539

خیبر ٹیچنگ ہسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹروں کے مابین تناؤ میں شدت

پشاور۔ خیبرپختونخوا حکومت ٗ خیبر ٹیچنگ ہسپتال انتظامیہ اورڈاکٹروں کے مابین گزشتہ روزپیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال میں مزید تناؤ پیدا ہوگیا ہے  ایک جانب خیبر پختونخوا ڈاکٹرز کونسل نے صوبے بھر میں ہڑتال کی کال دے دی ہے تو دوسری جانب خیبر ٹیچنگ اسپتال انتظامیہ نے ایسوسی ایٹ پروفیسر سرجری ڈاکٹر ضیاالدین آفریدی کے خلاف مقدمہ درج کرادیا ہے تاہم پولیس نے ڈاکٹروں کی جانب سے وزیرصحت کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے انکار کردیا ہے۔

 گزشتہ روز وزیر صحت اور انکے محافظین کے ہاتھوں اسسٹنٹ پروفیسرپر تشدد اور ٹاؤن پولیس ا سٹیشن میں ڈاکٹرز کو حبس بے جا میں رکھنے پر ڈاکٹرز نے صوبہ بھر کے ہسپتالوں میں ہڑتال کا اعلان کردیا ہے جس کی وجہ سے ڈاکٹرز اور محکمہ صحت کے درمیان معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے اس سلسلے میں دوسرے روز بھی خیبر ٹیچنگ ہسپتال سمیت صوبے کے مختلف اضلاع کے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز نے احتجاج اور ڈیوٹی سے بائیکاٹ کیاجبکہ آج جمعرات کے روزلیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں بھی مکمل تالابندی کااعلان کردیا گیا ہے۔

 واضح رہے کہ منگل کے روز خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور میں وزیر صحت اور انکے محافظین کی جانب سے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الدین آفریدی کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعدڈاکٹرز نے خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں خدمات کو معطل کرتے ہوئے سڑک پر احتجاجی مظاہرہ کیا جس کے بعد ٹاؤن پولیس نے ڈاکٹرز کو طلب کرکے تھانے میں مزید تشدد کا نشانہ بنایااس واقعہ پر بدھ کے روز ڈاکٹرز نے مزید اشتعال کھاتے ہوئے صوبہ بھر میں او پی ڈیز اور آپریشن تھیٹرز سے بائیکاٹ کا اعلان کردیا ہے۔

 پشاور، مردان،سوات، ہزارہ اور ڈی آئی خان میں ڈاکٹرز نے اس مقصد کیلئے احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت مخالف نعرے لگائے ہڑتالی ڈاکٹرز نے اوپی ڈیز کو بند کرکے وارڈز سے بائیکاٹ کیا جس کیو جہ سے مریضوں کو سخت مشکلات کاسامنا کرنا پڑا ڈاکٹرز نے آپریشن تھیٹرز میں بھی کام کو بند کیا اور خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے سامنے سڑک پر مرکزی سطح پر احتجاجی ریلی نکالی اور وزیر صحت اور انکے مشیر کو عہدوں سے ہٹانیکا مطالبہ کیا۔

 مظاہرین ڈاکٹرز نے ٹاؤن پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کیخلاف بھی کارروائی اور ڈاکٹر ضیاء الدین پر تشدد کیخلاف ایف آئی آر کے اندراج کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے ڈاکٹرز نے اس حوالے سے آج ایل آرا یچ کو بھی مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان کیا ہے اور دوسرے ہسپتال بھی بند رہیں گے۔