بریکنگ نیوز
Home / کالم / وزیر داخلہ کادورہ لنڈیکوتل

وزیر داخلہ کادورہ لنڈیکوتل


وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے دورہ لنڈیکوتل ایسے وقت میں کیاہے جب ایک جانب فاٹا اصلاحات کے حوالے سے قبائلی عوام کوئی بڑی خوشخبری سننے کے منتظر ہیں اور دوسری جانب پاک افغان تعلقات سرد مہری بلکہ دشمنی کی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں ۔پچھلے دنوں پاکستان سٹڈی سنٹر جامعہ پشاور میں انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز اسلام آباد کے اشتراک سے قبائلی علاقوں کے بے گھر ہونے والے افراد کی واپسی اوراس ضمن میں ان کی مشکلات اور درپیش مسائل کے حوالے سے ایک گول میز کانفرنس منعقد ہوئی تھی جس میں اگر ایک طرف رستم شاہ مہمند جیسی شخصیات موجود تھیں تودوسری طرف پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز،پروفیسر ڈاکٹرسیدمنہاج الحسن،پروفیسر ڈاکٹر فخرالاسلام ، پروفیسر ڈاکٹر بابر شاہ ‘پروفیسرڈاکٹر غفران، بریگیڈئیر نذیر اورکرنل گل جیسے تجربہ کار ماہرین بھی موجودتھے۔ اسی طرح ا س مذاکرے میں مختلف قبائلی ایجنسیوں سے تعلق رکھنے والے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلباء وطالبات کی شرکت نے بھی اس مجلس کی اہمیت اور افادیت کو دوبالا کردیاتھا۔ متذکرہ نشست میں جب قبائلی علاقوں اور بالخصوص بے گھر ہونے والے خاندانوں کے بے پناہ مسائل پر بحث ہورہی تھی اور اس بحث کے دوران بعض شرکاء کی جانب سے سکیورٹی اداروں کے مجموعی کردار پر تقریباً تمام شرکاء بالخصوص طلباء وطالبات نے جن خیالات اور جذبات کااظہار کیا تھاراقم نے اس نکتے پر اس وقت بھی یہ موقف اختیار کیا تھا اور میری اب بھی یہ پختہ اور مدلل رائے ہے کہ سکیورٹی اداروں نے قیام امن کی خاطراور ریاست دشمن عناصر کے خلاف جوکاروائی کرنا تھی وہ یہ کاروائی کرچکے ہیں۔

اوراب عملاً تمام قبائلی علاقوں سے ان عناصر کامکمل خاتمہ ہو چکا ہے جو پورے ملک کے امن اورترقی کیلئے خطرہ بنے ہوئے تھے سکیورٹی اداروں نے اس ضمن میں اپنا فرض اداکرکے نہ صرف قبائل بلکہ پورے قوم پربہت بڑا احسان کیاہے البتہ اب یہ سول اداروں اور بالخصوص وفاقی وزراء اورخود وزیر اعظم کافرض ہے کہ وہ قبائلی علاقوں کے مخصوص حالات سے آگاہی کیلئے نہ صرف براہِ راست قبائلی علاقوں کے دورے کریں بلکہ فاٹا کے مستقبل سے متعلق تمام ممکنہ فیصلوں میں قبائل کو اعتماد میں لینے کی ضرورت بھی شدت سے محسوس کی جارہی ہے۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ سکیورٹی ادارے کسی علاقے میں کسی مخصوص اورمعین وقت تک ہی رہ سکتے ہیں اس کے بعد حالات کوجنگی اور بے چینی کے حالات سے امن وسکون اورتعمیر وترقی کے عمل کی جانب موڑنے کیلئے سول اداروں کواپنا کردار اداکرنا ہوتاہے۔

سکیورٹی اداروں نے بے پناہ قربانیوں اورمشکلات کے بعد قبائلی علاقوں میں امن قائم کرکے جوگراں قدر کارنامہ انجام دیاہے اب ا س کاتقاضا ہے کہ حکومتی اعلان کے مطابق بارڈر مینجمنٹ پر توجہ دی جائے اور ناپسندیدہ عناصر کی سرحد کے آر پار آزادانہ نقل وحرکت کو چیک کیاجائے یہ کام تب ہی احسن اورمنظم اندا زمیں ہوسکے گا جب سکیورٹی ادارے امن کی بحالی اوربے گھر افراد کی اپنے گھروں کو واپسی کے بعد اپنی توجہ بارڈر مینجمنٹ اوردیکھ بھال پرمرکوز کریں گے جبکہ قبائلی علاقوں کی اندرونی سکیورٹی نیز امن و امان اور تعمیر وترقی کاعمل متعلقہ سول اداروں اور منتخب نمائندوں کے حوالے کیاجائے گااگروفاقی حکومت قبائلی علاقوں کو پاکستان کاحصہ اورقبائل کو پاکستان کا محب وطن اورمعز زشہری سمجھتی ہے تونہ صرف متعلقہ وفاقی وزراء کو بلکہ خود وزیر اعظم کو بھی قبائلی علاقوں کے حالات کا ازخود مشاہدہ کرنے کیلئے ان علاقوں کے دورے کرنے چاہئیں جس سے اگر ایک طرف سکیورٹی اداروں پرپڑنے والے دباؤ میں کمی آئیگی تو دوسری جانب اس سے قبائل کی داد رسی کیساتھ ساتھ انکاحکومت اورسول اداروں پراعتماد بھی بڑھے گا۔