بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / سی پیک پربیانات کا سلسلہ

سی پیک پربیانات کا سلسلہ

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان چین پاکستان اقتصادی راہداری پراجیکٹ پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ایک ایسا منصوبہ ہے کہ جو ملک کا مستقبل روشن کر دے گا ان کا کہنا ہے کہ سی پیک پر چین سے کوئی مسئلہ نہیں بلکہ اصل مسئلہ وفاقی حکومت سے ہے ‘ ان کا کہنا ہے کہ سی پیک میں خیبر پختونخوا سمیت تمام صوبوں کو ان کا حق ملنا چاہئے ‘ عمران خان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے خود پہلے مغربی روٹ بنانے کا وعدہ کیا تھا جبکہ اَب کہا جا رہا ہے کہ اس میں خیبر پختونخوا کا حصہ ہی نہیں ‘وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا صوابی میں جلسہ عام سے اپنے خطاب میں کہتے ہیں کہ ہم سی پیک کے مشرقی روٹ کے مخالف ہیں نہ ہی چین کی حکومت کیساتھ ہمارا کوئی جھگڑا ہے ہمارا مطالبہ صرف یہ ہے کہ وزیراعظم سی پیک کے مغربی روٹ سے متعلق آل پارٹیز کانفرنس میں کئے گئے وعدوں کو پورا کریں ‘ وزیراعلیٰ کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیراعظم نے اِس ضمن میں اجلاس نہ بلایا تو ہم خود چھوٹے صوبوں کی سیاسی جماعتوں کی میٹنگ بلائیں گے دوسری جانب منصوبہ بندی اور ترقی کے وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا ہے کہ سی پیک ایک قومی منصوبہ ہے جس پر سیاست نہیں کرنی چاہئے ‘ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس منصوبے میں سارے صوبے برابر کے شریک ہیں‘ وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ تمام صوبوں میں صنعتی زونز صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے قائم کئے جا رہے ہیں ‘ سی پیک کی اہمیت سے انکار کسی کو نہیں اس منصوبے کی اہمیت اور صوبوں کی جانب سے تحفظات اور خدشات کا ادراک کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے اس پر سیاسی قیادت کو اکٹھا کیا اور سارے فیصلے اتفاق رائے سے ہوئے ‘ اس میں روٹس کا تعین بھی ہوا اور ترجیحات کا بھی اس سب کے بعد خیبر پختونخوا کے تحفظات اور خدشات سامنے آتے ہیں اور صوبائی حکومت وزیراعظم سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتی ہے۔

‘ اس صورتحال میں بہتر تو یہ ہے کہ متعلقہ ادارے صوبے کے تحفظات اور خدشات دور کریں اس مقصد کیلئے مل بیٹھنا اور ڈائیلاگ ہی بہتر سیاسی طریقہ ہے اس کے ساتھ یہ دیکھنے کی ضرورت بھی ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے تمام معاملات اے پی سی میں طے ہونے کے بعد متعلقہ ادارے سپورٹنگ دستاویزات کیساتھ صوبے کو کیوں مطمئن نہیں کر پا رہے اور وزیراعظم کی بات چیت کے ذریعے معاملات نمٹانے کی کوشش کیوں ثمر آور ثابت نہیں ہو پا رہی وطن عزیز کو اس وقت معاشی استحکام کی ضرورت ہے ‘ خبر رساں ایجنسی کے مطابق حکومت نے گزشتہ 3 سال کے دوران ملکی و غیر ملکی قرضوں پر 35 کھرب اور 52 ارب روپے کا سود ادا کیا ہمیں ایک قرضے کی قسط ادا کرنے کیلئے دوسرا قرضہ لینا پڑتا ہے توانائی کا بحران عذاب بنا ہوا ہے گرانی نے غریب اور متوسط شہریوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے لوگ بنیادی شہری سہولیات کیلئے ترس رہے ہیں۔

آبادی کے بڑے حصے کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں علاج اور تعلیم کیلئے نجی شعبے کے اداروں میں جانا پڑتاہے ‘ خیبر پختونخوا میں تو امن وامان کی صورتحال نے نوبت انڈسٹری کی بندش اور سرمایہ دوسرے صوبوں کو منتقل کرنے تک پہنچا دی ہے ایسے میں ضرورت سی پیک جیسے منصوبے کے مثبت اثرات سمیٹنے اور انہیں عوام تک منتقل کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کی ہے اس وقت صوبوں کی توجہ اقتصادی زونز اور ان تک رسائی کیلئے انتظامات پر مرکوز ہونی چاہئے‘ ماہرین پر مشتمل گروپس بنائے جانے چاہئیں جو اس پراجیکٹس کے فوائد بڑھانے کیلئے تجاویز دیں اس سب میں صوبوں کے خدشات اور تحفظات کو دور کرنے کیلئے اقدامات وزیراعظم کے سب کو ساتھ لیکر چلنے کے وژن کی روشنی میں دور کرنا ضروری ہیں۔