بریکنگ نیوز
Home / کالم / اصل سوال

اصل سوال


فوجی عدالتیں ایک مخصوص عرصہ کے لئے عمل میں آئیں جنکی متعین مدت ختم ہو چکی ہے اور جو مقدمات ان عدالتوں میں زیر سماعت تھے ا ن کو دہشت گردی کی مخصوص عدالتوں کی جانب موڑ دیا گیاہے کیا جس تعداد میں فوجی عدالتوں نے ٹرائل کرکے دہشتگردوں کو انجام تک پہنچایا ہے اگر یہ مقدمات سول عدالتوں میں چلتے تو کیا ان دہشتگردوں کو سزائیں مل سکتی تھیں ہمارا عدالتی نظام جس پٹڑی پر چل رہا ہے اس میں توجو فیصلے دہشتگردوں کے متعلق ان عدالتوں میں ہوئے تھے اور جس طرح بیسیوں قتل کرنے کا اعتراف کرنے والے قاتلوں کو محض اس لئے بری کر دیا گیا تھا کہ ان کے خلاف کسی نے گواہی نہیں دی تھی تو ایسے میں دہشتگردی پر کیسے قابو پایا جاتاکچھ ایسے کیسز بھی ہوئے کہ جس میں قاتل رنگے ہاتھوں پکڑے گئے اور باعزت بری ہو گئے اور دوسرے عدالتوں پر جو مقدمات کا بوجھ ہے اس سے تو ایک ملزم سولہ سولہ سال کی قید کاٹ کر باعزت بری ہوئے اور بعض تو باعزت بری ہونے سے قبل ہی اپنی زندگی کی سزا پوری کر گئے تو ایسے میں جلد فیصلوں کے لئے ایک ہی آپشن رہ گئی تھی کہ دہشت گردوں کی قسمت کے فیصلے جلد از جلد ہوں اور وہ تھی ملٹری کورٹس۔

جہاں حالات کو دیکھ کر سزائیں دی جاتی ہیں اسی وجہ سے دہشتگردی میں کمی آئی اب جو مقدمات ان عدالتوں میں رہ گئے تھے وہ سول عدالتوں کو بھیجے جا چکے ہیں تو ایک سوال ذہن میں اٹھتا ہے کہ اگر یہ عدالتیں اس قابل ہوتیں کہ دہشت گردوں کو فوری سزا دے سکتیں تو فوجی عدالتوں کی ضرورت ہی نہ پڑتی سول عدالتوں کے ججز کا مسئلہ فوجی عدالتوں سے قطعاً مختلف ہے یہاں ایک جج کو اسی معاشرے میں زندگی گزارنی ہے اس لئے اس کی حدود بھی محدود ہوتی ہیں ایگزیکٹ کے کیس میں سات ججوں نے مقدمہ لینے سے ہی انکار کیا تھااسکی کوئی تو وجہ ہوگی نا۔ اور جس عدالت میں یہ مقدمہ لگا اس نے بھی ایگزیکٹ والوں کو رہا کر دیااور یہی ایگزیکٹ والے امریکہ میں جا پھنسے اور وہاں سے سزا پائی اور جو عزت پاکستان کی اس کیس میں ہوئی وہ ساری دنیا نے دیکھی۔اب جو مقدمات فوجی عدالتوں سے سول عدالتوں کو منتقل ہوئے ہیں کیا اس میں ہمارے جج صاحبان اس جرات سے فیصلے سنا سکیں گے؟ یاد رہے کہ یہ عام مقدمات نہیں ہیں یہ دہشت گردی کے مقدمات ہیں جن کا نیٹ ورک باقاعد گی سے کام کر رہا ہے اور ان کے ہاتھ اتنے لمبے ہیں کہ انصاف کرنے والے جج کے گھر تک پہنچ سکتے ہیں ایسے میں یہ توقع رکھنا کہ ان مقدمات کا انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلہ ہو گا۔ ہمیں تو ناممکن لگتا ہے ۔ اس لئے کہ ہم جج کو نصاف کی کرسی پر تو بٹھا سکتے ہیں مگر اس کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتے جج کی بیوی بچوں نے اسی معاشرے میں زندہ رہنا ہے اور یہیں پر تعلیم حاصل کرنی ہے اور دہشت گردوں کا نیٹ ورک جس طرح کام کرتا ہے اس سے جج کے متعلقین کو کیسے تحفظ دیں گے؟

اس کے بعد یہ توقع رکھنا کہ جج انصاف پر مبنی فیصلہ کر سکیں گے۔ دوسری بات کہ عدالتیں تو گواہ مانگتی ہیں اور ایسے لوگوں کے خلاف کوئی گواہی دینے کو تیارنہیں ہوتا اور اگر گواہ نہیں ہو گا تو سزا نہیں ہو گی اور دہشت گرد اپنے آرام سے با عزت بری ہو کر اپنے گینگ میں شامل ہو جائے گاہم یہ نہیں کہتے کہ فوجی عدالتیں ہی ہمارے ملک میں کام کریں مگر جب حالات میں تبدیلی نہیں آ سکی اور یقیناً نہیں آ سکی تو بہتر یہی ہے کہ ان عدالتوں کے وقت میں اضافہ کیا جائے یا سول کورٹس کے قانون میں ایسی تبدیلیاں لائی جائیں کہ تفتیشی ایجنسی کی رپورٹ کو حتمی گردانا جائے۔ اس لئے کہ اگر ایک ایجنسی یا پولیس ایک مجرم کو پکڑتی ہے اور اس کے خلاف ثبوت مہیا کرتی ہے اور اس کے حلفی بیان کو کورٹ کے سامنے پیش کرتی ہے تو اس پر اعتماد کیا جانا چاہئے اسی طرح ایجنسیاں اور پولیس صحیح تفتیش کر سکیں گی اب جبکہ پولیس کو یا ہماری قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو یہ معلوم ہو گا کہ ان پر عدالت نے اعتبار نہیں کرنا تو وہ تفتیش کو صحیح طرح کرنے کی کوشش کیوں کریں گی اور جب تفتیش صحیح نہیں ہوگی تو عدالت کیسے فیصلہ کر پائے گی یہ بات تو آسان ہے کہ کیونکہ ہم نے ایک متعینہ مدت تک فوجی عدالتیں قائم کی تھیں اور وہ وقت ختم ہو گیا ہے اس لئے ان عدالتوں کی اب ضرورت نہیں ہے۔ کوئی دلیل نہیں ہے کیا فوجی عدالتوں کی ضرورت ختم ہو گئی ہے ؟ یہ ہے اصل سوال۔