بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ

سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ

سابق صدر آصف علی زرداری کی وطن واپسی کیساتھ سیاسی گرماگرمی میں مزید اضافہ محسوس کیاجانے لگا ہے، خبر رساں ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ گرینڈ اپوزیشن کیلئے تیاریاں بھی ہو رہی ہیں اور آصف زرداری جلد اہم سیاسی رہنماؤں سے مشاورت شروع کریں گے، سابق صدر مملکت کا کہنا ہے کہ اس بات سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ کرسی پر کون بیٹھا ہے، اصل بات یہ ہے کہ ملک میں جمہوریت چلتی رہنی چاہئے، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جمہوریت کا متبادل بہت خطرناک ہے، اس لئے ڈیمو کریسی کوڈی ریل نہیں ہونے دیاجائیگا، وطن واپسی پر کراچی میں خصوصی بم پروف ٹرک پر کھڑے ہو کر خطاب کرتے ہوئے انکا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کو شام کی طرح ناکام ریاست نہیں بننے دیاجائیگا، پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین نے 27دسمبر کو خوشخبریاں سنانے کا عندیہ بھی دیا ہے، اس کیساتھ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر حزب اقتدار اوراپوزیشن جماعتوں کے درمیان گرما گرم بیانات کا سلسلہ جاری ہے، پارلیمانی جمہوریت میں اختلافات کا ہونا کوئی نئی بات نہیں، ہر ایک کو اپنا موقف پیش کرنے کاپورا حق حاصل ہوتا ہے اور یہی جمہوریت کا حسن ہے، تاہم اس سب کیساتھ ضرورت اس بات کی ہے کہ معاملات کو پوائنٹ آف نو ریٹرن تک نہ پہنچنے دیاجائے، سیاسی قیادت مختلف ایشوز پر مل بیٹھ کر بات بھی کرسکتی ہے، اس وقت وطن عزیز کو مختلف چیلنجوں کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کیساتھ عام شہری کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے اقدامات ضروری ہیں۔

حکومت مرکز میں ہویا پھر کسی بھی صوبے میں، سیاسی قیادت کو اپنے اپنے لیول پر قومی امور نمٹانے اور عوام کی فلاح وبہبود کیلئے اقدامات کے سوال پر مشترکہ حکمت عملی پر توجہ ضرورمرکوز کرنی چاہئے، ہمارے ہاں بہت سارے اہم سیاسی امور بات چیت کے ذریعے نمٹانے کی روایت رہی ہے جس میں اکثر سینئر قیادت کا کردار فعال رہا، اب بھی اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے عوامی ریلیف کیلئے مشترکہ اقدامات یقینی بنانا ہوں گے، تاکہ لوگوں کا اپنی سیاسی قیادت اور مجموعی طورپر سسٹم سے متعلق اعتماد مزید بڑھے، اسی سے جمہوریت مزید پھل پھول سکتی ہے ۔

توانائی بحران اور بھاری بل

پشاور ہائی کورٹ نے وفاق کی جانب سے ملک بھر کی صنعتوں کیلئے قدرتی گیس کی قیمتوں میں 69فیصد مجوزہ اضافے کے احکامات معطل کرتے ہوئے اوگرا سمیت دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا ہے،اس برسرزمین حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ وطن عزیز اور خصوصاًخیبرپختونخوا میں صنعتیں پہلے ہی بحران کا شکار ہیں، یہ بات بھی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ خود گیس کی تقسیم کار سوئی ناردرن گیس کمپنی کمرشل سیکٹر میں گیس کے نرخوں میں 22فیصد کمی کی سفارش کرچکی ہے۔

دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق اوگرا کی طرف سے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافے کا عندیہ دیاجارہا ہے، بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اثر اصل اضافے سے کئی گنا زیادہ ہوکر صارفین پر پڑتاہے، اس وقت ضرورت ایک جانب توانائی کے منصوبے مکمل کرنے کی ہے تو دوسری طرف اس سیکٹر میں مینجمنٹ بہتر بنانے کی ہے تاکہ مہیا وسائل کے اندر عوام کو خدمات کی فراہمی یقینی ہوسکے، جہاں تک ان اداروں کی مالی مشکلات کا تعلق ہے تو لائن لاسز اور ترسیل کے نظام کو بہتر بناکر ان پر قابو پایاجاسکتا ہے۔