65

قابلِ تقلید

ملک و قوم کا درد رکھنے والے لوگوں کا رویہ اپنے قوم کے معماروں کیلئے کیسا ہونا چاہئے یہ اس دور کابڑا مسئلہ ہے‘ جمہوریت کا ایک پھل جو ہمیں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے توسط سے ملا تھاوہ یہ کہ مزدور مل کا اصل مالک ہے اور طالب علم کسی بھی تعلیمی ادارے کے اصل مالک ہیں اور تمام اساتذہ انکے نوکر ہیں ‘ اسکا جو نقصان تعلیمی اداروں کو ہوا اس کو ہم آج تک بھگت رہے ہیں‘ایسے میں کوئی ایسا عمل جو طلباء کو اپنے اصل مقصد کی طرف لے جائے ہمارے خیال میں طلباء کیلئے آب حیات کا درجہ رکھتا ہے۔ ہمارے ہائر ایجوکیشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سید سبحان اللہ شاہ صاحب اسلئے قابل ستائش ہیں کہ وہ طلباء کو اپنے اصل مقصد کی طرف لانے کیلئے مختلف اقدامات سوچتے اور ان کو عملی جامہ پہناتے رہتے ہیں‘ ہم سمجھتے ہیں کہ طلباء کو اگر مثبت سمت میں لے جایا جائے تو انکی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کیا جا سکتا ہے اور ان کو روز روز کی ہڑتالوں اور منفی اقدامات سے روکا جا سکتا ہے اس کیلئے انکی ان صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ جو ان کا حقیقی میدان ہے‘ طلباء کو تحریر و تقریر کے مواقع فراہم کر کے ہم ان کو ان سیاسی عناصر سے آزاد کروا سکتے ہیں جو ان کو منفی سرگرمیوں کی جانب لے جاتے ہیں۔ طلباء کو دانشوروں اور جید اساتذہ کے ساتھ بٹھا کر ان کے مباحثے کروائے جائیں تا کہ ان کی فکری تربیت ہو ان کے ذہنوں سے انتہا پسندی مٹائی جائے اور انہیں معاشرے کا کارآمد شہری بنایا جائے۔

اسی بات کو پیش نظر رکھ کر ڈاکٹر صاحب نے تمام کالج سربراہوں کی کالج میگزین کی طرف توجہ دلائی ہے اور اسے ایک مقابلے کا روپ دیاتاکہ طلباء بجائے منفی سرگرمیوں کے اپنی ذہنی صلاحیتوں کو مثبت انداز میں استعمال کریں‘چنانچہ صوبے کے چند ایک کوچھوڑکرتمام کالجوں نے اپنے اپنے سالانہ مجلوں کو شائع کرنے کا اہتمام کیا اور ہائر ایجوکیشن نے ان کو مقابلے کی شکل دیکر ان میں اول دوم اور سوم آ نیوالے مجلوں اورانکے لکھاریوں کے لئے انعامات کا اہتمام کیا اور گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج منڈیاں ایبٹ آباد کے سبزہ زار میں چھ اکتوبر کواس کالج کے سربراہ پروفیسر غلام رسول صاحب کے زیرنگرانی ایک عالی شان تقریب تقسیم انعامات کا اہتمام کیا‘پوسٹ گریجویٹ کالج منڈیاں کو میزبانی کے فرائض اسلئے دیئے گئے کہ انکے ادارے کا مجلہ ’ صد برگ ‘ اس مقابلے میں اول انعام کاحقدارقرار دیا گیا ‘ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج سوات کے مجلے ’ایلم ‘کو دوسرے اور گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مانسہرہ کے مجلے ’کنہار ‘ کو تیسرے انعام کا مستحق قرار دیا گیا ‘ اس کے علاوہ تمام تعلیمی اداروں کے مجلوں میں لکھنے والوں کو بھی انعامات سے نوازا گیا اور مزے کی بات یہ ہے کہ وہ ادارے جن کے نام سے بھی کم لوگ واقف ہیں انکے طلباء لکھاریوں نے بھی اردو‘ انگریزی اور علاقائی زبانوں میں اول‘ دوم اور سوم انعامات حاصل کئے ‘ جس سے یہ ثابت ہوا کہ اگر ہم طلباء کو مواقع فراہم کریں تو وہ بہت اچھے لکھاری ثابت ہو سکتے ہیں۔

اس کیساتھ ہی ان اساتذہ کی بھی حوصلہ افزائی کیلئے انعامات رکھے گئے جنہوں نے ان مجلوں کو شائع کرنے کا اہتمام اور اپنے طلباء کو ان میں لکھنے کی طرف مائل کیا‘طلباء لکھاریوں میں انگریزی کا اول انعام گورنمنٹ ڈگری کالج لاہور صوابی کے محمد عاقب نے حاصل کیا ‘اردو کا اول انعام جی پی جی سی سوات کے محب اللہ کو ملا ‘ پشتو کا اول انعام جی پی جی سی سیدوشریف کی آنسہ عائشہ نے حاصل کیا ‘ہندکو کا اول انعام جی پی جی سی ہری پور کی آنسہ صبا رشید کو ملا ‘کھوار کا اول انعام جی سی بونی کی آنسہ حنا جمال نے حاصل کیا ‘ اسی طرح ان اساتذہ کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی جنہوں نے ان مجلوں میں لکھا‘ ان میں انگریزی‘ اردو‘ پشتو‘ ہندکو‘ کھوار اور سرائیکی میں اول ا نعامات بالترتیب پروفیسر سراج محمد ( چترال) پروفیسر انور بابر (منڈیاں ایبٹ آباد)پروفیسر گوہر نوید (کاٹلنگ) پروفیسر اورنگ زیب غزنوی( حیات آباد) ژپروفیسر ممتاز حسین (بونی) پروفیسرحاجی افسر ( ڈی آئی خان )نے حاصل کئے‘اسکے علاوہ اول دوم اور سوم آنیوالے مجلوں کے ایڈیٹروں کو بھی انعامات سے نوازاگیا‘اس سب تگ ودو میں جو کام ڈائرکٹوریٹ ہائر ایجوکیشن کے عملے نے کیا اس کو بھی یاد رکھا گیااور انکی محنت کا صلہ بھی انعامات کے طور پر ان کو دیا گیا‘ہم سمجھتے ہیں کہ اس قسم کی ترغیبات او ر تقریبات یونیورسٹیوں میں بھی کی جائیں تو ہمارے طلباء اپنی توانائیاں سیاسی لیڈروں کی جھولی میں ڈالنے کی بجائے اپنے اداروں کی خدمت میں لگائیں گے۔