بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی منسوخی پر غور شروع کر دیا

بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی منسوخی پر غور شروع کر دیا

سرینگر۔ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی منسوخی پر غور شروع کر دیا ہے ۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے معاہدے کا جائزہ لینے کیلئے وزیر خزانہ ارون جیٹلی کی سربراہی میں بین وزارتی ٹاسک فورس تشکیل دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔مجوزہ بین وزارتی ٹاسک فورس میں کئی سینئر وزراء کے علاوہ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوؤل بھی شامل ہونگے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی مرکزی حکومت نے جموں وکشمیرمیں دریائے سندھ ،جہلم اورچناب پرہزاروں میگاواٹ صلاحیت والے مزید پن بجلی پروجیکٹوں کاجال پھیلانے کاایک جامع منصوبہ بھی مرتب کرلیاہے ،جس پربہت جلدعمل درآمدشروع ہوگا۔ بہت جلد مجوزہ ٹاسک فورس کو تشکیل دیا جارہا ہے۔

وزیر اعظم کی زیر صدارت انڈس واٹر ٹریٹی سے متعلق ایک اہم میٹنگ گزشتہ روز نئی دہلی میں منعقد ہوئی ، جس میں پاکستان کو مختلف دریاؤں سے فراہم کئے جانے والے پانی کی مقدار میں کمی اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں دریائے سندھ ، جہلم اور دریائے چناب پر کئی بڑے پاؤر پروجیکٹ تعمیر کئے جانے کا منصوبہ بھی زیر غور لایا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ پہلی بین وزارتی ٹاسک فورس کی میٹنگ کی صدارت وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری نرپندرا مشرا نے کی۔ اس میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوؤل ، آبی وسائل کے سیکریٹری ششی شیکھر ، فائنانس سیکریٹری اشوک لاواس اور پنجاب و جموں وکشمیر کے چیف سیکریٹری بھی موجود تھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 18 ہزار میگاواٹ صلاحیت والے پن بجلی پاؤر پروجیکٹ تعمیر کئے جارہے ہیں ، جن میں سے 3 ہزار میگاواٹ صلاحیت والے پروجیکٹوں کی نشاندہی کا کام مکمل کیا جاچکا ہے۔میٹنگ میں جموں وکشمیر میں دریائے سندھ ، دریائے چناب اور دریائے جہلم پر زیر تعمیر پن بجلی پروجیکٹوں بشمول کشن گنگا پروجیکٹ پر جاری کام کی رفتار کو بھی زیر غور لایا گیا۔

بتایا جاتا ہے کہ دوسرے مرحلے میں بھارت سرکار کی طرف سے بیاس ، راوی اور دریائے ستلج کے پانی کا رخ موڑنے کیلئے نہروؤں کی تعمیر کو حتمی شکل دی جائیگی اور اس کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر کے تینوں دریاؤں پر آئیندہ برسوں میں بڑے پاؤر پروجیکٹ تعمیر کئے جانے کے حوالے سے بھی ایک جامع منصوبہ مرتب کیا جارہا ہے۔1960 میں طے پانے والے معاہدے کے تحت بھارت کو مشرقی دریاؤں یعنی ستلج، راوی اور بیاس جبکہ پاکستان کو مغربی دریاؤں جہلم، چناب اور سندھ کو استعمال کرنے کے حقوق دئیے گئے تھے۔انڈیا دریائے نیلم کے پانی پر330 میگاواٹ کشن گنگا اور دریائے چناب کے پانی پر 850 میگا واٹ پن بجلی منصوبہ تعمیر کر رہا ہے۔