بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / بینک رپورٹ اور کرپشن کیخلاف کاروائی

بینک رپورٹ اور کرپشن کیخلاف کاروائی


بینک دولت پاکستان نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی سے متعلق جائزہ رپورٹ میں ٹیکس وصولی میں کمی کو مالی خسارے میں اضافے کی اہم وجہ قرار دیتے ہوئے مہنگائی کا جن مزید بے قابو ہونے کا عندیہ دے دیا ہے ۔ جولائی تا ستمبر 2016ء کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے بینک کا کہنا ہے کہ ملک میں مہنگائی کی شرح 1.7 سے بڑھ کر 3.9 فیصد ہوگئی ہے بینک صنعتوں کی کارکردگی کو کمزور قرار دیتے ہوئے حکومتی آمدنی میں کمی کی نشاندہی بھی کر رہا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق زر مبادلہ کی ترسیل میں بھی ریکارڈ کمی ہوئی ہے عین اسی روز جب سٹیٹ بینک جائزہ رپورٹ میں مالی خسارے میں اضافے کی خبر دے رہا تھا بلوم برگ نے پاکستان سٹاک مارکیٹ کو دنیا میں پانچویں بہترین منڈی قرار دیا اسی روز ایل پی جی کی قیمت میں 10 روپے فی کلو اضافہ ہوا تاہم گھریلو اور کمرشل صارفین کیلئے گیس نرخوں میں کمی بھی کر دی گئی ہے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری بھی ارسال کی گئی ہے تاہم تا دم تحریر اس سے متعلق اعلان سامنے نہیں آیا۔

اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ وطن عزیز میں معیشت کا استحکام ہی وقت کا اہم ترین تقاضاہے ۔ رائے اس میں بھی دوسری نہیں کہ ہماری اکانومی کو زمینی حقائق سے گریزاں پالیسیوں نے متاثر کیا تو دوسری جانب کرپشن نے قومی فنڈز کو دیمک کی طرح چاٹا اور آج ملک کا عام شہری بنیادی سہولیات سے محروم بجلی گیس کی لوڈشیڈنگ سے نالاں ہونے کے ساتھ گرانی کی چکی میں پس رہا ہے جبکہ بیرونی قرضوں کا بوجھ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ کرپشن کے خلاف کاروائی جاری رہے گی جبکہ ہمارے ہاں کرپشن کی جڑیں اتنی مضبوط ہو چکی ہیں کہ ان کے خاتمے کیلئے ہماری سیاسی قیادت کو اس مسئلے پر منتخب ایوان میں بات کر کے ایک مکینزم بنانا ہوگا جب تک اس مقصد کیلئے ٹھوس لائحہ عمل تیار نہیں ہو جاتا اس وقت تک معیشت کے استحکام اور عوام کے ریلیف کی منزل حاصل نہیں ہو سکتی ۔

سرکاری ہسپتالوں میں علاج؟

صوبے کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال لیڈی ریڈنگ میں آنیوالے مریضوں کیلئے تشخیصی ٹیسٹوں کی فیس مزید بڑھا دی گئی میڈیا رپورٹس کے مطابق امراض قلب میں مبتلا مریض اب اینجیو گرافی کیلئے 12 کی بجائے 15 ہزار روپے دینگے ایکو کی فیس 250 روپے سے بڑھا کر 600 روپے کر دی گئی ہے ایکسرسائز ٹیسٹ جو پہلے 350 روپے میں ہوتا تھا اب 600 روپے میں ہوگا ادائیگی میں اضافے کے باوجود مریضوں کو انتظار گاہوں میں جو دھکے کھانے پڑینگے وہ علیحدہ ہیں۔

صحت کے شعبے میں حکومت کی اصلاحات ریکارڈ حیثیت کی حامل ہیں اس سیکٹر کیلئے جتنا بجٹ ریلیز ہو رہا ہے ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی اس سب کے باوجود سرکاری شفاخانوں میں تشخیصی ٹیسٹوں کے نرخ بڑھاناعام شہری کو حکومتی اقدامات کے ثمرات سے محروم رکھنے کے مترادف ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ سرکاری ہسپتالوں میں صرف وہی لوگ آتے ہیں جو کسی بھی طرح پرائیویٹ اداروں میں ادائیگی کی استطاعت نہیں رکھتے سرکاری شفاخانوں میں آنیوالے یہ انتہائی غریب شہری ریلیف کے ہی حقدار ہیں اور یہ ریلیف انہیں بہتر خدمات کم داموں فراہم کرنے سے جڑی ہے۔