بریکنگ نیوز
Home / کالم / غربت اور بے روزگاری

غربت اور بے روزگاری

ملک میں دو نہایت ہی اہم مسئلے ہیں جن سے بہت سے مزید مسائل جنم لیتے ہیں جن کا سد باب حکومتوں کا فرض ہوتا ہے مگر اس کیلئے جو بنیادی ضرورت ہوتی ہے اس پر ایک عرصے سے حکومتوں نے توجہ ہی نہیں دی جب ہم شہروں میں دیکھتے ہیں تو ہمیں لاری اڈوں ‘ ورکشاپوں ‘ ہوٹلوں اور امیر گھروں میں بہت سے بچے کام کرتے نظر آتے ہیں ان لوگوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ غربت نے اس ملک میں اس طرح سے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں کہ ہم لوگ اپنے بچوں کو سکول بھیجنے کے قابل بھی نہیں ہیں اس لئے کہ جب گھر میں کھانے کو کچھ نہیں ہوگا تو فکر کھانے کی ہوگی نہ کہ تعلیم کی اسی لئے لوگ اپنے بچوں کو کسی استاد کے حوالے کر دیتے ہیں تاکہ بچہ کچھ سیکھ بھی جائے او رگھر کیلئے بھی چار پیسے لے آئے اس سے معاشرے میں بہت سی برائیاں بھی جنم لیتی ہیں ایک تو یہ کہ جو بچے کسی بھی استاد یا کسی بھی بڑے گھر میں کام کیلئے چھوڑے جاتے ہیں ان کو لاوارث سمجھا جاتا ہے اور ان کے ساتھ بہت ہی بے رحمانہ سلوک کیا جاتا ہے ان سے کام تو بارہ بارہ گھنٹے لیا جاتا ہے مگر انکے کھانے وغیرہ کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا جو بچے ہوٹلوں وغیر ہ پر کام کرتے ہیں انکے کار اوقات تو بعض اوقات بارہ گھنٹوں سے بھی بڑھ جاتے ہیں اور کھانے کیلئے ان کو وہ کھانا دیا جاتا ہے جو گاہکوں سے بچ جاتا ہے وہ ہوٹل ہی کے کسی بنچ پر رات گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں جہاں تک ان کے معاوضے کا تعلق ہے تو ان بے چاروں کو اس کا علم ہی نہیں ہو پاتا اسلئے کہ والدین مالکوں سے آ کر رقم لے جاتے ہیںیہ سب غربت کا شاخسانہ ہے حکومتوں کو غریب لوگ پانچ سال کے بعد ایک دفعہ یاد آتے ہیں کہ جب انتخابات کیلئے ان غریبوں کے ووٹ کی ضرورت پڑتی ہے اس دوران ان غریبوں سے بڑے بڑے وعدے کئے جاتے ہیں جو جیتنے کے بعد طاق نسیاں میں رکھ دےئے جاتے ہیں جہاں تک گھریلو ملازموں کا تعلق ہے۔

تو آئے دن ان پر تشدد کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں لیکن انکے تدارک کیلئے کچھ بھی نہیں کیا جاتاحد یہ ہے کہ ایسے لوگ جو انتہائی پڑھے لکھے ہوتے ہیں اور جو دن رات انسانی فلاح کے کاموں کی تبلیغ کرتے نہیں تھکتے انکے گھریلو ملازمین کی خبر لی جائے تو انتہائی بھیانک تصویریں سامنے آتی ہیں ۔ ابھی تازہ خبر جو سامنے آئی ہے وہ ایک ایڈیشنل سیشن جج کے گھر کی ہے کہ کس طرح ایک غریب بچی پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے اسکے ہاتھ کو چولہے پر رکھ کر جلایا گیا اب پڑوسیوں سے معلوم ہو رہاہے کہ کہ یہ تو اس بچی کیساتھ روز کا معمول تھا روزانہ اس بچی کی چیخیں محلے دار سنتے تھے مگر کیونکہ یہ گھر ایک منصف کا تھا اس لئے کوئی وہاں کے اندورنی معاملات میں دخل اندازی بھی نہیں کر سکتا تھااب جو بات سامنے آئی تو جج صاحب نے سارا معاملہ رفع دفع کروا دیا کہ بچی کے باپ نے بغیر بچی کی حالت دیکھے جج صاحب کو راضی نامہ لکھ دیا ہے اور معاملہ رفع دفع کر دیا گیا ہے مگر چیف جسٹس صاحب نے از خود نوٹس لیکر معاملے کی چھان بین کا حکم دیا ہے مگر ہمارے عدالتی سسٹم کا کمال یہ ہے کہ مقدمے کا کچھ بھی نہیں بننا اور اپنے پیٹی بند کو بچانے کیلئے بہت سی قانون کی کتابیں میدان میں آ جائیں گی دوسرا معاملہ ملک میں بے روز گاری کی وجہ سے پیش آ رہا ہے۔

ملک میں چونکہ نوکریاں مل نہیں رہیں اسلئے لوگ بیرون ملک روزگار کی تلاش میں جانیکی کوشش کرتے ہیں اس بات نے ایک دھوکے باز گروہ کو جنم دیا ہے جو خواہش مند لوگوں کو باہر بھیجتا ہے ان سے اس کام کی خاطر ایک بڑی رقم اینٹھتا ہے اور جعلی ویزے لگا کر دوسرے ملکوں میں بھیج دیتا ہے۔لوگ اپنا سب کچھ بیچ کر ایجنٹوں کی توسط سے بیرون ملک نوکریوں کی تلا ش میں جاتے ہیں او ر پھر ایک عرصے تک ان ملکوں میں قید رہتے ہیں سب کچھ لٹوا کر واپس آ جاتے ہیں اور وہ بھی خوش بختی سے۔ بہت سے نوجوان ان ایجنٹوں کے ذریعے باہر گئے ہیں جن کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے حال میں ہی ایک اور انکشاف ہوا ہے کہ یہاں سے لوگوں کو یونان کیلئے براستہ ترکی بھیجا جاتا ہے جن کو ایجنٹوں کے ترکی میں ساتھی اغوا کرتے ہیں اور پھر ان پر تشدد کی تصویریں ان کے گھر والوں کو بھیجی جاتی ہیں اور ان کو چھڑانے کیلئے رقم طلب کی جاتی ہے یہ سب کچھ اس لئے ہو رہا ہے کہ حکومت کو معلوم ہی نہیں ہے کہ ملک کی آبادی کتنی ہے۔ان کی ضروریات پوری کرنے کیلئے حکومت کیا پلان کر سکتی ہے اور کیا کرنا چاہئے۔ پس عوام ہر طرح سے مار کھا رہے ہیں اور حکمران ایک دوسرے کو گرانے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں۔