Home / اداریہ / فاٹا اصلاحات کے لئے ہوم ورک

فاٹا اصلاحات کے لئے ہوم ورک

قبائلی علاقوں میں اصلاحات سے متعلق معاملات فائنل راؤنڈ میں داخل ہوگئے ہیں اور وفاقی کابینہ کی جانب سے رواں ہفتے جامع اصلاحاتی پروگرام کی منظوری کا امکان ہے ۔ اس کے ساتھ ہی فاٹا کے پارلیمانی گروپ کے مشترکہ جرگے کیلئے بھی رابطے شروع ہیں قبائلی علاقوں کے انضمام کے حامی اور مخالف بھی اپنی اپنی حکمت عملی طے کر رہے ہیں۔ ملک کی بعض سیاسی جماعتیں بھی اس حوالے سے سرگرم ہیں قومی وطن پارٹی انضمام کیلئے دباؤ بڑھانا چاہ رہی ہے اور اس مقصد کے لئے انضمام کی حامی جماعتوں کو جلد ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا عندیہ دیا جا رہا ہے ۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما الیاس بلور قبائلی علاقوں کی بغیر کسی تاخیر کے خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ ن لیگ کے زیر اہتمام فاٹا ورکرز کنونشن ہو رہا ہے ۔حکومت فاٹا اصلاحات کا سارا عمل سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کرنے کا عزم رکھتی ہے اس وژن کے تحت خصوصی کمیٹی نے رابطوں کا طویل سلسلہ شروع کیا اور نمائندہ افراد سے ملاقاتیں کیں ۔

وزیراعظم نواز شریف اس ضمن میں اتحادی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لینے کا کہہ چکے ہیں ۔جہاں تک اصلاحات کا تعلق ہے ان سے کسی کو انکار نہیں قبائلی علاقوں کو تعمیر و ترقی شہری سہولیات کی فراہمی اور نچلی سطح پر عوامی نمائندگی کیلئے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ایک اہم مرحلہ ہے ہمارے ہاں حکومتوں کی جانب سے ہونیوالے بعض اہم اور تاریخی فیصلوں پر عملدرآمد اور ان کے برسر زمین نتائج آنے میں طویل گیپ اکثر اوقات مایوس کن صورتحال اختیار کر جاتا ہے ۔ میڈیا رپورٹس اور اب تک کا کام اس بات کی اطلاع دے رہا ہے کہ فاٹا سے متعلق اہم فیصلے جلد کر لئے جائینگے اس ضمن میں اعلان کے ساتھ ہی ضرورت حکومتی فیصلوں پر عملدرآمد اور انہیں ثمر آور بنانے کی ہوگی اس مقصد کیلئے بہتر یہی ہے کہ تمام متعلقہ سرکاری اداروں کے درمیان باہمی رابطے کو یقینی بنایا جائے۔ان اداروں کو حکومتی فیصلوں پر عملدرآمد کیلئے وسائل مہیا کئے جائیں اور انہیں اپنا ممکنہ سیٹ اپ بنانے کا کہا جائے بصورت دیگر حکومت کی جانب سے اعلان کے بعد جب یہ سارے کام شروع ہونگے تو ان کے عملی صورت اختیار

کرنے تک طویل عرصہ گزر چکا ہوگا۔
ملاوٹ اور جعلسازی ایک سوالیہ نشان

پشاور میں مقامی سطح پر جعلی سپرٹ کی تیاری اور اوپن مارکیٹ میں فروخت سوالیہ نشان ہے سواتی پھاٹک کے علاقے میں زہریلی شراب سے 6 افراد کی ہلاکت میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ میڈیکل سٹور سے خریدی گئی سپرٹ جعلی تھی جو شراب کو زہریلا بنا گئی ۔ شہر میں کھلے عام فروخت ہونیوالے دودھ کے 25 نمونوں کا تجزیہ کیا گیا جن میں سے 18 غیر معیاری نکلے یہی حال کھانے پینے کی دیگر اشیاء میں ملاوٹ کا بھی ہے جبکہ دو نمبر ادویات کی فروخت سے متعلق رپورٹس بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعے آتی رہتی ہیں ۔ صوبائی دارالحکومت کی ضلعی انتظامیہ نے جعلی سپرٹ اور غیر معیاری دودھ کی فروخت کا نوٹس لیتے ہوئے متحرک ہونے کا عندیہ ضرور دیا ہے لیکن ایڈمنسٹریشن کے وسائل اور مین پاور اس کاروائی کیلئے نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اس مقصد کیلئے ضلعی حکومت کو اپنے ماتحت محکموں کے وسائل بھی اس اہم کریک ڈاؤن کیلئے استعمال کرنا ہونگے ایڈمنسٹریشن کو یہ بات مد نظر رکھنا ہوگی کہ انسانی صحت اور زندگی سے جڑے معاملات ترجیحات میں سرفہرست ہی ہونے چاہئیں ۔ سیوریج لائنوں سے گزرنے والا گندہ اور آلودہ پانی پینے والے شہریوں کو دوا اور خوراک خالص اور صاف ملنی چاہیے۔