1308

بھارتی اشتعال انگیزی اور امریکی مطالبات

بھارتی فورسز کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں جمعہ کے روز 2شہری شہیدہو گئے‘ اس سے ایک روز قبل سیالکوٹ ورکنگ باؤنڈری کے ہرپال ‘چاروا ‘باجڑی گڑھی‘ سجیت گڑھ اور چیراڑ سیکٹروں پر بھارتی فورسز کی گولہ باری میں 2خواتین شہید ہوئیں جبکہ پنجاب رینجرز کی جوابی کاروائی میں بھارتی چیک پوسٹ مکمل تباہ ہو گئی‘ بھارتی اشتعال انگیزی کا سلسلہ جمعہ کو بھی جاری رہا جس میں پنجاب رینجرز کی منہ توڑ جوابی کاروائی پردشمن کی گنیں خاموش ہو گئیں‘ اسلام آباد میں تعینات بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا‘بھارت پر واضح کردیاگیا ہے کہ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری کی خلاف ورزی 2002ء کے سیز فائر معاہدے سمیت عالمی قوانین کے بھی منافی ہے‘ ایک جانب بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو رہا ہے تو دوسری طرف مقبوضہ وادی سے متعلق اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو سرد خانے میں بھی ڈالے ہوئے ہے‘ بھارت پاکستان کیساتھ تصفیہ طلب امور پر بات چیت سے کسی نہ کسی بہانے فرار کی راہ اختیار کرتا چلاآرہا ہے‘ خطے میں امن کی خواہش کیساتھ پاکستان کی دہشت گردی کیخلاف جنگ ریکارڈ کا حصہ ہے‘ افغانستان میں امن کے قیام کیلئے کوششوں کیساتھ پاکستان لاکھوں افغان مہاجرین کا میزبان بھی ہے‘ا س سارے منظر نامے میں بھارت کی جانب سے اشتعال انگیزی اور مداخلت کے جاری سلسلے میں امریکہ کی طرف سے ڈومور کے مطالبات بھی نہیں رک رہے‘ ۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان کہہ رہی ہیں کہ امریکہ نے پاکستان کو اپنے تحفظات اور تشویش واضح طورپر بیان کردی ہے‘ خطے کی صورتحال میں پاکستان کا کردار اور موقف بالکل شفاف ہے جبکہ بھارتی منفی رویہ بھی سب کے سامنے ہے‘ ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی برادری اس ساری صورتحال کا نوٹس لے اور غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے درست اور اصولی موقف کو سپورٹ کرے‘ اس سب کیساتھ ضرورت ملک کے سیاسی معاملات میں تحمل اور ٹھہراؤ کی ہے جو اس وقت پارلیمان پر لعنت بھیجنے اور لعنت مسترد کرنے تک پہنچ چکا ہے اور قومی اسمبلی نے مذمتی قرار داد بھی منظور کرلی ہے‘ سیاسی قیادت کو چاہئے کہ آپس کے اختلافات کو حد سے زیادہ نہ جانے دے اور معاملات کو سلجھانے پر توجہ مرکوز کی جائے۔
 

گیس سلنڈر‘کٹس محفوظ بنانے کی ضرورت وطن عزیز کے دیگر حصوں کی طرف خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں سلنڈر پھٹنے اور لیکج کے باعث حادثات اور نقصانات ہوتے رہتے ہیں‘ ان حادثات کا تدارک گیس سلنڈرز کے معیار کو یقینی بنانے اور اس کو ایک مقررہ وقت کیساتھ چیک کرنے سے ممکن بنایاجاسکتا ہے‘ ضرورت سی این جی کٹس کو بھی محفوظ بنانے کیلئے اسی طرح کے اقدامات کی ہے جبکہ مجموعی طورپر قدرتی گیس کی سپلائی لائنوں اور میٹرز کی دیکھ بھال کا موثر انتظام حادثات کی روک تھام یقینی بنا سکتا ہے‘ اس مقصد کیلئے ضرورت سرکاری طورپر گیس سپلائی سسٹم میں ایمرجنسی کیلئے ہیلپ لائن سسٹم کو زیادہ موثر بنانے کیساتھ سلنڈرز اور سی این جی کٹس کی فوری مرمت کیلئے بھی انتظامات کی ہے تاکہ حادثات سے بچا جاسکے‘ اس سارے کام میں ایس این جی پی ایل سے بھی معاونت لی جاسکتی ہے۔