353

مہمند ڈیم سے ہونے والی بابرکت ابتداء

چیف جسٹس کے توجہ دلانے اور ڈیم فنڈنگ تحریک شروع ہونے کے بعد پہلے مہمند ڈیم کے سنگ بنیاد کی تاریخ طے ہو گئی ہے اس میگا پراجیکٹ کی تاریخ افتتاح میں تبدیلی پر مشاورت نہ کرنے بلکہ نظر انداز کرنے پر چیف جسٹس نے بھی ناراضگی کا اظہار کیا چیف جسٹس 17 جنوری کوریٹائرڈ ہو رہے ہیں ان کا یہ آخری ہفتہ ہے اس لئے دفتری اور عدالتی مصروفیات بھی زیادہ ہونگی اس لئے مجوزہ نئی تاریخ کو ان کی شمولیت غیر یقینی ہو گئی ہے حالانکہ جس طرح اس قومی مسئلے کو اجاگر کرکے قومی سطح پر شعور بیدار کرنے میں چیف جسٹس نے کردار ادا کیا ہے یہ ان کا حق ہے کہ افتتاحی تقریب میں وہ شامل ہوتے انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ڈیم فنڈز ریزنگ تحریک چلانے اورمزید ڈیم بنانے کی مہم جاری رکھنے کا عزم کر رکھا ہے اس لئے حکومت کی طرف سے اہم تقریب میں نظر انداز کرنے پران کا گلہ بجا ہے بہرحال قوم منتظر ہے کہ دیر کے بعد ہی سہی کسی بڑے قومی پراجیکٹ پر کام کو شروع ہو مجوزہ مہمند ڈیم کیلئے کل6868 ایکر زمین خریدی جانی ہے ابھی818 ایکڑ کی خریداری ہو چکی ہے اور مبینہ طور پر مقامی عمائدین نے قومی منصوبے کیلئے تخمینہ سے کم قیمت پر اراضی منتقل کر دی ہے جس سے 2 ارب روپے کی بچت ہوئی ہے دوسرے مرحلے کیلئے چھ ہزار ایکڑ زمین30 جون تک حاصل کی جائے گی جبکہ دسمبر2019ء تک تمام مطلوبہ اراضی کی خریداری مکمل ہو جائے گی بڑے منصوبوں میں بچت کا پتہ نہیں کیا فارمولا رکھا جاتا ہے اب کل اراضی کا محض12 فیصد خریدنے سے اگر2 ارب روپے کی مبینہ بچت ہوتی ہے۔

تو اس کا مطلب ہوا کہ کل خریداری میں 15 سے16 ارب کی بچت ہو جائے گی اس سے پہلے پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف یہ دعویٰ کیا کرتے تھے کہ انہوں نے میٹرو لاہور اور ملتان میں اربوں روپے بچائے ہیں اس پر ان کو شاباش ملنی چاہئے یہ الگ بات ہے کہ ان پر قومی دولت ضائع کرنے اور لوٹنے پر مقدمے چل رہے ہیں اور آج کل جیل میں ہیں اب مہمند ڈیم کی زمین خریداری میں بچت کی بات سامنے آئی ہے اس سے یہی چلتا ہے کہ تخمینہ لاگت لگانے والے زمینی حقائق کی بجائے محض فرضی خدشات کو پیش نظر رکھ کر بجٹ بناتے ہیں ہو سکتا ہے کہ سامنے آنے والی بچت کسی کی جیب کیلئے رکھی گئی ہو مگر اب حالات جس طرح بدعنوانی اور ناجائز آمدنی کے خلاف چل رہے ہیں کوئی بھی اس طرح کی بچت کو ہاتھ لگانے کو تیار نہیں ہو سکتا اس ڈیم کی تعمیر سے پہلے ہی ایک کنسٹرکشن کمپنی کو ٹھیکہ ملنے پر متنازعہ بنانے کی کوشش ہو رہی ہے حالانکہ مذکورہ کمپنی چند دن پہلے صرف یہی ٹھیکہ لینے کیلئے نہیں قائم ہوئی یہ ایک تجربہ کار کمپنی ہے اور اس سے پہلے دو ڈیم بنا چکی ہے ‘اس پس منظر میں مہمند ڈیم کا ٹھیکہ حاصل کرنے والی کمپنی کا حق بنتا ہے کہ وہ اپنے تجربے کی بنیاد پر کام کرے ڈیم بنانا ایک طویل المعیاد منصوبہ ہوتا ہے۔

یہ درخت لگاتا کوئی ہے مگر پھل کوئی اورکھاتا ہے یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چالیس سال کے دوران کسی بڑے ڈیم پر کام شروع نہیں ہوسکا ہر حکومت چاہتی ہے کہ وہ ایسا منصوبہ شروع کرے جس کا سنگ بنیاد بھی رکھے اور افتتاح بھی خود ہی کرے اسی لئے آبپاشی اور سستی بجلی کی اشد ضروریات کو نظر انداز کیا گیا اور بجلی پیدا کرنے کے مہنگے منصوبے شروع کئے گئے جو چند سال میں مکمل ہو گئے اسی بھیڑ چال میں ضرورت سے زیادہ پیداواری یونٹ لگائے گئے اب ان کو چلانے کیلئے فرنس آئل ہے نہ ہی گیس اور کمپنیوں سے بجلی خریدنا مجبور ی ہے عام صارف کو بجلی اوسطاً29 روپے یونٹ ملتی ہے جبکہ چوری کرنے والی بجلی کی قیمت بھی بل دینے والوں پر ڈال دی جاتی ہے وزارت بجلی کے حکام کے مطابق اس وقت ملک میں بجلی پیداوار کی صلاحیت 31 ہزار میگاواٹ ہے جبکہ گرمیوں میں زیادہ سے زیادہ کھپت24 ہزا ر میگاوٹ ہوتی ہے مگر بجلی ترسیل کی صلاحیت صرف 21 ہزار میگاواٹ ہے اب تقریبا10 ہزار میگاواٹ کے کارخانے موجود ہیں جو ہم استعمال میں لاہی نہیں سکتے یہ کیوں لگائے گئے اس بات کاکھوج بھی نیب ہی لگائے گا اب اصل ضرورت پر توجہ دی گئی اور ڈیم بنانے کی ابتدا ہوئی تو اس میں برکت اور بچت بھی شروع ہو گئی ڈیموں سے حاصل ہونے والی بجلی آج بھی3 سے 4 روپے یونٹ میں پڑتی ہے اب دعا کریں کہ مہمند ڈیم سے شروع ہونے والی تحریک آگے بڑھے اور دیامیر بھاشا بھی مکمل ہو۔