بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی رپورٹ

خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی رپورٹ


خیبرپختونخوا حکومت کی ایک سالہ کارکردگی رپورٹ کے ساتھ مستقبل کے بعض اہداف کی نشاندہی بھی کی گئی ہے ۔ اطلاعات کیلئے وزیر اعلیٰ کے مشیر اور صوبائی حکومت کے ترجمان مشتاق غنی نے پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں مجموعی طور پر 135 قوانین کی منظوری ایک ریکارڈ ہے صوبے میں ترقیاتی کاموں کیلئے 61 فیصد فنڈز جاری ہو چکے ہیں ضلعی حکومتوں کیلئے 33 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں 2011-12ء میں ہیلتھ کا بجٹ 8 ارب روپے تھا جس کا حجم 2016-17ء کیلئے 25 ارب روپے تک پہنچ گیا ۔ اسی طرح ترقیاتی بجٹ میں بھی اضافہ ہوا ہے ہیلتھ سیکٹر کے ملازمین کی تنخواہوں میں صوبائی حکومت 5.46 ارب روپے اضافی ادا کر رہی ہے ایجوکیشن کو بھی حکومتی ترجیحات میں نمایاں حیثیت حاصل ہے اور اس شعبے میں بھی بہت سارے منصوبے مکمل جبکہ متعدد پائپ لائن میں ہیں صوبے میں سرمایہ کاری کیلئے فضاء سازگار ہونے پر نئے معاہدوں کا عندیہ قابل اطمینان ہے صوبائی حکومت پشاور کی تعمیر و ترقی کیلئے دیگر منصوبوں کے ساتھ 20 ارب روپے کی لاگت سے 23 کلو میٹر طویل تیز ترین بس منصوبے کو 2017ء میں مکمل کرنے کا عزم بھی ظاہر کر رہی ہے ۔

پینے کے صاف پانی کیلئے جبہ ڈیم کی تعمیر بھی حکومتی احساس و ادراک کی عکاس ہے ۔ صوبے کی تعمیر و ترقی اور خصوصاً شہری سہولیات کی فراہمی اور ہیلتھ و ایجوکیشن سیکٹرز میں اصلاحات اور فراخدلانہ فنڈز مثبت اقدامات ضرور ہیں تاہم اس کے ساتھ ضروری یہ بھی ہے کہ حکومت اپنے اقدامات پر عمل درآمد اور عوام کو ان کے فوائد و ثمرات کا براہ راست پہنچنا بھی یقینی بنائے۔ یہ اس صورت ہو سکتا ہے جب منصوبہ سازی میں زمینی حقائق کا ادراک شامل ہو پراجیکٹ کی بروقت تکمیل ممکن بنائی جائے اور منصوبے کے اغراض و مقاصد کو پانے کیلئے نگرانی کا کڑا نظام وضع کیا جائے اس وقت تمام تر حکومتی اقدامات کے باوجود لوگ ہسپتالوں میں سروسز کے معیار سے مطمئن نہیں معمولی استطاعت رکھنے والے والدین اپنے بچوں کو سرکاری سکول بھجوانے سے گریز کرتے ہیں شہری سہولیات کے فقدان کا گلہ موجود ہے اس کیساتھ حکومتی منصوبوں کے اعلانات اور ان کے فنکشنل ہونے میں گیپ جتنا کم ہو اتنا ہی اخراجات کے حوالے سے سودمند اور عوامی ریلیف کے لئے ضروری ہے اس مقصد کیلئے حکومت کو مانیٹرنگ کا جامع نظام وضع کرنا ہوگا۔
سپریم کورٹ کے ریمارکس
سپریم کورٹ کے جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ زہریلا دودھ پلا کر شہریوں کو مارنے کی کوشش نہ کی جائے ۔ عدالت عظمیٰ نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کو دودھ میں مضر صحت اشیاء کی ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کا اختیار بھی دیا ہے اس کیس کی سماعت میں عدالت کو بتایا گیا کہ دودھ میں زہریلے کیمیکل اور یوریا ملا ہوتا ہے جسے لیبارٹری ٹیسٹ مضر صحت ثابت کرتے ہیں عدالت کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایک معروف کمپنی کے دودھ میں فارمیلین بھی ہے یہ مسئلہ صرف پنجاب کا نہیں پورے ملک میں صوبائی حکومتوں اور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کو اپنے طور پر فی الفور اقدامات اٹھانے ہونگے اس مقصد کیلئے پشاور سمیت کسی بھی شہر میں دو چار دن کے چھاپے قطعاً ناکافی ہیں چیک اینڈ بیلنس ایک مکمل سیٹ اپ اور انتھک اقدامات کا متقاضی کام ہے جس میں کمیونٹی کو بھی شریک کیا جانا چاہئے کیونکہ سرکاری اداروں کے وسائل اور افرادی قوت کیلئے اکیلے اتنا بڑا کام ممکن نہیں جس میں گلی محلے تک جا کر جانچ پڑتال کرنا ہو۔