220

نئے مالی سال کا میزانیہ

ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے پاکستان کو امدادی پیکیج دینے کے لئے اپنی بعض کڑی شرائط سے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا ہے‘ان شرائط کی روشنی میں بجلی اور گیس کے نرخ بڑھ سکتے ہیں‘اس کےساتھ مالی سال 2019-20 ءکیلئے اسی ماہ پیش ہونے والے بجٹ میں700 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کیساتھ ایف بی آر کو 5200 ارب ٹیکس وصولی کا ٹارگٹ دینا بھی شامل ہے‘رپورٹس کے مطابق اوگرا اور نیپرا کو بجلی و گیس کی قیمتیں متعین کرنے کا مکمل اختیار دے دیاگیا ہے اگلے 3 سال میں عوام پر متوقع اضافی بوجھ کا والیوم340 ارب روپے تک بھی ہوسکتا ہے ‘دریں اثنا ملک میں سٹاک منڈی میں گزشتہ روز صورتحال مایوس کن دیکھی گئی‘ انگریزی روزنامے کی رپورٹ میں یہ بھی کہا جا رہاہے کہ بجٹ خسارہ 2.8 ٹریلین کو چھو سکتاہے‘رپورٹ کے مطابق حکومت آئی ایم ایف کوٹارگٹ سے متعلق قائل کرنے کی کوششیں کررہی ہے وزیراعظم عمران خان کاکہناہے کہ کچھ سخت فیصلے کرنا پڑتے ہیں‘وزیراعظم کا کہنابالکل درست ہے معیشت کابگاڑ اتنا جلدی نہیںسنور سکتا‘ حکومت کو صرف بیرونی قرضوں کا چیلنج نہیں ملک کے اندر گردشی قرضے اور بعض اہم سرکاری اداروں میں اصلاحات کی ضرورت بھی چیلنج سے کم نہیں وہ ادارے جو ماضی میں ملکی ریونیو کا ذریعے تھے آج بیل آﺅٹ پیکیج لےکر ملازمین کو تنخواہیں ادا کر رہے ہیں۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جدید نظام کے تمام دعوے اپنی جگہ ہمارے دفاتر میں رائج نظام آج بھی سست روی کا شکار ہے جہاں فائلیں ایک میز سے دوسری اور ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک سفر ہفتوںبلکہ مہینوںمیں طے کرتی ہیں‘ معیشت کو مستحکم کرنے اور اصلاحات سے متعلق عزائم اپنی جگہ قابل اطمینان سہی ساری بدانتظامی کا بوجھ یوٹیلٹی بلوں اورگرانی کے طوفان کی صورت عوام پر آجانا قابل تشویش ہے‘نئے بجٹ میں اگر اربوں روپے کے مزید ٹیکس لگتے ہیں تو غریب اور متوسط طبقے کیلئے زندگی دشوار ہوکر رہ جائے گی حکومت کو یقینا مجبوری کے باعث کچھ تلخ گھونٹ لینے پڑتے ہیں لیکن عوام کی ریلیف اس میں بھی یقینی بنانا ضروری ہی ہوتاہے‘ وزیراعظم کی اراکین اسمبلی کو حلقوں میں جاکر مارکیٹ کنٹرول کے لئے اقدامات کی ہدایات قابل اطمینان ہیں لیکن یہ ثمر آور صرف اسی صورت ہوسکتی ہیں جب ان کو ایک ڈسپلن میں لایاجائے‘منتخب نمائندوں اور انتظامیہ کے درمیان باہمی رابطے کا انتظام کیاجائے اور یہ ساری کاروائیاں مزید وقت ضائع کئے بغیر شروع ہوں۔

سی این جی سلنڈر؟

ضلعی انتظامیہ نے پشاور کے تمام تندوروںمیں سی این جی سلنڈروں کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے‘ نانبائیوں کو سلنڈر ہٹانے کے لئے 24 گھنٹے کی مہلت دی گئی ہے‘ سی این جی سلنڈر سڑکوں پر سجی کھانے پینے کی دکانوں میں بھی استعمال ہوتے ہیں‘سلنڈرز کی ایک بہت بڑی تعداد گاڑیوں میں بھی نصب ہے‘ تندوروں کےساتھ ضرورت سی این جی کے استعمال کو زیادہ سے زیادہ محفوظ بنانے کے لئے مزید اقدامات کی بھی ہے‘سی این جی کٹس کا معیاری ہونا ضروری ہے‘ سی این جی سٹیشنز پر سیفٹی کے سارے انتظامات چیک کرنا ناگزیر ہے‘ وقت آگیاہے کہ کسی بھی اقدام سے قبل کسی بڑے حادثے کا انتظار نہ کیاجائے بلکہ بروقت احتیاطی تدابیر اٹھائی جائیں اور سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میںلیا جائے۔