بریکنگ نیوز
Home / کالم / عدالت کا جواز:جائزہ!

عدالت کا جواز:جائزہ!

چیف جسٹس آف پاکستان کے پاس بالخصوص اور عدلیہ کا حصہ باقی تمام ججوں کے پاس بالعموم عوام و خواص پر مبنی ہر پاکستانی کے بارے میں فیصلہ دینے کا آئینی اختیار اور ذمہ داری موجود ہے تو اب جبکہ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی ریٹائر ہو گئے ہیں تو کوئی کیوں اور کیسے ان کے عدالتی دور کا جائزہ لے؟ ’کیوں‘ کا جواب تو آسان ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ وکلا عدالتی تحریک کے تحفوں میں سے ایک تحفہ یہ بھی ہے کہ اب عدالتی رویئے اور کارکردگی کا تنقیدی جائزہ لینا کوئی شجرِ ممنوعہ نہیں رہا کیونکہ ججز جانتے ہیں کہ عدالت کا جواز عوام کی قبولیت سے بنتا ہے اور اگر جائز عوامی تنقید کو توہین عدالت کے زمرے میں لایا جائے‘ تو عوام کی قبولیت ختم ہوجاتی ہے دوسری بات یہ کہ اگر وزیرِ اعظم اور مسلح افواج کے سربراہان پر بھی عوامی سطح پر تنقید کی جا سکتی ہے‘ تو ایسی تنقید سے چیف جسٹس کو مبرا قرار دینا بہت مشکل ہوگا مگر چیف جسٹس جمالی کی کارکردگی کا جائزہ لینا دو وجوہات کی بناء پر نہایت مشکل ہوگا۔ پہلی بات یہ کہ ان سے پہلے والے چار چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری‘ تصدق حسین جیلانی‘ ناصرالملک اور جواد ایس خواجہ پاکستان کے پیدا کردہ بہترین چیف جسٹسوں میں شامل ہیں یہ چاروں چیف جسٹس خامیوں سے پاک نہیں تھے اور انہوں نے بھی غلطیاں کی ہیں مگر انہیں جمہوریت‘ آئین‘ انصاف اور عدالتی آزادی کیلئے مؤثر کردار ادا کرنے کیلئے جانا جاتا ہے۔ اس لئے چیف جسٹس جمالی کے سامنے ایک بہت مشکل راستہ تھا۔ دوسری بات یہ کہ وکلاء یا عدالتی تحریک کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ ایک نہایت طاقتور اور عوامی عہدے کی صورت میں سامنے آیا‘ اس لئے موجودہ چیف جسٹسسے زبردست توقعات وابستہ کر لینا اور اس عہدے پر ہونے کے دوران ان کی کارکردگی کا تنقیدی جائزہ لیا جانا قدرتی تھا۔

سابق چیف جسٹس جمالی کا سپریم کورٹ میں تقرر 2009ء میں کیا گیا تھا جج کی حیثیت سے جسٹس جمالی کے تحریر کردہ کئی فیصلوں کا جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے قوانین کی ترقی میں معاون شاید ہی کوئی اہم کام کیا ہو۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ایک سال سے بھی زیادہ عرصے تک چیف جسٹس رہنے کے باوجود شاید ہی کوئی قانونی یا عوامی اہمیت کا حامل فیصلہ ہے جو انہوں نے تحریر کیا ہو‘ ’مردم شماری کیس‘ میں ایک مختصر فیصلے کے علاوہ۔ اس کے علاوہ انہوں نے عدالتی نظام میں موجود بڑے مسائل مثلاً مقدمات کے فیصلے میں تاخیر یا غریبوں اور بے اختیار لوگوں کو انصاف کی عدم دستیابی جیسی خرابیوں کو دور کرنے کیلئے بمشکل کوئی اہم اقدامات کئے ہیں جو چیز خاص طور پر مایوس کن تھی‘ وہ یہ کہ بطور چیف جسٹس انہوں نے جابجا عوامی تقریروں میں ججوں کے عدالتی احتساب پر زور دیا مگر جب مفاد عامہ کی ایک درخواست میں اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کے خلاف درخواستوں کے بارے میں معلومات اور ان کے فوری فیصلے کی استدعا کی گئی‘ تو انہوں نے یہ کہہ کر درخواست خارج کر دی کہ عدالتی احتساب مکمل طور پر خفیہ ہونا چاہئے اسلئے یہ لگتا ہے کہ سپریم کورٹ میں انکا دور ’معمول کی عدالتی کاروائی‘ تھا جس دوران انہیں یہ اندازہ بالکل نہیں تھا کہ یہ عہدہ انہیں کس قدر طاقت و اختیارات دیتا ہے اور لوگوں کی اس عہدے سے کیا توقعات وابستہ ہیں انکے دور میں عدالتی نظام کی آزادی پر کئی حملے ہوئے ماہِ اگست میں کوئٹہ کے وکلاء پر حملہ پاکستان کی تاریخ اور جدید قانونی تاریخ میں وکلاء کا سب سے بڑا قتل عام تھا ۔

اسکے علاوہ صوبائی چیف جسٹس کے بیٹے کا اغوا اُور فوج کی سماجی اور قانون کے برعکس سیاسی قوت میں اضافہ بھی دیکھا گیا جس نے آئینی حکمرانی کو شدید نقصان پہنچایا۔ جہاں تک دوسری بات کا تعلق ہے‘ تو ان کے دور میں سپریم کورٹ نے فوج کی قانون کے برعکس قوت کو کم کرنے کیلئے کوئی خاص اقدامات نہیں اٹھائے۔ درحقیقت افسوسناک طور پر ان ہی کے دور میں فوجی عدالتوں کی دی گئی سزائے موت کو برقرار رکھنے کا فیصلہ دیا گیا چیف جسٹس جمالی نے کئی ’سخت‘ تقریریں اور عدالتی ریمارکس دیئے ہوں گے مگر جسٹس چوہدری‘ جنہوں نے سیاسی اور فوجی اشرافیہ کو قابل احتساب ٹھہرایا‘ جسٹس تصدق جنہوں نے اقلیتوں کے بارے میں تاریخی فیصلہ دے کر انتہاء پسندوں کو نکیل ڈالنے کی کوشش کی‘ جسٹس ناصر الملک جنہوں نے انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کی تاریخی رپورٹ لکھ کر سیاسی خانہ جنگی کو روکا اور جسٹس جواد ایس خواجہ کہ جنہوں نے کرپٹ ترین اور طاقتور ترین کاروباری اشرافیہ کو قابل احتساب ٹھہرایا‘ کے برعکس جسٹس جمالی نے تھوڑے ہی عدالتی ایکشن لئے ہیں یعنی خالی برتنوں کے کھنکھنانے جیسا معاملہ تھا۔

چیف جسٹس جمالی ایک ایسے ادارے کے سربراہ رہے‘ جہاں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے زیادہ تر ججز ایمانداری اور عوامی خدمت کا احساس رکھتے ہیں مگر پھر بھی وہ یہ محسوس کرنے میں ناکام رہے کہ وکلاء یا عدالتی تحریک کے بعد جنم لینے والی ’نئی‘ اور کھلی عدالتی دنیا سیاسی‘ فوجی اور قانونی اشرافیہ کی پرانی اور بند عدالتی دنیا سے بے حد مختلف ہے۔ یہ نئی عدالتی دنیا ججوں کو بے پناہ اختیار دیتی ہے مگر ساتھ ہی ساتھ انکے کندھوں پر عدالتی اصلاحات اور معاشرتی تبدیلیوں کی عوامی امیدیں بھی ڈال دیتی ہے نتیجتاً عوام نااہلی اور عدالتی کمزوریوں سے متعلق ججوں کا پہلے سے کہیں زیادہ تنقیدی جائزہ لیتے ہیں۔(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: فیصل صدیقی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)