226

سوات خودکش حملہ

سوات کی تحصیل کبل کے علاقے شریف آباد میں ہونیوالے خودکش حملے کے نتیجے میں تادم تحریر شہید ہونیوالوں کی تعداد 11بتائی جارہی ہے جس میں اضافے کا خدشہ ہے‘ شہید ہونے والوں میں آرمی کے کیپٹن جہانزیب بھی شامل ہیں‘ میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ آور نے آرمی یونٹ کے سپورٹس ایریا میں فوجیوں کو نشانہ بنایا‘ زخمیوں کو سی ایم ایچ منتقل کردیاگیا جبکہ فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لیکر سرچ آپریشن شروع کردیا‘ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کیخلاف ہمارا عزم متزلزل نہیں ہوگا‘ پاکستان خطے میں امن کے قیام کیلئے قربانیاں دیتا چلا آرہا ہے‘ اس کے بدلے میں بے بنیاد الزام تراشی کا نشانہ بھی بنا ہے اور ڈومور کے مطالبے بھی کئے جارہے ہیں‘ پاکستان ایک جانب بھارت کیساتھ تصفیہ طلب امور بات چیت کے ذریعے طے کرنے کی سعی کرتارہا ہے جس کو بھارت کبھی ایک اور کبھی دوسرے بہانے سے سبوتاژ کرتا چلا جارہا ہے دوسری جانب افغانستان میں امن کے قیام کیلئے پاکستان کی کوششیں ریکارڈ کا حصہ ہیں‘ کابل میں ہونیوالے حالیہ دھماکوں میں بھی پاکستان کی جانب سے مشترکہ تحقیقات کی پیشکش کی گئی ہے۔

سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کا کہنا ہے کہ افغانستان پاکستان پر الزام تراشی سے اجتناب کرے اور دونوں ممالک تعاون کو مزید بہتر بنائیں‘ سیکرٹری خارجہ نے افغانستان پر زور دیا کہ اپنے ہاں موجود پاکستان مخالف دہشت گردوں کیخلاف کاروائی کرے‘ امن کے قیام کیلئے ہی امریکہ میں پاکستان کے سفیر کا کہنا ہے کہ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان میں مذاکرات کے ذریعے مسئلے حل ہوں جبکہ امریکہ کسی بھارتی جارحیت کی پشت پناہی سے باز رہے‘پاکستان کا امن کیلئے کردار اور قربانیاں اس بات کی متقاضی ہیں کہ ایک جانب بھارتی اشتعال انگیزیوں اور پاکستان میں مداخلت اور دوسری طرف افغانستان میں امریکہ کی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر گرانے سے گریز کیاجائے‘ امن کے قیام کیلئے پاکستان کی تجاویز کو اہمیت دی جائے جن میں سیکرٹری خارجہ نے گزشتہ روز یہ بھی کہا ہے کہ افغانستان اپنی حدود میں سرحدی حفاظت کا انتظام مضبوط کرے‘ قابل اطمینان ہے کہ پاکستان اور افغانستان نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے بات چیت جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے‘ ورکنگ گروپ کا اگلا اجلاس 9فروری کو اسلام آباد میں ہو رہا ہے‘ ضرورت اس بات کی ہے کہ افغانستان امن کا قیام یقینی بنانے کیلئے پاکستان کے موقف کو تسلیم کرتے ہوئے دی جانیوالی تجاویز کو عملی شکل دے۔

جمہوریت کا تسلسل

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ جمہوریت پٹڑی سے اترنے نہیں دیں گے‘ پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے‘ بھول جائیں کہ کوئی سازش ہو رہی ہے‘ عدلیہ نے کارکردگی نہ دکھائی تو ریاست لڑکھڑا جائیگی‘ جمہوریت کے استحکام اور تسلسل کے حوالے سے سپریم کورٹ کے ریمارکس قابل اطمینان ہیں‘ وطن عزیز میں جبکہ سینٹ کے انتخابات کیلئے شیڈول آچکا ہے اور عام انتخابات اسی سال ہونے ہیں‘ سیاسی تناؤ میں سیاسی قیادت کے ایک دوسرے کیخلاف بیانات کیساتھ اداروں پر بھی تنقید ہو رہی ہے اس سے ہٹ کر کہ کون درست اور کون غلط ہے‘ ضرورت اس بات کی ہے کہ ضبط وتحمل سے کام لیاجائے‘ اہم امور کو نمٹانے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیاجائے اور سیاسی قیادت انتخابی مہم سے قبل عوامی مسائل کے حل کو یقینی بنائے۔