بریکنگ نیوز
Home / کالم / لا پتہ امریکی مصنف

لا پتہ امریکی مصنف


افغانستان کے صوبہ خوست سے مئی 2014 ء میں لاپتہ ہونیوالے ایک امریکی مصنف پاؤل اووربائے کے بارے میں تاحال کچھ معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ کہاں ہے اور کس حال میں ہے! اس کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ74سالہ اووربائے افغانستان وہاں کے حالات بارے ایک کتاب تحریر کرنے گیا تھا جس میں وہ جاری جنگ کے سبھی فریقین کے نکتۂ نظر کو سمونے کی خواہش رکھتا تھااس سے آخری مرتبہ رابطہ 17 مئی 2014ء کو اس وقت ہوا جب وہ افغانستان کی جنوب مشرقی سرحدی علاقے خوست سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والا تھا اسکا کہنا تھا کہ اس نے اِس مہم جوئی کا انتخاب اس لئے کیا ہے کیونکہ پاکستان میں داخلے کی اجازت (ویزا) حاصل کرنیکی اسکی ایک کوشش ناکام ثابت ہو چکی ہے اُووربائے ایک فری لانسر مصنف ہیں جنکی افغانستان ہی سے متعلق ایک کتاب اکتوبر 1993ء میں ’ہولی بلڈ‘ کے نام سے شائع ہو چکی ہے ان کو امید تھی کہ وہ سراج الدین حقانی جو کہ معروف افغان جہادی کمانڈر جلال الدین حقانی کے بیٹے اور حقانی نیٹ ورک کے سربراہ ہیں سے بات چیت کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ یاد رہے کہ حقانی نیٹ ورک کو اقوام متحدہ دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے حقانی نیٹ ورک کے رہنماؤں سے ملاقات کی امید میں اُووربائے نے اس پرخطر راستے کا انتخاب کیا جو پاکستان کے شمالی وزیرستان علاقے سے جڑا ہوا ہے۔امریکہ کی جانب سے حقانی نیٹ ورک کے سربراہ کے سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر مقرر کی گئی ہے اور اس بات کے امکانات نہایت ہی کم تھے کہ اووربائے حقانی نیٹ ورک کی قیادت سے ملاقات کر پاتے کیونکہ ایک تو حقانی نیٹ ورک کے سربراہ عموماً ملاقاتیں اور انٹرویو نہیں دیتے اور دوسرا کسی مغربی ملک سے تعلق رکھنے والے مصنف سے ملاقات اور بات چیت تو قریب ناممکن ہی تھی لیکن اووربائے خطرات کو زیادہ خاطر میں نہیں لاتے تھے اور 1980ء میں وہ پاکستان و افغانستان میں قریب ڈھائی برس مقیم رہے ۔

اور اِس عرصے میں آٹھ مرتبہ پاکستان و افغانستان آئے انہوں نے پشتو زبان بولنا بھی سیکھ لی تھی اور انہیں قرآن بھی آتا تھا وہ جب کبھی بھی پاکستان یا افغانستان میں ہوتے تو مقامی افراد کی طرح شلوار قمیض اور سر پر سفید ٹوپی پہنا کرتے تھے لیکن اِس مرتبہ اووربائے کی قسمت انکا ساتھ نہیں دے رہی تھی اور انہوں نے ایک ایسے وقت کا بھی انتخاب کیا جب پاکستان کی فوج شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے آخری مراحل مکمل کر رہی ہے جو کہ ملکی وغیرملکی عسکریت پسندوں سے علاقے کو واگزار کرانا ہے اس موقع پر اگر کوئی غیرملکی غیرقانونی طریقے سے پاکستان میں داخل ہونیکی کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے تو یقیناًاِسے شک کی نگاہ سے دیکھا جائے گا ابھی تک یہ بات بھی واضح نہیں ہو سکی ہے کہ کیا اووربائے پاکستان میں داخل ہونے کے بعد لاپتہ ہوا یا وہ اس وقت سے لاپتہ ہے جب وہ افغانستان کے شہر خوست میں قیام پذیر یا پاکستان کی جانب حالت سفر میں تھا حالیہ چند برس کے دوران اووربائے راقم کے ساتھ باقاعدگی کے ساتھ رابطے میں رہا اس کے ای میل پیغامات میں افغان اور پاکستانی پختونوں کی محبت کا ذکر ملتا اور وہ ان سے بے حد متاثر تھا اووربائے ہمیشہ سے افغانستان میں غیرملکی افواج کی موجودگی کا مخالف رہا 1980ء کی دہائی میں روس اور بعدازاں نائن الیون کے بعد امریکہ و نیٹو تنظیم کے رکن ممالک کی افواج کی افغانستان میں موجودگی کی وہ مخالفت کرتا تھا ۔

اووربائے کے کئی مقاصد تھے جن میں القاعدہ تنظیم کے رہنما اسامہ بن لادن کی تلاش اور افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا شامل تھا وہ بن لادن کی تلاش اس لئے کر رہا تھا تاکہ امریکیوں سمیت غیرملکی افواج کی افغانستان میں موجودگی کا جواز ختم کر سکے اور کہے کہ دیکھو اب تو بن لادن مل گیا چلو اب افغانستان سے اپنی افواج واپس نکالو وہ پاکستانی علاقوں پر امریکی ڈرون طیاروں کے حملوں کا بھی مخالف تھا۔اووربائے جہاں کہیں بھی ہے وہ 27 نومبر 2016ء کو 74 برس کا ہوچکا ہے اسکا تعلق امریکہ کی مغربی ریاست میسا چیوسٹس سے ہے اور اس کی کوئی اولاد ہیں اس کی عمررسیدہ اہلیہ جس کا وہ واحد سہارا ہے‘ اس کے بارے جاننے کے لئے بیتاب ہے کہ آخر وہ گذشتہ دو برس سے کہاں ہے اس نے درخواست کی ہے کہ اووربائے جس کسی کے بھی پاس ہے وہ اسے اللہ کے نام پر رحم کرتے ہوئے رہا کردے تاکہ وہ دوبارہ مل سکیں۔‘‘اسے بالخصوص اووربائے کی صحت کے بارے تشویش ہے جو مستقل ادویات لیا کرتا تھا اور اسے طبی معائنوں کی ضرورت رہتی تھی اسکا کہنا ہے کہ اووربائے کی صحت ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جس میں اسے طبی نگہداشت کی ضرورت ہے اُس کے کان میں ایک ناسور زخم ہے جس کا اگر علاج نہ ہوتا رہے تو وہ جان لیوا ہو سکتا ہے 1998ء میں جب وہ پشاور میں تھا تب یہ زخم ایک مرتبہ اِس حد تک خراب ہو گیا کہ اس کا زہر اس کے پورے جسم میں پھیل گیا اور پھر اسے ہسپتال داخل ہونا پڑا جہاں ڈاکٹروں نے اسے تاکید کی تھی کہ یہ زخم پھر بھی پھیل سکتا ہے اووربائے نے اپنی بیوی سے آخری مرتبہ بات 16مئی 2014ء کے روز کی تھی اور کہا تھا کہ وہ چند روز میں خوست واپس آ جائیگا اس نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر میں خوست واپس نہ آ سکوں تو سمجھ لینا کہ کچھ غلط ہو گیا ہے وہ یہ بجا کہہ رہا تھا۔

کیونکہ وہ افغانستان پاکستان سرحدی پرخطر علاقے میں ایک پرخطر سفر کی مہم جوئی کرنے کا عزم رکھتا تھا اگر وہ اغواہوچکا ہوتا تو اب تک اغواکار اسکی رہائی کیلئے تاوان کا مطالبہ کرچکے ہوتے یا پھر عسکریت گروہ اسکے بدلے اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے اووربائے کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے شک اس علاقے میں فعال عسکریت پسند گروہوں اور خفیہ اداروں پر ہوتا ہے حقانی نیٹ ورک ذرائع کا کہنا ہے کہ اووربائے انکے پاس نہیں حقانی نیٹ ورک کے پاس ایک مغربی جوڑا ہے امریکی خاتون سیٹلان کولمن اور اسکا کنیڈین خاوند جوشا بویل گذشتہ چار برس سے ان کے قبضے میں ہیں اور ان کے دو بچوں کی پیدائش اسی دوران ہوئی ہے انکے حالیہ ویڈیو پیغام میں کولمن نے صدر اوباما سے درخواست کی ہے کہ وہ اغواکاروں کے مطالبے کو اپنے عہدے سے سبکدوشی سے قبل یعنی بیس جنوری سے پہلے تسلیم کریں تاکہ انکی رہائی عملاً ممکن ہو سکے اسی طرح اووربائے کے اہلخانہ بھی تشویش کا شکار ہیں کہ ان کے عزیز کی اگر جلد بازیابی نہیں ہوتی تو وقت انکے ہاتھ سے بھی تیزی کیساتھ نکل رہا ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)