بریکنگ نیوز
Home / کالم / اہل ہنرکاپاس خاطرضروری ہے

اہل ہنرکاپاس خاطرضروری ہے

آج 27 دسمبر ہے آج ہی کے دن 2007ء میں پی پی پی کی قائد بینظیر بھٹو دہشت گردی کا شکار ہو کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملی تھیں آج حکومت سندھ نے صوبے بھر میں سرکاری چھٹی کا اعلان کیا ہے کیا آپ کو علم ہے کہ جب کسی دن چھٹی ہوتی ہے تو ملک کی معیشت کا پہیہ جام ہو جاتا ہے اور بلا مبالغہ ملک کو اربوں روپے کا چونا مفت میں لگ جاتا ہے بلا شبہ بے نظیر بھٹو کی اس ملک کیلئے لا تعداد خدمات ہیں پر ان کا صلہ ہم ان کو اس طرح بھی تو دے سکتے تھے کہ اگر سندھ کی حکومت یہ اعلان کر دیتی کہ آج صوبہ بھر میں سرکاری لوگ بشمول نیم سرکاری اداروں سے تعلق رکھنے والے تمام محنت کش روزانہ کے معمول سے دو گھنٹے زیادہ اپنے دفاتر‘اپنے اداروں اور اپنی فیکٹریوں میں کام کرینگے اس اعلان سے بینظیر کی روح کو شاید زیادہ سکون ملتا اس جملہ معترضہ کے بعد اب آتے ہیں رواں سال کے اختتامی ایام کی جانب ۔ یہ سال جاتے جاتے ہمیں کتنے دکھ دے رہا ہے ہم سے کتنی خوشیاں چھین رہا ہے ہمیں کتنا زیادہ اداس کر رہا ہے ابھی عمر دراز خلیل کی موت کی خبر کی سیاہی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ خبر آئی کہ معشوق سلطان بھی اللہ کو پیاری ہوگئیں عمر دراز خلیل کو فن اداکاری ورثے میں ملا تھا صدا کاری اس کی گھٹی میں اسے پلائی گئی تھی اس کا والد خلیل خان اس وقت تھیٹر اورسٹیج کا اداکار تھا کہ جب غیر منقسم ہندوستان میں پرتھوی راج کپور ‘ سہراب مودی اور آغا حشر کاشمیری تھیٹر اور سٹیج پر ڈرامے کیا کرتے تھے خدا نے خلیل خان کو ایسی آواز سے نوازا تھا کہ جو مائیکروفون کو پسند تھی خلیل خان قیام پاکستان کے بعد ایک لمبے عرصے تک ریڈیو پاکستان پشاور کے ریگولر آرٹسٹ تھے۔

ان کا ہندکو پروگرام قہوہ خانہ صوبہ بھر میں مقبول تھا جو خدا بخشے احسان طالب صاحب ‘ مسعود انور شقی صاحب اور سید مظہر گیلانی صاحب لکھا کرتے افسوس کہ آج ان میں سے کوئی بھی بقید حیات نہیں ۔ عمر دراز خلیل نے پشتو فلموں میں بطور ولن اپنے لئے ایک منفرد مقام حاصل کر لیا تھا اگر وہ بالی وڈ میں ہوتا تو یقیناًانکا اورہی مقام ہوتا۔ معشوق سلطان بھی اب داعی اجل کو لبیک کہہ گئی ہیں کیا دور تھا ریڈیوپاکستان پشاور کی پشتو موسیقی کے پروگراموں کا کہ جب معشوق سلطان ‘ کشور سلطان ‘ گلنار بیگم ‘ احمد خان ‘ عبداللہ جان ‘ ہدایت اللہ ‘ خیال محمد اور انہی کے پائے کے کئی اور گائیکی کی دنیا سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی مدھر آوازوں سے سامعین کے کانوں میں رس گھولتے تھے آج ان میں اکثر مٹی کی چادر اوڑھ کر لمبی نیند سو گئے ہیں جو بقید حیات ہیں وہ بھی پیرانہ سالی یا بیماریوں میں مبتلا ہیں اور جہاں تک ہماری معلومات کا تعلق ہے ان کا مناسب طبی علاج نہیں ہو رہا کہ ان کو مالی مسائل کا سامنا ہے ۔

فنون لطیفہ سے متعلق تمام لوگوں کی مالی حالت اچھی نہیں ہوتی اس لئے نہایت ضروری ہے کہ ایک ایسا فنڈقائم کیا جائے کہ جس سے ان فنکاروں کی طبی ضروریات کو بروقت پورا کیا جائے کہ جو پیرانہ سالی کی وجہ سے یا کسی ناگہانی آفت کا شکار ہو کر چارپائی پر مستقل لیٹ جاتے ہیں معاشرے کے تمام مخیر افراد کا بھی فرض ہے کہ وہ اس فنڈ کو تواتر سے روپے فراہم کرتے رہیں۔ تہذیب یافتہ معاشرے فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے تمام احباب کے بڑھاپے کا خاطر خواہ خیال رکھتے ہیں تاکہ وہ تنگدستی کا شکار نہ ہوں اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان فنکاروں نے اپنے فن کے ذریعے ان کی زندگیوں میں خوشیاں بکھیری ہوتی ہیں اپنے ہاں تو ابھی تک ہم اپنے فنکاروں کو ان کے شاہکاروں کے کاپی رائٹس بھی صحیح معنوں میں نہیں دلواسکے بدقسمتی سے ہم اور ہمارا معاشرہ فنکار دشمن ہے ہم نے اب تک کسی بھی فنکار کو اس کا حق نہیں دیا۔