288

امریکہ ایران کشیدگی اور پاکستان

امریکہ اور ایران کے درمیان2016 میں طے پانےوالا معاہدہ توصدر ٹرمپ نے یکطرفہ طورپر ختم کردیا تھا مگراس معاہدے کے دوسرے فریق یورپی ممالک دستبردار ہونے سے ہچکچارہے تھے اور اس کوشش میں تھے کہ یہ معاہدہ برقرار رہے جسکی وجہ سے ایران پر ایٹمی سرگرمیاں محدود رکھنے پر دباﺅ برقرار رہنے کےساتھ یورپ کو مناسب قیمت پر تیل بھی ملتا رہے مگر اب ایسے لگتا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ2020ءکاالیکشن جیتنے کیلئے ایران کےساتھ امریکہ کے روایتی اختلاف کو ہوا دیکر ایک اور جنگ چھیڑنے کے خواہشمند ہیں‘ صدر ٹرمپ نے معاہدہ ختم کرنے کے اعلان کےساتھ ہی ایران پر نئی پابندیاں بھی لگادی ہیں جن پر عمل کرنے یا نہ کرنے پر اتحادی تذبذب کا شکار ہیں جبکہ چین اور روس نے امریکی پابندیوں پر عمل کرنے سے انکار کردےاہے ‘اب امریکہ نے خلیج عرب میں ایک جنگی بیڑہ لاکھڑاکیا ہے جسکا مقصد ایران کی اقتصادی ناکہ بندی ہے بلکہ ایران کی طرف سے کسی ممکنہ حملے کے فرضی خطرے کو بنیاد بناکر مزید جنگی جہاز بھی خلیج میں بھیج دیئے ہیں جبکہ قطر میں اپنے اڈوں پر بی باون بمبار جہاز بھی پہنچا دیئے ہیں ‘ایرانی قیادت اس کوشش میں ہے کہ یہ بحران ٹل جائے اور امریکہ کیساتھ ٹکراﺅ کی نوبت نہ آئے اور ویسے بھی جذباتی بیانات سے قطع نظر اسوقت ایران اس پوزیشن میں بھی نہیں ہے کہ ایسی کسی جنگ کا متحمل ہوسکے۔

برس ہا برس کی اقتصادی اور تجارتی پابندیوں کی وجہ سے ایران میں مشکل حالات ہیں شاید اس بات کا امریکہ کو پتہ ہے اسی لئے اس بار زیادہ جارحانہ انداز میں پیش قدمی کر رہا ہے اگرچہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کےساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہیں مگر ایران پہل کرے‘ اس کا مقصد دنیا کو اندھیرے میں رکھنا اور ایران کو اپنی شرائط پر مذاکرات پر لانا ہے‘ مذاکرات کیلئے ایک ماحول درکار ہوتا ہے ‘جنگی تیاریاں کرتے ہوئے اس طرح کا بیان سنجیدگی نہیں ہے‘عرب مالک بھی امریکہ کےساتھ ہیں بلکہ عرب ممالک کی طرف سے اس جنگ کے اخراجات اٹھانے کی پیشکش بھی موجود ہے‘ یہ امت مسلمہ کی بدقسمتی ہی ہے کہ ایران کے عرب ممالک کےساتھ تعلقات کبھی بھی برادرانہ نہیں رہے حتیٰ کہ ماضی میں شاہ ایران کے دور میں بھی خراب ہی تھے‘اسلامی انقلاب کے بعد تو یہ بتدریج دشمنی میں بدلتے گئے ‘دلچسپ بات یہ ہے کہ عرب ریاستوں میں صرف قطر کے ایران کےساتھ تعلقات ہیں مگر ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ قطر میں امریکہ کے فوجی اڈے ہی ایران کےخلاف وار بیس بن رہے ہیں اور قطر چاہتے ہوئے بھی امریکہ کواسکے استعمال سے نہیں روک سکتا ‘خلیج میں اس بڑھتی ہوئی کشیدگی سے پاکستان بھی مشکلات میں آگیا ہے‘ وزارت خارجہ نے بڑی مشکل کےساتھ ایران اور سعودی عرب کے درمیان توازن رکھا ہوا ہے۔

 عرب دوستوں کی خواہش بلکہ مطالبہ ہے کہ پاکستان‘ ایران کےخلاف کھل کران کاساتھ دے مگر ایسا ممکن نہیں گزشتہ ماہ وزیراعظم عمران خان نے ایران کا دورہ کیا تھا تو اس سے عرب دوست خوش نہیں ہوئے تھے‘پاکستان کا ایران کےساتھ گیس پائپ لائن بچھانے اورسستی گیس خریدنے کا معاہدہ ہے جسکے مطابق ایران اپنے حصے کی پائپ لائن بچھاچکا ہے بنیادی طورپر اس معاہدہ میں بھارت بھی شامل تھا مگر امریکی پابندیوں کے بعد بھارت نے توانائی کی ضرورت کا رونا رو کر امریکہ سے ایٹمی بجلی گھر لےکر اس معاہدے سے دستبرداری اختیار کرلی تھی مگر پاکستان نے نہ تو امریکہ سے متبادل فائدہ اٹھایا اور نہ ہی پائپ لائن پر کام کیا‘ایران اور امریکہ سمیت چھ ممالک کے درمیان معاہدے کے بعد امید لگی تھی کہ یہ پائپ لائن دوبارہ بحال ہوگی مگر اب ایک بار پھر یہ کام رک گیاہے‘ اس معاہدہ سے زیادہ پاکستان کو امریکہ ایران ممکنہ جنگ سے نقصانات کا خطرہ ہے اور یہ افغان جنگ کے پاکستان پر اثرات سے بھی خطرناک ہونگے پاکستان کی اقتصادی حالت ایسی نہیں کہ وہ کوئی آزادانہ فیصلہ کر سکے یہی وجہ ہے کہ پاکستان اس کشیدگی کو کم کرنے کیلئے بھی کردار ادا نہیں کرسکتا بلکہ چین اور روس جیسے بڑے ممالک بھی کھل کر ایران کی حمایت نہیں کررہے‘ ہمارے سیکرٹری خارجہ کا کہنا ہے کہ ہم امریکہ اور ایران کے درمیان تلخی پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور شاید ہم اس سے زیادہ کچھ کر بھی نہیں سکتے ایران1979ءتک اسرائیل کا دوست رہا ہے مگر انقلاب کے بعد اسرائیل اور امریکہ کا سب سے بڑا ہدف بھی ایران ہی ہے ہماری دعا ہے کہ ایران سلامت رہے اور اسرائیل کی خواہش پوری نہ ہو مگر حالات ایسے نظر آرہے ہیں کہ امریکہ اسرائیل کو خوش کرنے کیلئے ایک اور اسلامی ملک کو تباہ کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔