200

احتساب کا عمل شروع ہوچکا، اب سب ججز کا احتساب ہوگا: چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس میں کہا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل اب بہت فعال ہے اور احتساب کا عمل شروع ہوچکا ہے۔

ہائیکورٹس کی ذیلی عدالتوں سے متعلق سپروائزری کردار کے بارے میں کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ اب سب ججز کا احتساب ہوگا، لوگ چیخ چیخ کر مر رہے ہیں اور انصاف نہیں مل رہا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے بنچ نمبر ون نے سات ہزار کیس نمٹائے، ججز سے پوچھتے ہیں تو وہ کہتے ہیں 20 کیس نمٹائے۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ کم کیسز کے فیصلے کرنے والے ججز کے خلاف بھی آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی ہوگی اور ججز کو چھٹی والے دن کی تنخواہ نہیں ملے گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ اپنی سپروائزری ذمے داریوں میں ناکام نظر آتی ہے،  لوگ تڑپ رہے ہیں، بلک رہے ہیں لیکن کسی کو کوئی فکر نہیں، ہائیکورٹس کی نگران کمیٹیاں ان معاملات کو کیوں نہیں دیکھ رہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے 'ہر جج کو گاڑی چاہیے، بنگلہ چاہیے،مالی چاہیے، مراعات چاہئیں، کیا ہم ہائیکورٹ کی نگراں کمیٹیوں کے ججز کو چیمبر میں بلا کر کارکردگی پوچھیں'۔

چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے سوال کیا اگر کہیں ہائیکورٹ کے سپروائزری کردار سے مطمئن نہیں تو کیا کہیں گے جس پر انہوں نے جواب دیا آپ کے حکم کی تعمیل کریں گے۔یاد رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر جج شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹادیا گیا تھا۔

شوکت عزیز صدیقی نے رواں سال 21 جولائی کو راولپنڈی بار میں خطاب کے دوران حساس اداروں پر عدالتی کام میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا، ان کے اس بیان پر سپریم جوڈیشل کونسل نے از خود کارروائی کی۔

جسٹس شوکت صدیقی ملکی تاریخ کے دوسرے جج ہیں جن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔اس سے قبل 1973 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت علی کو بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔