بریکنگ نیوز
Home / کالم / بدعنوانی کے کرشمے

بدعنوانی کے کرشمے

حکومت پاکستان ہر سال 55 ارب (امریکی) ڈالر بیرون ملک سے اشیاء کی خریداری (درآمدات) یا پھر بڑے ترقیاتی منصوبوں (میگا پراجیکٹس) کی تعمیر کے لئے حاصل کردہ قرضوں کے سود اور اصل رقم کی واپسی پر خرچ کرتی ہے۔ پاکستان میں قرض حاصل کرکے بجلی کے پیداواری منصوبے قائم کئے گئے۔ سڑکیں‘ پل‘ پائپ لائن اور ڈیم تعمیر ہوئے۔ سال 2011ء میں مسابقتی کمیشن نے تخمینہ لگایا کہ ’’پاکستان اپنی کل آمدنی کا 25فیصد (آٹھ ارب ڈالر کے مساوی رقم) اشیاء کی خریداری پر خرچ کرتا ہے لیکن زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ 8 ارب ڈالر کا صحیح مصرف نہیں ہوتا۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ ہرسال کھربوں ڈالر اشیاء کی خریداری یا پھر ترقیاتی منصوبوں کی نذر ہو جاتے ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں کے تعمیراتی ٹھیکے ایسے افراد کو دینے میں شفافیت کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ اِس صورتحال سے نجی ادارے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ملک کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ترقی کا عمل غیرضروری طورپر مہنگا ہو جاتا ہے اور اس کا معیار بھی قابل ذکر نہیں ہوتا۔ پانامہ سٹی میں انسداد بدعنوانی کے عنوان سے ساتویں عالمی کانفرنس کا انعقاد ہوا‘ جس میں 135 ممالک سے تعلق رکھنے والے 1300 ماہرین شریک ہوئے۔ اس کانفرنس میں ایک مرحلے پر دلچسپ سوال اٹھایا گیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ لوگ سفاک یا غیرحقیقی نظریات کی طرف راغب ہوتے ہیں؟ بحث کے بعد اِس جواب سے اتفاق کیا گیا کہ جب حکومتیں بدعنوانی میں ملوث ہوتی ہیں۔ جب ناانصافی عام ہوتی ہے تو پھر مذہب سے زیادہ دیگر نظریات ترجیح بن جاتے ہیں۔

ہمیں سمجھنا چاہئے کہ نوجوان اِنتہاء پسندی کی طرف دو وجوہات کی بناء پر مائل ہوتے ہیں۔ ایک تو ان کا انصاف ملنے کے حوالے سے ذاتی تجربہ ہوتا ہے اور دوسرا حکومت کی بدعنوانی کے بارے میں ان کی معلومات یا تصورات ہوتے ہیں۔ اگر ہم عالمی یا مقامی سطح پر دہشت گرد تنظیموں کا لائحہ عمل دیکھیں تو افرادی قوت بھرتی کرنے کے لئے وہ سیاستدانوں اور حکومتوں کی خرابیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں انتہاء پسندی اور دہشت گردی پھیلانے والوں کے لئے افرادی قوت کا حصول مشکل نہیں ہوتا۔ پاکستان میں انسداد بدعنوانی کے لئے ایک سے زیادہ ادارے اور باقاعدہ نظام موجود ہے۔ وفاقی سطح پر فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اور نیشنل اکاونٹیبلٹی بیورو (نیب) قائم ہیں۔ صوبائی سطح پر انسداد دہشت گردی اسٹیبلشمنٹ موجود ہیں پھر وفاقی محتسب کے دفاتر اسلام آباد میں قائم ہیں۔ محتسب اعلیٰ کے دفاتر پنجاب‘ بلوچستان اور سندھ میں قائم ہیں۔ بینکنگ محتسب‘ وفاقی انشورنس محتسب‘ وفاقی ٹیکس محتسب فعال ہیں۔

پاکستان کا پینل کوڈ ہے۔ انسداد کرپشن ایکٹ 1947ء ہے اور نیب آرڈیننس کے ساتھ احتساب عدالتیں وفاقی وصوبائی سطح پر قائم ہیں۔ اگر انسداد بدعنوانی کی راہ میں کوئی ایک رکاوٹ حائل ہے تو وہ سیاسی فیصلہ سازوں کی یک سوئی کا فقدان ہے۔ اگر عالمی سطح پر دہشت گرد ممالک کی فہرست پر نگاہ ڈالیں تو اس میں عراق‘ افغانستان اور نائجیریاکے بعد پاکستان کا نام ملتاہے اور انہی چار ممالک میں انتہاء کی بدعنوانی بھی ایک قدر مشترک ہے۔ معلوم ہوا کہ دہشت گردی اور بدعنوانی کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔پاکستان کہ جہاں سالانہ آٹھ ارب ڈالر کی مساوی رقم خوردبرد کی نذر ہو جاتی ہے تو یہی رقم ملک کے دفاع پر خرچ ہونے والی رقم کے مساوی ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)