بریکنگ نیوز
Home / کالم / جے آئی یوتھ انٹر پارٹی انتخابات

جے آئی یوتھ انٹر پارٹی انتخابات


جماعت اسلامی نوجوانوں کے انٹراپارٹی انتخابات منعقد کرکے وطن عزیز کی پہلی سیاسی جماعت بن گئی ہے جس نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ کھلے عام نوجوانوں کے انتخابات منعقد کئے ہیں واضح رہے کہ متذکرہ انٹراپارٹی یوتھ الیکشن میں جماعت اسلامی کی مروجہ روایات اوردستوری طریقہ کار سے ہٹ کر صوبے کی433یونین کونسلوں میں صدر اورجنرل سیکرٹری کی مجموعی 866 نشستوں پرکامیابی کے لئے پانچ ہزار سے زائد امیدواران نے حصہ لیا جبکہ اس سارے عمل کیلئے ساڑھے چارلاکھ نوجوانوں کی رجسٹریشن کی گئی تھی الیکشن کے لئے433یونین کونسلوں میں623 پولنگ سٹیشن قائم کئے گئے تھے ا س الیکشن کی سب سے اہم با ت جہاں ان انتخابات کاانتہائی پرامن اورمنظم انداز میں انعقاد تھا وہاں الیکشن کے جملہ تمام انتظامات اور نگرانی کے فرائض بھی نوجوانوں نے خود ہی انجام دیئے ان انتخابات کے انعقاد کیلئے جماعت اسلامی یوتھ کے ذمہ داران نہ صرف کئی ہفتوں سے انتظامات میں مصروف تھے بلکہ ان انتخابات کو ہرطرح کے شکوک وشبہات سے پاک کرنے اور عام نوجوانوں کو اس سارے عمل کاحصہ بنانے کیلئے اگرجماعت اسلامی نے ایک طرف اپنے دروازے عام نوجوانوں کے لئے کھول دیئے تھے تو دوسری طرف ان انتخابات میں حقیقت کارنگ بھرنے کیلئے وہ تمام ضروری اقدامات بھی اٹھائے گئے جو کسی بھی سطح کے انتخابات کے منظم اوردھاندلی سے پاک ہونے کیلئے ناگزیر سمجھے جاتے ہیں جے آئی یوتھ کے زیر بحث انتخابات کاایک ہی دن ضلع چترال سے ٹانک تک انتہائی منظم اندا ز اورپرامن ماحول میں انعقاد سے ایک بار پھر یہ بات واضح ہوگئی ہے۔

کہ خیبرپختونخوا کے نوجوان نہ صرف پرامن اورباشعور شہری ہیں بلکہ اگر ان پر اعتماد کیاجائے تویہ ہرطرح کے چیلنجز سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت اورجذبہ بھی رکھتے ہیں ہمارے ہاں بالعموم یہ تاثر پایاجاتاہے کہ ہمارے نوجوانوں میں حوصلے اور صبرکی کمی ہے ہمارے نوجوانوں کے خلاف عموماً جذباتی‘ غیر سنجیدہ او ر انتہا پسندانہ رجحانات رکھنے کا پروپیگنڈا بھی کیاجاتاہے دراصل اس پروپیگنڈے کے پیچھے یہ منفی سوچ کار فرما ہوتی ہے کہ ہمارے نوجوان بھاری ذمہ داریاں اٹھانے سے عموماً اپنا دامن بچاتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ نوجوانوں پرجب بھی اعتماد کیا گیاہے اورجب بھی کٹھن اورمشکل حالات میں انہیں آزمایا گیا ہے انہوں نے قوم اوراپنے بڑوں کو کبھی بھی مایوس نہیں کیاہے اسی طرح ہمارے ہاں ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت یہ سوچ بھی پروان چڑھائی گئی ہے کہ نوجوانوں کاسیاست اورسیاسی جماعتوں سے کیا لینا دیناہے سیاست تو بس چندمخصوص سیاسی خانوادوں کاکام ہے اوراس بکھیڑے میں عام نوجوانوں کو بلاوجہ اپنا آپ خوار نہیں کرنا چاہئے اسی حقیقت پسندانہ سوچ اور پروپیگنڈے کی آڑ میں ہماری سیاسی جماعتوں نے نہ صرف ہمیشہ نوجوانوں کا استحصال کیاہے۔

بلکہ انہیں اپنی صفوں میں مناسب مقام دینے سے گریز کرتے ہوئے معاشرے کے اس سب سے اہم اورحساس طبقے کو اپنے اقتدار اورذاتی وپارٹی مفادات کی بھینٹ چڑھانے سے بھی دریغ نہیں کیا ہے‘ملک کی کسی بھی پارٹی نے آج تک نہ تو کبھی پارٹی سطح پرنوجوانوں کو کوئی نمایاں کردار دینے کیلئے پارٹی عہدوں پر انکی تقرری میں سنجیدگی دکھائی ہے اورنہ ہی اپنے اپنے یوتھ ونگز کو فعال رکھنے میں کسی دلچسپی کا مظاہرہ کیاہے لہٰذا ایسے میں جماعت اسلامی کاانٹرا پارٹی یوتھ انتخابات کاانعقاد نوجوانوں پربھرپور اعتماد کامظہرہے۔