بریکنگ نیوز
Home / کالم / ہم نے مر مر کے یہ انداز سخن پایا ہے

ہم نے مر مر کے یہ انداز سخن پایا ہے


ایک طویل اور اکتا دینے والی خشک سالی کے دوران ہی سال نو نے اپنا سفر آغاز کیا مبارک سلامت کا شور ضرور اٹھا مگر خشک خنکی نے وہ لطف نہیں اٹھانے دیا جوان ہنگاموں کی جان ہوا کرتا ہے شاید کہ کوئی خوش قسمت گھر ہو گا جہاں اس خشک موسم نے ہاتھ ہولا رکھا ہو ورنہ تو ہر گھر کے حصے میں مختلف بیماریوں نے ڈیرا ڈال رکھا ہے ۔ خصوصاََ بچوں اور عمر رسیدہ لوگوں کو تو خاصی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے ڈسٹ کی وجہ سے تو جن لوگوں کو الرجی ہوئی ان کا تو بہت ہی برا حال رہا لیکن نئے سال کی یہ مہربانی بہت ہے کہ وہ اپنے جلو میں بھری چھاگلوں والے بادل بھی لے آیااور پہلے ہی ہفتہ میں اس نے پہاڑوں کو برف کی سفید چادر اوڑھا دی اور میدانی علاقوں میں بارشوں کو میلے لگانے پر آمادہ کر لیا اب چہروں کے تناؤ میں بڑی حد تک کمی آ گئی ہے موسمی بیماریوں کے ختم ہونے کے بھی امکانات روشن ہو گئے ہیں اب کے بارش میں ایک تسلسل تو ضرور ہے تاہم وہ روانی نہیں ہے جو اس موسم کی بارش کا خاصا ہو تا ہے ابھی تک جاڑے بھی گلابی ہی تھے ذرا دھوپ تیز ہوئی ور اوائلِ ستمبر کا سا سماں بن گیابس صبح دم اور شام ڈھلے قدرے ٹھنڈ بڑھ جاتی مگر ایسی بھی نہیں کہ کپکپاہٹ شروع ہو جائے اور گرم کھانوں کی رغبت بڑھ جائے،بس ہلکا سا سویٹر یا ہلکا پھلکا اپر ہی کافی ہوتا،دسمبر کے وسط تک یہی حال رہا۔ اب جو بارشوں کا یہ سلسلہ شروع ہوا ہے اور ہر چند ان میں وہ شدت اور روانی نہیں ہے تاہم سردی نے اب پر پرزے نکالنا شروع کر دےئے ہیں، دسمبر کی غیر حاضری اب اسے کھل رہی ہے، سو وہ اب کھل کھیلے گی اور گمان ہے کہ پھر تا دیر چلے گی۔

بہت سے گھروں میں اس سرد موسم نے گرم پکوانوں کیلئے راستے ہموار کر لئے ہیں اور اپنے اپنے ذوق کے مطابق کڑاہیوں سے اشتہا انگیز بھاپ گھروں کے دروازوں اور دریچوں سے نکل کر گزرنے والوں کامزاج پوچھنے لگی ہے۔ گرم گرم پکوڑے ‘حلوہ ‘سموسے ‘گجریلا‘مچھلی ‘سوپ اور یخنی کا تو لطف ہی کچھ اور ہوتا ہے بلکہ چائے کافی کا مزہ بھی اس موسم میں آتا ہے پھر خشک میوے بھی اگر میسر ہو جائیں تو رات گئے مل کر گپ شپ کرتے ہوئے ان کی تو بات ہی اور ہے۔ چلغوزہ تو خیر اب قسمت ہی سے ملتا ہے مگر مونگ پھلی ‘کاجو‘ چنے اور اخروٹ تو قہوے کے ساتھ خوب ہوتا ہے اور اگر کہیں گڑ بھی ساتھ رکھا ہو تو پھر تو واہ واہ ،حالانکہ اب تیزی سے اس کا رواج ختم ہونے لگا ہے خود میں نے گزشتہ رات ہمدمِ دیرینہ جہاں زیب جہاں کے گھر قہوے اور نٹس کے ساتھ مزے لے لے کر کھایا نیا سال بارش ساتھ لیکر آیا تو ہمیں بھی اس موسم کے سارے آداب یاد آئے،گاؤں میں والدہ مرحومہ بارش کے دنوں میں بیسنی روٹی بناتی وہ ذائقہ بھی نہ بھولنے والا ذائقہ ہے۔ ایک محبتی دوست پروفیسر راشد حسین سردیوں کے آغاز میں اپنے گھر سے ’’ سکڑک‘‘ ( بس اسے بھی بیسنی روٹی یا ’’ پیازکے ‘‘ کا متبادل جانئے)، لے کر آجاتا ہے اور یہ سلسلہ کئی برسوں سے جاری ہے اور اس کیلئے اسے بارش کا انتظار بھی نہیں کرنا پڑتا۔ گاہے گاہے گڑ کی بنی ہوئی میٹھی روٹی( کلچہ ٗ شیرین) بھی آ جاتی ہے جو شام کی چائے کے مزے کو دو بالا سہ بالا کردیتی ہے۔ صبح کی چائے کیساتھ یار لوگ پائے ‘نہاری اور حلوہ پوری کا اہتمام بھی کرتے ہیں انکے ساتھ ساتھ آلو بھرے اور قیمہ بھرے پراٹھے بھی ناشتہ کی میز پراپنی بہار دکھا رہے ہوتے ہیں۔

ان میں سے بیشتر پکوان ماضی کی بارشوں کے ٹھنڈے میٹھے زمانوں کی یادیں دلاتے ہیں کیونکہ اب تو حالت ’’ کیجئے نظارہ ، دور دور سے ‘‘ یا پھر ’’ دور ماضی کے حوالے ہیں کھلنڈرے ایام ‘‘ سے آگے نہیں بڑھتی اور ناشتہ سمٹتے سمٹتے قہوہ ،کشمیری چائے کیساتھ ایک روٹی، روغنی یا باقر خانی تک محدود ہو گیا ہے۔ البتہ بریڈ جام جیلی یا کریم مکھن یا مارملیڈ والے فائدے میں رہے وہ اب بھی اس پر اکتفا کر رہے ہیں، البتہ نئی نسل کے پاس ناشتے کو دینے کیلئے اتنا وقت نہیں ہے، رات دیر تک جا گتے ہیں صبح دیر ہو جاتی ہے بھاگم بھاگ انڈا سلائس کچھ کھایاکچھ چھوڑا دو ایک گھونٹ چائے پی‘ نہ پی اور سکول،کالج یا یونیورسٹی کیلئے نکل پڑے اس لئے انکی خاطر ’’فاسٹ فوڈ ‘‘ متعارف ہوا۔برگر اور کولڈ ڈر نک کا لنچ پہلے فیشن بنا پھر عادی ہو گئے۔ دن میں گھر کا کھانا نصیب ہی نہیں ہوتا رات کو بھی جلدی ہوتی ہے کہ ایک ہاتھ میں کتاب اور کان پر موبائل فون پوچھو تو’ٹاپک ڈسکس‘ ہونیکا کہہ دیتے ہیں قریب جاؤ تو کان سے ہٹ جاتا ہے مگر موبائل کی طرف دیکھے بنا ان کی انگلیاں کی پیڈ پر تھرکنے لگتی ہیں اور چیٹ شروع ہو جاتی ہے اب موبائل بھی ماشاء اللہ عمدہ کی پیڈ پر سارے حروف تہجی کیلئے سلگ بٹنوں والے آ گئے ہیں ورنہ ہمیں تو ایک ایک حرف کے لئے ایک ایک بٹن کو چار چار مرتبہ دبانا پڑتا تھا اور جن میں سے کوئی کوئی بٹن کبھی کبھی خراب بھی ہو جاتاتو الجھن دیکھنے والی ہوتی نئی نسل تو سہولتوں کے زمانے میں سانس لے رہی ہے اور تو اور اب تو پہچان کے سارے حوالے بھی ایک کلک پر دستیاب ہیں، سوشل میڈیا نے ’’ فلاح کے نئے راستے‘‘ بھی اب سجھا دئیے ہیں ادھر کوئی بات کی ادھر پلک جھپکتے کل عالم نے سن لی، دیکھ لی یا پڑھ لی اور پہچان کا یہ نشہ ایسا ہے کہ پھر کوئی کسی کو خاطر میں نہیں لاتا پہلے جو پہچان عمریں گال کر بھی حاصل نہیں ہو تی تھی وہ اب سٹیٹس بدلتے ہی پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے لگا۔ جیسے ایک صاحب اپنی بیگم کو دفنا کر قبرستان سے ابھی نکلے ہی تھے کہ دوست سے کہنے لگے ،یار ذرا موبائل دینا کہ اپنا سٹیٹس تو اپ لوڈ کر دوں، بہت کم لوگوں کو معلوم ہو گا کہ سماجی رابطہ کی ویب سائٹ فیس بک پر پوسٹ کی جانے والی تصاویر اور اور اقوال و اشعار پر کئی ممالک میں تحقیق اور سروے کئے جا رہے ہیں جس سے صارف کے نفسیاتی عوارض کا پتہ لگایا جاتا ہے، بات موسم سرما اورنئے سال کی پہلی پہلی بارش سے ہوتے ہوتے نئی نسل کے لئے سہولتوں کے زمانے تک آ پہنچی اس نئی نسل تک جو کم کم جانتی ہے کہ ان کے رستے سے ان سے پہلی نسل نے اپنی پلکوں سے کانٹے چنے ہیں،مگر سچ یہی ہے کہ ’’ کجا دانند حالِ ما سبکسارانِ ساحل ہا ‘‘ یہ جو موسموں کے ساتھ ہمارے مزاج میں ہلچل پیدا ہوتی ہے اسے شاذ تمکنت کی زبان میں یوں کہاجا سکتا ہے۔
ہم نے مر مر کے یہ اندازِ سخن پایا ہے
تم کو تو حْسن ملا ہے مری جاں گھر بیٹھے