387

بحران حل

جس طرح صحافت اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہے اسی طرح حکومت اور صحافت میں ہمیشہ اختلاف اور دشمنی بھی مستقل سلسلہ ہے‘ ماضی میں حکومتیں ناپسندیدہ اخبارات وجرائد کے اشتہارات بندکرنے اور مخالف صحافیوں کو نوکریوں سے بے دخل کرنے سے لیکر مقدمات قائم کرنے تک کے حربے استعمال کرتی رہیں‘ یہ الگ بات ہے کہ ایک حکومت میں معتوب رہنے والے دوسری حکومت میں محبوب ہوتے رہے‘ مگر موجودہ حکومت نے صحافت اور میڈیا کو ایسی سزا دی ہے کہ کوئی خاص نشانہ نہیں اور سب ہی متاثر ہیں‘ میڈیا ہاؤسز کے مالکان سمجھتے ہیں کہ انکے خلاف فیصلے ہوئے ہیں جبکہ عامل صحافی اپنا رونا رو رہے ہیں کہ روزگار ان کا چھن گیا ہے‘ اسوقت صحافی اور صحافتی ادارے آپس میں باہم دست وگریباں ہیں اور حکومت مزے کیساتھ تماشا دیکھ رہی ہے‘ جن میڈیا اداروں نے ملازمین کو تنخواہیں نہیں دیں یا ان کو نوکری سے نکالا ہے انکے خلاف صحافتی تنظیموں نے دھرنا دے رکھا ہے اور وفاقی وزراء اور ممبران پارلیمنٹ ان سے اظہار یکجہتی کیلئے دھرنوں میں شامل ہوتے ہیں‘ حالانکہ دیکھا جائے تو حکومت کے اقدامات کے باعث ہی صحافی روزگار کے مسائل سے دوچار ہوئے ہیں جس طرح ابھی تک دہشت گردی کی درست تشریح نہیں ہو سکی اور ہرکسی کا اپنا نکتہ نظر ہے اسی طرح آج تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ جب حکومت صحافت کیلئے مراعات یا پابندیوں کا اعلان کرتی ہے۔

تو اس سے کیا مراد ہوتی ہے ‘عملی طورپر حکومتی اقدامات کا براہ راست اثر مالکان پرپڑتا ہے جس کا منفی اثر صحافیوں اور ملازمین پربھی پڑتا ہے اداروں میں ڈاؤن سائزنگ ہونے لگتی ہے یا تنخواہیں کم ہوجاتی ہیں‘ اس طرح خسارے میں ہمیشہ عامل صحافی ہی رہتے ہیں‘ماضی کی سیاسی حکومتیں اپنے پسندیدہ صحافیوں اور اداروں کو سرکاری وسائل سے نوازتی رہی ہیں اور یہ سلسلہ اتنا وسیع ہوگیا تھا کہ واضح نظرآنے لگا تھا‘ موجودہ حکومت نے آکر جہاں دیگر غیر ضروری اخراجات میں کمی کی یا کمی کرنے کا دعویٰ کیا اس کے ساتھ ہی سرکاری کمرشل اشتہارات بند کر دیئے‘ یہ ایک غیر دانشمندانہ اور غیر منصفانہ فیصلہ تھا اس سے میڈیا اداروں کی آمدنی میں واضح کمی ہوگئی ‘اشتہارات کے بل کروڑوں سے لاکھوں میں ہوگئے تو اداروں کے لئے یہ بوجھ ناقابل برداشت ہوگیا‘ حکومت کے ساتھ تو وہ لڑائی لڑ نہیں سکتے کیونکہ اے بی سی سرٹیفیکٹس‘ نیوزپرنٹ کوٹہ اور ٹیکس کے معاملات میں میڈیا ادارے بھی حکومت کے سامنے کمزورہیں‘ اسلئے کئی اخبارات کے ایڈیشن بند ہوگئے‘ صحافیوں کو بے دخل کردیاگیا اورتنخواہوں میں کمی جیسے اقدامات اٹھائے جانے لگے۔

اس سے براہ راست عامل صحافیوں پر منفی اثر پڑا اور ملک بھر میں صحافتی تنظیمیں احتجاج پر مجبور ہوئیں مگر حکومت نیک پروین بن کر اس سارے معاملے سے لاتعلق ہوگئی جیسے یہ صرف مالکان اور ملازمین کا آپس کا تنازعہ ہے‘ ابھی تک حکومت اس کا کوئی قابل عمل حل نکالنے میں بھی ناکام ہے وہ صحافیوں سے ہمدردی بھی کر رہی ہے مگر بے دخل صحافیوں کو بحال کرانے میں بھی کچھ نہیں کر سکتی‘ حالیہ معاشی اصلاحاتی پیکیج میں جہاں دیگر شعبوں اور صنعتوں کو مراعات دی گئیں وہاں اخباری صنعت کو بھی نیوز پرنٹ کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے ‘صحافیوں کے بڑھتے احتجاج اور سرکاری پریس کانفرنسز میں نادہندہ اداروں کے مائیک اور کیمرے اٹھانے جیسے اقدامات سے بڑھتی تلخی کو حکومتی ایوانوں میں بھی محسوس کیا جارہا ہے‘ وزیراعظم نے میڈیا کے تحفظات دور کرنے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے مگر اس کا مقصد مسائل حل کرنے سے زیادہ اس تاثر کو زائل کرنا ہے کہ صحافیوں کی بے دخلیوں میں حکومت کا ہاتھ ہے‘ اس کا مطلب یہی ہے کہ حکومت مسئلہ حل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی صرف یہ چاہتی ہے کہ وہ بدنام نہ ہو‘ اس لئے اب میڈیا کے دونوں بازو‘ اے پی این ایس اور پی ایف یو جے کو مل بیٹھ کر اس کا حل تلاش کرنا ہوگا‘ دونوں کا ایک دوسرے کے بغیر گزارہ بھی نہیں اور ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھ کر خود ہی کوئی حل نکالنا ہوگا‘ حکومت سے کوئی توقع رکھنا عبث ہے۔