کام کی بات بھی ہونی چاہئے پانامہ لیکس کواگر پارلیمنٹ میں ہی زیر بحث لانا تھا تو اس کو سپریم کو رٹ میں کیوں لے جایا گیا اور اگر اب یہ مقدمہ عدالت عظمیٰ میں ہے تو اس پر اسمبلی میں ہنگامہ کرنیکی کیوں ضرورت پیش آئی دوسری طرف ہمارا دشمن ہمیں ہر محاذ پر شکست دینے کی پلاننگ کر رہا ہے وہ ہمیں دنیا میں تنہا کرنیکی سازش میں لگا ہے اور ہم اپنے رویے سے یہ ثابت کرنے میں لگے ہیں کہ ہم کوئی قوم ہے ہی نہیں ۔

ادھر وہ ہمارے کھیتوں کو بنجر کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے بلکہ اس پر باقاعدگی سے عمل بھی کر رہا ہے اِدھر ہم پانامہ لیکس کو کاندھوں پر اٹھائے دنیا کو تماشا دکھا رہے ہیں جہاں ہمیں ایک ہونے کی ضرورت ہے وہاں ہم اپنے وزیر اعظم نہ بن سکنے کے ماتم میں لگے ہیں۔چاہئے تو یہ تھا کہ یہ سیشن جو بلایا گیا تھا اس میں ان امور پر غور ہوتا کہ کس طرح ہم نے ان سازشوں کو ناکام بنانا ہے کہ جو ہمارے ملک کو ریگستان بنانے کے لئے کی جا رہی ہیںیا جو ہمیں دنیا میں تنہا کرنے کے لئے کی جا رہی ہیں مگر ہم ہیں کہ اسمبلی میں جا کر نعرے لگا رہے ہیں اسمبلیوں میں ہنگامے بھی ہوتے ہیں مگر وہ ایشوز پر ہوتے ہیں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پانامہ کوئی ایشو ہے ہی نہیں جن ممالک کی مثالیں دی جاتی ہیں انکی اسمبلیوں کے کام پر بھی تو نظر رکھیں جو پارٹیاں ہنگامے کر رہی ہیں ان کو پوچھیں کہ انہوں نے اس اسمبلی میںآ کر کتنی قانون سازی کی ہے ہم دیکھ رہے ہیں کہ حکومت کی طرف سے جو بھی اقدام اٹھایا جاتا ہے اپوزیشن اس کے قانون پر اعتراض کرتی ہے کہ یہ تو اتنا پرانا ہے اس لئے اسکے تحت توکوئی فیصلہ کرنا ہی بے کار ہے اسمبلیوں میں یہ کچھ نہیں ہونا چاہئے۔

اسمبلی میں جو بھی کام ہو وہ ملک کی بہتری کا ہونا چاہئے جس اسمبلی میں شاہ محمود صاحب اور خورشید شاہ جیسے منجھے ہوئے پارلیمنٹیرین حزب اختلا ف کی کرسیوں پر بیٹھے ہوں اس اسمبلی میں ان کے پہلومیں معزز ممبران شورشرابا کر رہے ہوں تو دکھ ہوتا ہے۔کیا آپ لوگوں کا اپنے ممبران ، کہ جن کو آپ لیڈ کر رہے ہیں، اتنا بھی زور نہیں چلتا کہ ان کو اسمبلی کے آداب سکھائیں۔ ایک معز رکن اسمبلی اگر بات کر رہا ہو تو اس کی بات کو غور سے سنا جاتا ہے اور پھر اپنی باری پر اس پر تنقید یا تعریف کی جاتی ہے مگر یہاں کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے کوئی سننے کو تیار ہی نہیں ہے کہ ایک رکن اسمبلی کیا کہہ رہا ہے اور اس کو کس طرح سے کاؤنٹر کرنا ہے یا اگر وہ کام کی بات کر رہا ہے تو اس کو کس طرح سپورٹ کرنا ہے یہاں اختلاف اس بات پر ہے کہ دوسری طرف کارکن بات ہی نہ کرے اور اگر کر رہا ہے تو اسکو سنا ہی نہ جائے ۔ جبکہ ہماری کارگزاری پر دشمن کی نظر ہے اور اگر ہم اسمبلی میں دشمن کو جواب نہیں دے رہے تو کل کلاں کو آپ صحرا نشین ہوں گے اور آپ کے سونااگلنے والے کھیت پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہوں گے اور تب آپ پچھتائیں گے۔