201

وزیراعظم کی یقین دہانی

وزیراعظم عمران خان ایک بار پھر یقین دلاتے ہیں کہ معاشی بحران ٹل جائے گا اور یہ کہ اسی طرح کے بحران آتے جاتے رہتے ہیں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ نظریہ چلا جائے تو قوم ختم ہوجاتی ہے۔ اس روز جب وزیراعظم معاشی بحران کے ٹل جانے کا عندیہ دے رہے تھے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا، قیمتوں میں اضافے کیساتھ پٹرول کی فی لٹر قیمت 108 روپے ہوگئی ہے جبکہ ڈیزل4 روپے 89 پیسے مہنگا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ پٹرول پر جی ایس ٹی2 سے بڑھا کر 12 فیصد جبکہ ہائی سپیڈ اور لائٹ ڈیزل پر ٹیکس یکساں شرح سے بڑھاتے ہوئے 17 فیصد کر دیاگیا ہے، اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ ملک کو سنگین اقتصادی بحران کا سامنا ہے، اختلاف اس بات سے بھی نہیں کہ یہ بگاڑ پے درپے آنے والی حکومتوں میں کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی چلا آرہا ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ پہلے قرضے ضروریات کیلئے اٹھائے جاتے تھے اب قرضوں پر سود اور اصل زر کی ادائیگی کیلئے ان کا والیوم بڑھایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب معاشی شعبے میں دیگر چیلنجوں کا سامنا بھی ہے ماہرین کے پیش کردہ اعداد وشمار کے مطابق صرف گردشی قرضے کا حجم1600 ارب روپے ہے جبکہ سرکاری اداروں کا خسارہ1100 ارب روپے ہے۔

یہ صورتحال جس طرح بھی بنی اس بحث سے ہٹ کر دیکھاجائے تو مارکیٹ میں گرانی اور بھاری یوٹیلٹی بلوں نے غریب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، یہ عام آدمی بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہوتا چلا جا رہا ہے، حکومت صورتحال سے نمٹنے کیلئے مزید قرضے اٹھا رہی ہے اور قرضے دینے والوں کی شرائط کا بوجھ بھی برداشت ہی کرنا پڑے گا۔ یہ سب قابل اطمینان سہی کہ آئی ایم ایف سے قرضہ مل جائے گا جبکہ اس کے بعدمزیدادارے بھی قرضہ دینے کو تیار ہوسکتے ہیں تاہم اس کو مسئلے کا حل کسی صورت قرار نہیں دیاجاسکتا۔

 ہمیں اکانومی کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے کیلئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں تجارتی خسارہ کم کرناہے۔ سرمایہ کاری کیلئے ماحول بنانا ہے، توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے بڑے فیصلے کرنے ہیں، ٹیکس نظام میں اصلاحات لانی ہیں۔ ٹیکس وصولی کے اہداف کا تعین کرنا ہے۔ ملکی پیداوار میں اضافے کیلئے ماحول دینا ہے ملکی صنعت کو فروغ دینے کیلئے سمگلنگ پر قابو پانا ہے، گردشی قرضوں کا والیوم کم کرناہے، سرکاری محکموں کے اندر موجود بدانتظامی اور سیاسی دباﺅ کا خاتمہ کرناہے۔ عوام کوبجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں ڈالنے کی بجائے لائن لاسز پر قابو پانے کیلئے ٹھوس محکمانہ حکمت عملی ترتیب دینی ہے، اس بات کو مدنظر رکھنا ہے کہ مسئلہ صرف بیرونی قرضے اور عالمی منڈی کی کساد بازاری نہیں، ہمیں اپنی سرکاری مشینری کی اوورہالنگ کرتے ہوئے اصلاحات کا انتظام کرنا ہوگا، اس سب کیلئے دیگر اقدامات کیساتھ ملک میں سیاسی استحکام بھی ضروری ہے، سیاسی اختلافات اپنی جگہ تاہم اہم نوعیت کے قومی معاملات پر اتفاق رائے بھی ضروری ہے، سیاسی گرما گرمی میں قانون سازی کا عمل بھی متاثرنہیں ہونا چاہیے، صوبوں اور مرکز کے مابین وسائل کی تقسیم بقایا جات کی ادائیگی جیسے معاملات بھی حل ہونا ضروری ہیں، اس سب کیلئے ترجیحات کا تعین کرنا ہوگا تب جاکر بحران کے خاتمے کا عندیہ حقیقت کا روپ اختیار کرسکتا ہے۔