بریکنگ نیوز
Home / کالم / امتیاز احمد بھی چلے گئے

امتیاز احمد بھی چلے گئے

2016ء کے آخری دن امتیاز احمد بھی ہم سے جدا ہوگئے دکھ اس بات کا ضرور ہوا کہ کسی بھی ٹیلی ویژن چینل اور ایک آدھ اخبارکو چھوڑ کر کسی کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ فوراً ایک دس پندرہ منٹ پر مشتمل ایک دستاویزی فلم ہی ٹیلی کاسٹ کر دی جاتی کہ جس میں اس عظیم بلے باز اور وکٹ کیپر کے کارناموں کو اجاگر کر دیا جاتا امتیاز احمد پاکستان کے پہلے بیٹسمین تھے کہ جنہوں نے ڈبل سنچری بنائی تھی جن دنوں میں وہ کھیلا کرتا ان دنوں ون ڈے اور ٹوینٹی ٹوینٹی کا اجراء نہیں ہوا تھا صرف ٹیسٹ کرکٹ ہی کھیلی جاتی امتیاز احمد ایک بے چین روح تھی وہ برق رفتاری سے سکور کرنے کے قائل تھے اس لحاظ سے ان میں اور شاہد آفریدی میں کافی مشابہت پائی جاتی تھی سال گزشتہ کے اوائل میں حنیف محمد کا انتقال ہوا اور سال کے آخری دن امتیاز احمد کا ۔ یہ دونوں کرکٹرز یقیناًلیجنڈ تھے حنیف محمد کا خاصا یہ تھا کہ وہ نہایت ہی محتاط طریقے سے سکور کرتے جبکہ امتیاز احمد تیزی سے رنز بناتے حنیف محمد نے 1957ء میں دورہ ویسٹ انڈیز کے دوران وکٹ پر 16 گھنٹے سے زیادہ عرصے تک کھڑا ہو کر دنیا کی لمبی ترین اننگز کا ریکارڈ قائم کیا جو آج بھی قائم ہے کرکٹ کے ناقدین کی رائے میں جس پاکستانی ٹیم نے 1954ء میں انگلستان کا دورہ کیا تھا اور اگست کے مہینے میں مشہور زمانہ اوول کے گراؤنڈ پر انگلستان کی ٹیم کو 24 رنز سے شکست دی تھی۔

اسکا ہر کھلاڑی اپنی فیلڈ میںیکتا تھا حنیف محمد اور علیم الدین اوپننگ بیٹسمین تھے وقار حسن ون ڈاؤن پر بیٹنگ کرنے کیلئے آتے امتیاز احمد دوسرے نمبر پر اور بعد میں شجاع الدین ‘ مقصود احمد ‘ عبدالحفیظ کاردار ‘ ذوالفقار احمد ‘ فضل محمود ‘ محمود حسین اور خان محمد ان کھلاڑیوں میں سے آج کوئی بھی بقید حیات نہیں سوائے وقار حسن کے ۔ کھیلوں کی دنیا میں بعض واقعات ایسے ہوتے تھے کہ جو امر ہو جاتے ہیں اور جن سے نئی نسل کو آشنا کرانا ضروری ہوتا ہے مثلاً 1954ء میں جب ایشیائی اولمپکس میں 100 میٹر کی دوڑ میں پاکستان کے عبدالخالق نے تیز ترین دوڑنے والے ایشیائی اتھلیٹ کا اعزاز جیتا یا پھر 1960ء کے ورلڈ اولمپکس میں کہ جو روم میں منعقد ہوئے تھے پاکستان کی ہاکی ٹیم نے بھارت کی ہاکی ٹیم کو ہرا کر سونے کا تمغہ جیتا یا سکواش کے میدان میں ہاشم خان ‘ اعظم خان ‘ روشن خان ‘ قمر زمان ‘ علاؤ الدین گوگی ‘ محب اللہ سینئر ‘ جہانگیر خان ‘ جان شیر خان کے کارنامے ان سب واقعات پر ٹیلی ویژن چینلز کو خصوصی دستاویزی فلمیں بنانی چاہئیں۔ اوول کے میدان میں 1954ء میں جس پاکستانی ٹیم نے انگلستان کی ٹیم کو ہرایا اس ٹیم کا واحد رکن وقار حسن بقید حیات ہے۔

17 اگست 1954ء کو اوول میں ٹیسٹ میچ میں جو حکمت عملی اس ٹیم کے کپتان عبدالحفیظ کاردار نے بنائی تھی اس سے وقار حسن کرکٹ کے شائقین کو تفصیل سے آگاہ کر سکتے ہیں امتیاز احمد کیساتھ جو کرکٹرز کھیلے تھے وہ پاکستان میں موجود ہوں یا غیر ممالک میں ان سے امتیاز احمد کے کھیل کی خصوصیات کے بارے میں کافی معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں 1960ء میں روم اولمپکس میں پاکستان کی جس ہاکی ٹیم نے پہلی پوزیشن حاصل کی تھی اسکے بھی کئی ممبراب داعی اجل کو لبیک کہہ چکے ہیں عاطف ‘ غلام رسول ‘ حبیب علی کڈی ‘ انوار احمد خان اب ہم میں نہیں رہے اس ٹیم کے کپتان بریگیڈیر حمیدی ‘ مطیع اللہ ‘ عبدالوحید جو بقید حیات ہیں ان کے توسط سے ایک دستاویزی فلم بنائی جاسکتی ہے اور اس حکمت عملی سے ہاکی کے شائقین اور نئے ہاکی کے کھلاڑیوں کو آگاہ کیا جاسکتا ہے ہماری ٹیلی ویژن چینلز سے درخواست ہوگی کہ وہ اب ذرا اپنے لمبے لمبے ٹاک شوز کے دورانیے کم کریں اور پاکستان کی کرکٹ ‘ ہاکی ‘ سکواش کہ جن میں ہم نے نام کمایا ہے ان کے نامور کھلاڑیوں کے کھیل پر ہر سال خصوصی پروگرام ٹیلی کاسٹ کئے جائیں ۔