54

حکمران اور عوام

بات اگرعوامی نکتہ نظر کی کی جائے تو عوامی رائے کے مطابق اچھی حکومت سے مراد وہ حکومت ہوتی ہے جسکے دور اقتدار میں لوگ خود کو مطمئن ‘ محفوظ اور خوشحال محسوس کررہے ہوں یا کم از کم انھیں یہ محسوس ہو رہا ہو کہ وہ تیزی سے تحفظ ‘اطمینان اور خوشحالی کی منزل کے قریب ہو رہے ہیں‘اسی نکتہ نظر کے تحت بد امنی‘ غربت‘جہالت‘بے روزگاری‘ مہنگائی اور دیگر متعدد مسائل کا شکار خیبر پختونخوا کے باشندے ایک عرصے سے اپنی توقعات کی تکمیل کا خواب دیکھ ہے ہیں‘اس خواب کی تعبیر کی امید پر 1988ء سے لیکر1997ء تک صوبے کے لوگوں نے پی پی پی اور مسلم لیگ (ن)کو باری باری اختیارحکمرانی سے سرفراز کیا تاہم یہاں کے رہنے والے ان حکومتوں سے وابستہ توقعات کا جہاں آباد ہوتے نہ دیکھ سکے یہاں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ مذکورہ دور میں منتخب حکومتوں کی قبل از وقت رخصتی کا سلسلہ عوامی خواہشات کی عدم تکمیل کے جواز کے طور پر پیش کیا جا تاہے ۔ 2002ء کے عام انتخابات میں صوبے کے عوام نے مذہبی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے کو صوبے میں حق حکمرانی بخشا‘اس مرتبہ اگرچہ صوبائی حکومت نے پانچ سال مکمل کئے تاہم یہ دور حکمرانی بھی صوبے کے عوام کیلئے امن ‘ترقی ا ور خوشحالی کا زینہ ثابت نہ ہو سکا‘2008ء میں خیبر پختونخواوالوں نے قوم پرست اے این پی کو ملک گیر سیاسی قوت پی پی پی کے ساتھ ملکر صوبے کے اندھیروں کو روشنیوں سے آشنا کرنے کی ذمہ داری سونپی ‘اس دورحکومت میں 18ویں ترمیم کی بدولت صوبائی حکومت کے اختیارات اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبائی حکومت کے وسائل میں نمایاں اضافہ ہوا ۔

کہیں کہیں ترقیاتی اور عوامی فلاح کے منصوبے ماضی کی نسبت تیزی سے آگے بڑھتے دکھائی بھی دیئے تاہم سرکاری وسائل کی لوٹ کھسوٹ ‘میرٹ کی خلاف ورزیاں اور ان جیسی دیگر قباحتیں حکومتی کارکردگی کے ماتھے کا بدنما داغ بن گئیں ‘نتیجتاً صوبے کے عوام کواپنے فیصلے پر جس قدر پچھتاوا اورمایوسی اے این پی ،پی پی پی اتحادکے دور میں ہو ئی شاید ہی پہلے کبھی ہوئی تھی۔ اسی پچھتاوے اور مایوسی کے وجود سے جنم لینے والا ردعمل مئی 2013ء کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کوخیبر پختونخوا میں مسند اقتدارتک پہنچانے کی وجہ بنا۔مئی 2013ء سے مئی 2018ء تک پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے اکابرین اور پارٹی قیادت کی مشترکہ کوشش رہی کہ خیبر پختونخوا میں تبدیلی کے ایجنڈے پر عملدرآمد کیا جائے اور پرانے خیبر پختونخوا میں نئے خیبر پختونخوا کی بنیاد ڈالی جائے ‘اس سلسلے میں اعلیٰ سرکاری افسران کے اجلاسوں میں پی ٹی آئی کے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے ممکنہ لائن آف ایکشن کے مختلف زاویے زیر بحث آئے‘ ورکنگ گروپس قائم ہوئے جنھوں نے بدعنوانی کے خا تمے‘لاقانونیت کے تدارک‘ یکساں نظام تعلیم ‘پٹوار کلچر سے نجات اور عوامی امنگوں سے ہم آہنگ نظام حکومت کی تشکیل کیلئے درکار اصلاحات کا تعین کیاپھر ان گروپس کی سفارشات کی روشنی میں بڑے پیمانے پر قانون سازی عمل میں آئی۔

ان تمام اقدامات کے نتیجے میں صوبے میں بدعنوانی کی شرح میں کمی واقع ہوئی محکمہ پولیس میں اصلاحات ممکن ہوئیں اور اس کیساتھ ساتھ پٹواریوں کی من مانیوں کو لگام ڈالنے‘ماضی کے مقابلے میں بھرتیوں میں میرٹ کی بالادستی یقینی بنانے اور ترقیاتی منصوبوں میں پیشرفت جیسے معاملات میں بہتری دیکھنے میں آئی‘اس دور حکومت میں بھی اگرچہ عوامی توقعات تکمیل کی منزل تک نہ پہنچیں تاہم بحیثیت مجموعی پی ٹی آئی حکومت کی بہتر گورننس اور ماضی کی نسبت بہتر کارکردگی نے صوبے کے عوام کوجواطمینان بخشا اس نے انھیں ایک بار پھر تحریک انصاف کو حکومت میں لانے کی تحریک دی یوں اس مرتبہ انھوں نے پی ٹی آئی کو زیادہ بھاری اکثریت کیساتھ خیبر پختونخواکا حکمران بنایا‘ صوبے کے عوام کی رائے اب بھی یہی ہے کہ جب تک وہ خود کو تحفظ‘ اطمینان اور خوشحا لی کی منزل کے قریب نہیں پاتے تب تک وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ جس تبدیلی کی خواہش و خیال کے زیر اثر انھوں نے تحریک انصاف کو ایک بار پھر حکومت کا موقع دیا ہے وہ وجود پا گئی ہے۔یہ عوامی رائے صوبے کے حکمرانوں کو پیغام دے رہی ہے کہ وہ حالیہ عام انتخابات میں ملنے والے بھاری عوامی منڈیٹ کوا پنی بہترین کارگزاری کا سر ٹیفکیٹ سمجھتے ہوئے مطمئن نہ ہوں بلکہ صوبے سے غربت ‘ جہالت‘ بے روزگاری اور جرائم کے خاتمے‘ صحت سمیت دیگر شہری سہولتوں کی فراہمی کو موجودہ تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور عوامی مسائل حل کرنے کیلئے پہلے سے زیادہ مستعدی کیساتھ پیش قدمی کریں ۔