146

ارب ڈالر کا نیا معاہدہ

وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا ہے اور یہ کہ آئی ایم ایف 3سال کے لئے پاکستان کو 6ارب ڈالر دے گا اس بیل آﺅٹ پیکج کی ادائیگی36ماہ میں کرنی ہوگی‘ وزیر اعظم کے مشیر یہ بھی کہتے ہیں کہ عالمی اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے بھی 3ارب ڈالر قرض ملنے کا امکان ہے‘ وطن عزیز کی معیشت بیرونی کےساتھ اندرونی قرضوں تلے دبی ہوئی ہے ایک کے بعد دوسری برسراقتدار آنے والی حکومت ان قرضوں کے والیوم میں اضافہ ہی کرتی رہی ہے‘ اکانومی کی بدحالی کا الزام بھی اپنے سے پہلے برسراقتدار حکمرانوں پر ہی ڈالا جاتا رہا ہے اب صورتحال اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ قرضوں اور سود کی اقساط چکانے کے لئے مزید قرضے لینے پڑ رہے ہیں دوسری جانب قرض دینے والوں کے مطالبات کا بوجھ عام شہری پر ہی پڑتا چلا جا رہا ہے آئی ایم ایف سے بیل آﺅٹ پیکج کےلئے ملک میں نئے ٹیکس لگائے جانے اور ریونیو بڑھانے کے حوالے سے متعدد اعداد و شمار پر مشتمل رپورٹس آچکی ہیں ¾ مہنگائی کے مارے غریب اور متوسط شہری اوردیگرتنخواہ دار ملازمین اس صورتحال سے بری طرح متاثر چلے آ رہے ہیں اب کی بار آئی ایم ایف کے بیل آﺅٹ پیکج سے متعلق جو تفصیلات مل سکی ہیں۔

 ان کے مطابق حکومت امیر لوگوں کو دی جانے والی سبسڈی ختم کرے گی تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ امیر لوگوں پرکوئی بھی ٹیکس لگے یا سبسڈی ختم ہو تواس کا بوجھ وہ غریبوں کو ہی منتقل کرتے ہیں جبکہ نئی سبسڈی ملنے پر ریلیف منتقل کرنا بہت کم کیسوں میں دیکھا گیا ہے‘حکومت اس بات کی یقین دہانی کرا رہی ہے کہ 300یونٹ سے کم کے صارفین کے لئے بجلی بل میں اضافہ نہیں ہوگایہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ڈالر کا ریٹ اب سٹیٹ بینک طے کرےگاآئی ایم ایف والوں کا بھی کہنا ہے کہ انہیں بینک دولت پاکستان کی خودمختاری کایقین دلایا گیا ہے ¾آئی ایم ایف کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسے500ارب کے نئے ٹیکس لگانے کے ساتھ بجٹ خسارے میں0.6فیصد کمی کرنے اور بجلی و گیس مہنگی کرنے کا یقین دلایا گیا ہے مشیر خزانہ کہتے ہیں کہ حکومت کا ایجنڈا کامیاب ہوا تو یہ آخری قرضہ ہوگا برسرزمین حقائق اور درپیش مشکلات اس اعلان کو عملی شکل دینے کے لئے بہت کچھ کرنے کا تقاضاکرتے ہیں جن میں غریب شہریوں کا ریلیف سرفہرست ہے۔

وزیر اعلیٰ کے احکامات

وزیر اعلیٰ محمود خان نے پشاور میںبس منصوبے کےلئے جاری کام ٹائم لائن کے اندر ختم کرنے کا حکم دیا ہے اس مقصد کے لئے ڈبل شفٹ میں کام کی ہدایت بھی جاری کردی گئی ہے‘بی آر ٹی منصوبے کے حوالے سے شہریوں کو درپیش مشکلات اور پراجیکٹ سے جڑے دیگر معاملات پر وزیر اعلیٰ کا احساس قابل اطمینان ہے وزیر اعلیٰ صوبائی دارالحکومت میں ٹریفک سے متعلق مسائل کے حل کو اپنی حکومت کا ہدف قرار دیتے ہیں وزیر اعظم عمران خان نے بھی منصوبے کی جلد تکمیل کے لئے خصوصی ہدایات دی ہیں وزیر اعلیٰ کی ہدایات صرف اسی صورت نتیجہ خیز ثابت ہو سکتی ہیں جب ان پر عملدرآمد کے لئے نگرانی کا فول پروف نظام ہو ٹریفک سے جڑے مسائل کے حل کے لئے متعلقہ اداروں میں باہمی رابطہ یقینی ہو اس ضمن میں کسی ایک ادارے کو فوکل بنا کر باقی سٹیک ہولڈرز کو ان کے سامنے جوابدہ بنایا جاسکتا ہے تمام ادارے اپنے اپنے سرکل میں رہے تو ٹریفک پلان سرکاری خطوط ہی میں رہ جائے گا۔