بریکنگ نیوز
Home / کالم / زرداری کی نئی چال!

زرداری کی نئی چال!


پاکستان کی سیاست ہلچل سے تعبیر ہے۔ ماضی میں مفاہمتی سیاست کے جادوگر رہنے والے آصف علی زرداری اپنی خود ساختہ جلا وطنی ترک کر کے سیاست میں پانسہ پلٹنے کی اُمید لئے پاکستان واپس لوٹ آئے ہیں۔ اپنے بیٹے بلاول کے ساتھ قومی اسمبلی میں آنے کے فیصلے نے انکے حامیوں کو بھی حیران کر دیا ہے۔ پارلیمنٹ میں ان کی موجودگی سے غیر معمولی اثرات مرتب ہونگے مگر اس سے ملکی سیاست کے طول و عرض میں زیادہ تبدیلی رونما نہیں ہوگی۔ کئی لوگوں کے نزدیک یہ اقدام پارٹی کے کم ہوتے مورال کو سہارا دینے کے لئے ایک شاندار حکمت عملی ہے مگر ابھی کچھ کہا نہیں جاسکتا کہ آیا مرکزی منظرنامے میں ان کی واپسی اگلے انتخابات میں پیپلزپارٹی اپنی کھوئی ہوئی سیاسی حیثیت دوبارہ حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوگی بھی یا نہیں۔ پارلیمانی سیاست میں ان کی واپسی سے ان کا سامانِ ماضی پس منظر میں گم ہوتا دکھائی نہیں پڑتا اب جبکہ بلاول کیلئے یہ پارلیمنٹ میں پہلا تجربہ ہوگا اس لئے وہ ایک بار پھر اپنے والد کے پیچھے ایک چھوٹا کردار ادا کرنے پر مجبور ہوں گے مگر یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ ایسے وقت میں جب زرداری کے قریبی ساتھیوں کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے‘ ان کی پارلیمنٹ میں آمد کس طرح ان کو مشکل صورتحال سے نکالنے میں مددگار ثابت ہوگی۔قریب اٹھارہ ماہ قبل جب زرداری ملک بدر ہو رہے تھے وہ وقت ان کیلئے کچھ خوشگوار نہیں تھا قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو اپنے چند قریبی ساتھیوں کا تعاقب کرتا دیکھ کر شاید انہیں اپنے لئے بھی خطرہ محسوس ہو رہا تھا گزشتہ ہفتے ان کی پارٹی اور حکومت سندھ نے انکا کسی ’ہیرو‘ جیسا استقبال کرنیکا منصوبہ بنایا تھا مگر اس بات میں حیرانی نہیں کہ ائرپورٹ پر بسیں بھر کر لائے گئے۔

حامیوں میں بے ساختہ خوشی نظر نہیں آئی شاید زرداری نے سوچا تھا کہ وطن واپسی کے اعلان سے ان پر سے دباؤ ہٹ جائے گا مگر ان کی آمد سے چند گھنٹے قبل ان کے چند قریبی ساتھیوں میں سے ایک کے دفتر پر چھاپہ لگنے سے یوں لگتا ہے کہ ان کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہو۔ کیا یہ محض ایک اتفاق تھا یا سابق صدر کو ایک پیغام؟ یہ کافی حد تک واضح ہے کہ زرداری اب بھی پوری طرح سے مشکل وقت سے آزاد نہیں ہوئے ہیں اور گزشتہ ہفتے کا چھاپہ ان کے قریبی ساتھیوں پر ہونے والے کریک ڈاؤن سے کہیں زیادہ سنگین نوعیت کا تھا۔ اس بار ہدف انور مجید تھے جو زرداری کے کاروباری معاملات سنبھالتے ہیں۔انور مجید گزشتہ سال زرداری کی بیرون ملک روانگی سے بھی پہلے ملک سے روانہ ہو چکے تھے۔ رینجرز نے انکے دفاتر سے بڑی تعداد میں چھپایا گیا اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا اور سننے میں آیا کہ اس چھاپے کے دوران گرفتار ہونیوالے افراد کے خلاف انسداددہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پیغام کافی صاف اور واضح تھا مگر پیپلزپارٹی کے محتاط رہنما صبرو تحمل کا دامن تھامے رہے اور اس اقدام پر کسی قسم کا کوئی شدید رد عمل نہیں دیازرداری نے اگرچہ وزیر داخلہ پر انگلی اٹھائی‘ مگر وہ یہ ضرور جانتے ہوں گے کہ احکامات درحقیقت آئے کہاں سے۔

دیگر وجوہات کے علاوہ آئی جی سندھ کو جبری چھٹی پر بھیجنے کے حکومت سندھ کے فیصلے سے رینجرز کے ساتھ ٹکراؤ میں شدت آئی۔ یہ تو صاف ہے کہ زرداری نے اپنے قریبی دوست ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری پر جو رد عمل دیا تھا‘ اس بار وہ ایسا نہیں کریں گے۔ واپس آنے پر فوجی قیادت کی تعریفوں کے پل باندھنے سے یہ صاف ظاہر ہے کہ زرداری نے کسی قسم کے تنازع کی راہ اختیار کرنے کے بجائے محتاط راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حسب توقع‘ اس واقعے کے بعد پی پی پی اور وفاقی حکومت کے درمیان لفظوں کی شدید جنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔ چند ایسے بھی اشارے ملے ہیں جن کے مطابق پی پی پی حکومت مخالف حزبِ اختلاف اتحاد تشکیل دے رہی ہے اس مقصد کیلئے زرداری کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیار ہیں پھر چاہے مذہبی جماعتوں کی منت سماجت ہی کیوں نہ کرنی پڑے مگر یہ سوال اب بھی موجود ہے کہ کیا پارٹی حکومت مخالف محاذ میں خود کو ’پی ٹی آئی‘ کے ساتھ صفوں میں کھڑا کرے گی؟ اب جبکہ بلاول کی جانب سے چار نکاتی مطالبے کیلئے دی جانے والی ڈیڈ لائن بھی گزر چکی ہے مگر پی پی پی سڑکوں پر نکلتے ہوئے نظر نہیں آ رہی۔ پارٹی کے پاس پنجاب اور سندھ کے علاوہ کسی دوسرے صوبے میں سٹریٹ پاور نہیں ہے جس کی مدد سے وہ اپنی پوزیشن بہتر کر چکی نواز حکومت کو صحیح معنوں میں چیلنج دے سکے۔ گزشتہ پورے سال کے دوران زرداری نے پیچھے ہٹ کر بلاول کو پارٹی کی باگ ڈور سنبھالنے دی۔

یقیناًپارٹی کو ایک عوامی چہرہ درکار ہے اور زرداری خود کبھی کارکنوں کو متاثر کرنے میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتے مگر پھر بھی سارے احکامات دبئی میں موجود زرداری ہاؤس سے ہی جاری ہوتے تھے۔ یہاں تک کہ نئے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو بھی باس سے ہدایات لینے بار بار دبئی کی پرواز پکڑنی پڑتی ۔ درحقیقت دبئی سندھ کابینہ کے چند ممبران کیلئے ایک محفوظ پناہ گاہ بھی بن چکی ہے‘ ان ممبران میں شرجیل میمن اور اویس مظفر (ٹپی) شامل ہیں جو کریک ڈاؤن سے پہلے ہی وہاں کوچ کر گئے تھے۔یہ واضح ہے کہ مسلم لیگ (نواز) کے حوالے سے زرداری کی مفاہمتی پالسی اب اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے حالانکہ مسلم لیگ نواز اب بھی ’پی پی پی‘ کو ’پی ٹی آئی‘ کیساتھ صف بندی سے باز رکھنا چاہتی ہے کیونکہ نواز شریف پانامہ سکینڈل سے پوری طرح سے آزاد نہیں ہوئے ہیں مگر حکومت پیپلزپارٹی کو خوش کرنے کے لئے کوئی بھی خاطر خواہ اقدامات کرنے کے لئے تیار نظر نہیں آ رہی اس لئے نواز حکومت کا بلاول کے چار نکات پر دھیان نہ دینا کوئی حیرانی کی بات نہیں‘ جس نے پی پی پی کو چند آپشن تک ہی محدود کر دیا ہے۔ (بشکریہ: ڈان۔ تحریر: زاہد حسین۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)