بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / حز اسلامی اور افغان حکومت امن معاہدہ

حز اسلامی اور افغان حکومت امن معاہدہ


حزب اسلامی افغانستان (انجینئرگلبدین حکمت یار گروپ) اور افغان حکومت کے درمیان طے پانے والے25نکاتی امن معاہدے پر کابل میں ہونے والے دستخطوں کے بعد وہ تمام خدشات اور افواہیں دم توڑ گئی ہیں جو ا س مجوزہ امن معاہدے کے حوالے سے پھیلائی جارہی تھیں۔افغان حکومت اور حزب کے درمیان زیر بحث امن معاہدہ ایسے وقت میں طے پایاہے جب ایک جانب افغانستان میں طالبان کااثر ونفوذ مسلسل بڑھتا جارہاہے ۔ دوسری جانب یہ امن معاہدہ ایسے وقت میں طے پایا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کشیدگی کی آخری حدوں کو چھورہے ہیں اور افغانستان میں بھارتی عمل دخل میں مسلسل اضافہ ہورہاہے ایسی صورتحال میں ایک ایسے پشتون سابق جہادی رہنما جس کے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اوریہاں کی مذہبی جماعتوں کے ساتھ قریبی دوستانہ تعلقات رہے ہیں کے ساتھ افغان حکومت کا امن معاہدہ یقیناً بہت اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں اس امر کی نشاندہی بھی مناسب ہوگی کہ موجودہ افغان سیٹ اپ میں حزب اسلامی کی مسلح مزاحمت کی پالیسی سے منحرف کم از کم دوسیاسی دھڑے پہلے ہی سے اس سیٹ اپ کاحصہ ہیں۔ جن میں ارغندیوال گروپ زیادہ موثر اورمتحرک ہے جس کی نہ صرف افغان پارلیمنٹ میں نمائندگی موجود ہے بلکہ اس گروپ نے گذشتہ صدارتی انتخابات میں جمعیت اسلامی کے صدارتی امیدوار ڈاکٹر عبد اللہ عبداللہ کے ساتھ اتحاد کرکے حزب اورجمعیت کے درمیان موجود تاریخی مخاصمت کے خاتمے اور سابق جہادی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے میں بھی کلیدی کردار اداکیاہے۔حزب افغان حکومت کے زیربحث معاہدے کاجہاں امریکہ نے خیرمقدم کیاہے۔

وہاں ایران اور پاکستان نے بھی اس معاہدے کو ایک بڑی اورخوش آئند پیش رفت قرار دیاہے۔ اس طرح اگر دیکھا جائے تو افغان قضیئے کے تقریباً تمام اہم فریقین اس معاہدے پرخوش ہیں کیونکہ سابق جہادی رہنماؤں میں پروفیسر برہان الدین ربانی مرحوم کے بعد گلبدین حکمت یار ایک ایسے سابق جہادی رہنما ہیں جو نہ صرف سوویت یونین کے خلاف لڑنے والے مجاہدین کے ہیرو رہے ہیں بلکہ یہ شاید واحد افغان رہنما ہیں جنہیں مختلف افغان دھڑوں بشمول جمعیت اسلامی، شورائے نظار، جنبش ملی، محاذ ملی، اتحاد اسلامی اورطالبان حتیٰ کہ سابقہ کمیونسٹ پارٹی پیپلزپارٹی ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان کے خلق دھڑے اور شیعہ تنظیم حزب وحدت کے علاوہ برطانیہ، امریکہ، سعودی عرب اورایران جیسی خارجی قوتوں کے ساتھ بھی مشترکہ طورپر کام کرنے کا تجربہ رہاہے۔یہ بات بلاشک وشبہ کہی جاسکتی ہے افغان جہاد کے زمانے میں حزب اسلامی کاشمار افغانستان کی نمائندہ اور موثر تنظیموں میں ہوتاتھا اورا سکے اثرات افغانستان کے تمام لسانی اورنسلی اکائیوں میں بلا تفریق پھیلے ہوئے ہیں ۔ گلبدین حکمت یارنے پختون النسل ہونے کے باوجود کبھی بھی کسی بھی مرحلے پرخو دکوصرف پختونوں تک محدود نہیں کیا بلکہ ان کی شناخت تمام افغان قوموں میں یکساں طورپر مقبول ہے۔ انہوں نے افغان حکومت کے ساتھ جو امن معاہدہ کیاہے گو اس پران کے مخالفین سخت ناراض ہیں اور وہ ہرحال میں اس امن معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں لہٰذا یوں لگ رہاہے کہ ا س معاہدے پر افغان صدر ڈاکٹر اشر ف غنی اورحزب کے سربراہ گلبدین حکمت یار کے دستخطوں کے بعد ہی اس کی کامیابی سے متعلق کوئی بات حتمی طور پر کہی جا سکے گی۔یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ یہ معاہدہ خالصتاً ایک سیاسی معاہدہ ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف گلبدین حکمت یار کو بلکہ انکی جماعت حزب اسلامی کو بھی افغانستان کی مین سٹریم سیاست میں کرداراداکرنے کاموقع مل سکے گا۔

ا سی طرح یہ امن معاہدہ حز ب کے ساتھ ساتھ افغان معاشرے اور حتیٰ کہ افغانستان کے پڑوسیوں کے لئے بھی نیک خواہشات کا پہلو لئے ہوئے ہے۔اسی طرح اس معاہدے کے افغانستان کے ایک پرامن اور محفوظ مستقبل کی راہ ہموار کرنے میں بھی مددگارومعاون ثابت ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ حرف آخر یہ کہ اگر یہ معاہدہ آگے جاکر برقرار رہتاہے اورمعاہدے کی رو سے گلبدین حکمت یار پرعائد کی گئی بین الاقوامی پابندیاں واقعتا اٹھالی جاتی ہیں اور انہیں کابل میں آکر پر امن سیاسی جدوجہد کے مواقع فراہم کئے جاتے ہیں تویہ یقیناًحزب اورحکمت یار کے ساتھ ساتھ افغان معاشرے اورافغانستان میں مثبت سیاسی سرگرمیوں کے فروغ اورسیاسی جماعتوں کے استحکام اورفعالیت کی جانب ایک اہم قدم ہوگا جو نہ صرف افغانستان کے موجودہ سیٹ اپ اورمستقل امن کے لئے ضروری ہے بلکہ اس میں پورے خطے کے امن اوراستحکام کاراز بھی پنہاں ہے۔