347

جارحانہ خاموشی

وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری کے بقول جس جمہوریت میں عوام کے بارے میں نہ سوچا جائے وہ چل نہیں سکتی‘ لیکن پاکستان میں وہی جمہوریت و غیر جمہوری حکومتیں چلتی رہی ہیں جنہوں نے عوام کے بارے میں نہیں سوچا‘سیاسی فیصلہ سازوں کے ہاں پائی جانیوالی سوچ کے دو رخ ہیں‘یہی سوچ بول کر اظہار کرتی ہے اور کبھی خاموش دکھائی دیتی ہے جیسا کہ ان دنوں یہ سوال ہر فورم پر زیربحث ہے ہے کہ آخر مسلم لیگ نواز کے تاحیات قائد نواز شریف نے جارحانہ خاموشی کیوں اختیار کر رکھی ہے‘ جوانکے مزاج سے میل بھی نہیں رکھتی اور ماضی کی طرح مریم نواز کے ٹوئٹر ہینڈل سے پیغامات کا سلسلہ کیوں رک گیا جبکہ وہ قید میں بھی نہیں اور ضمانت پر آزاد و باسہولت زندگی بسر کر رہی ہیں؟ نواز لیگ کی خاص حکمت عملی کیا ہے؟ پاکستان کی سیاسی تاریخ میںیقیناًایسا پہلی مرتبہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ حزب اختلاف کی ایک بڑی سیاسی جماعت نے سکوت اختیار کرنے ہی میں عافیت محسوس کی ہے‘ اسے کرکٹ کی دنیا میں بیک فٹ پر کھیلنا کہا جاتا ہے۔ نواز لیگ نے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھا ہو یا نہ ہو لیکن جانتی ہے کہ اسکی موجودہ مشکلات میں زیادہ تر کا تعلق اس کی اپنی ہی غیرمحتاط بیان بازی سے ہے جبکہ پارٹی اعلیٰ قیادت نے خاموشی اور نچلے درجے کی قیادت نے جارحانہ انداز اختیار کر رکھا ہے ۔

جن میں مشاہد اللہ خان‘ شاہد خاقان‘ خواجہ سعد رفیق اور دیگر شامل ہیں اور نہ تو خاموشی کارگر ہے اور نہ ہی جارحانہ انداز کام آ رہا ہے۔ دوسری طرف تحریک انصاف کی صوبہ پنجاب میں مشکلات ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہی ہیں۔ اب یہ سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ اس وقت صوبہ پنجاب میں طاقت کا مرکز کون ہے کیونکہ ایک طرف پرویز الٰہی فیصلے کر رہے ہیں‘ تو دوسری جانب گورنر پنجاب چوہدری سرور اپنے طور پر فیصلے لے رہے ہیں لیکن صوبے کے وزیراعلیٰ کوئی فیصلہ نہیں لے پا رہے ہیں‘ تو اس صورتحال میں مسلم لیگ نواز سمجھتی ہے کہ وہ سخت مؤقف اپنائیں اور تحریک انصاف پر سیاسی طور پر حملہ کریں۔ شب خون مارا جائے لیکن آئندہ چند ماہ تک نواز لیگ کی یہی پالیسی رہے گی اور خاص کر جبکہ اعلیٰ قیادت کے خلاف عدالتوں میں مقدمات ہیں تو وہ جارحانہ طرزعمل اختیار نہیں کریں گے کیونکہ عام انتخابات ابھی پانچ برس دور ہیں لیکن بلدیاتی انتخابات قریب آنے پر شاید اس پالیسی میں یکسر تبدیلی نظر آئے‘ ایسی صورت میں کیا نواز لیگ کو یو ٹرن لینے کا طعنہ دینا جائز ہوگا؟ نواز لیگ کے سربراہ کی جیل سے ضمانت پر رہائی کے بعد سے پارٹی اور انکی ذاتی حکمت عملیاں الگ الگ ہیں اور یہی بات نواز لیگ کے کارکنوں کیلئے پریشانی کا باعث ہے۔ ملکی حالات بھی کچھ ایسے ہی ہیں کہ حزب اختلاف اگر کوئی بات کرے تو حکومت اور اس کے حمایتی اسے سازش سمجھ لیتے ہیں لیکن اس وقت حکومت اور انکے حامی اتنی غلطیاں خود کر رہے ہیں ۔

کہ انکے خیال میں نواز شریف یہ سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف کی اصلیت خود ہی سامنے آ جائے اور ہمارے کندھے پر رکھ کی کوئی بات نہ کی جائے۔ گذشتہ ماہ نواز لیگ کے رہنما رانا مشہود نے نجی ٹیلی ویژن کو انٹرویو میں فوج کیساتھ معاملات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ’’معاملات بڑی حد تک ٹھیک ہو چکے ہیں۔‘‘ اس پر صحافی نے سوال کیا کہ یہ معاملات ٹھیک کیسے ہوئے؟ تو اس پر رانا مشہود نے کہا کہ ’فوج کو یہ سمجھ آ گئی ہے کہ انہوں نے جسے گھوڑا سمجھا تھا وہ خچر نکلا‘ اس پر فوری ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پاک فوج نے رانا مشہود کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا‘ لیگی قیادت سے جب یہ پوچھا جائے کہ وزیراعظم عمران خان این آر او نہ دینے کی بات کر رہے ہیں تو یہ این آر او کون مانگ رہا ہے تو اس پر لیگی قیادت فوراً فوج کا نام لیتی ہے کہ جو بھی کرنا ہے وہ فوج کے اِدارے نے کرنا ہے یا پھر ہائی کورٹ‘ سپریم کورٹ‘ نیب جیسے اِدارے این آر او دے سکتے اور صاف ظاہر ہے کہ ان میں کوئی بھی نواز لیگ کے حق میں نہیں! کیونکہ موجودہ وقت میں اگر فوج نے بھی این آر او دینا ہو تو کیا راتوں رات عدالتوں میں زیرسماعت کیسز ختم ہونا ممکن ہو جائیں گے؟ کسی ممکنہ این آر او کا حصول اسوقت ممکن تھا جب نوازشریف نے جی ٹی روڈ پر ووٹ کو عزت دو کی تحریک چلائی لیکن اب بہت دیر ہو چکی ہے!این آر او مانگنے کی بات تحریک انصاف کی طرف سے کہی گئی اور نواز لیگ کی جانب سے مسلسل تردید ہوئی جس سے این آر او علامتی چیز بن گئی ہے‘ماضی میں اس قسم کے معاہدے ہونے کے بعد زیربحث آتے تھے اور یہی وجہ تھی کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہتی تھیں۔ آج رابطے ٹوٹ چکے ہیں۔ اعتماد باقی نہیں اور سوالات اپنی جگہ موجود ہیں کہ اگر کوئی مفاہمت ہو گئی ہے‘ تو کیا فوج اس ڈیل کا حصہ ہے اور اگر کوئی ڈیل ہوئی ہوتی تو شہباز شریف کو اس طرح سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ؟ این آر او ہوتا تو کیا نواز شریف کے خلاف عدالت میں فاسٹ ٹریک مقدمہ چل رہا ہوتا؟