68

بھارتی الیکشن اور ممکنہ نتائج

بھارت سے ہمےں ہزار شکایات سہی اس کا دہشت گردی اور انتہا پسندی میں کلیدی کردار اپنی جگہ مگر یہ بات قابل رشک ہے کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کامیابی کےساتھ چلا رہے ہیں‘ گزشتہ روز مکمل ہونےوالے حالیہ انتخابات میں ریکارڈ90کروڑ ووٹروں نے حصہ لیا اور یہ عمل ایک ماہ سے زیادہ عرصہ تک جاری رہا اور سات مراحل میں مکمل ہوا‘ اتنے بڑے اور وسیع انتخابی عمل میں اگر روایتی تشدد اور لڑائی جھگڑے کے واقعات کو دیکھا جائے تو ےہ نہ ہونے کے برابر ہیں‘ یہ انتخابات بھارت میں1951-52ءمیں شروع ہونیوالے لوک سبھاکے سلسلے کے17ویں انتخابات ہیںجن میں ریکارڈ 10 لاکھ پولنگ سٹیشنزپر جدید الیکٹرانک مشینوں کے ذریعے ووٹ ڈالے گئے‘ بھارت کے انتخابات کو پاکستان کے انتخابی عمل سے الگ کرنے کی کئی وجوہات میں بڑی وجہ وہاں کے الیکشن کمیشن کا خود مختار ہونا ہے‘اسی لئے بھارت میں انتخابات سے پہلے حکومت ختم کرنے اور نگران حکومت قائم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی‘ برسراقتدار حکومتی پارٹی کے انتخابی عمل میں حصہ لینے کے باوجود کبھی دھاندلی کی شکایت پیدا نہیں ہوئی اور نہ ہی کبھی جیتنے والی پارٹی یا سیاسی اتحاد پر سلیکٹڈ کا الزام لگایا گیا‘انتخابی عمل مکمل ہونے اور الیکشن کمیشن کے اعلان سے پہلے میڈیا یر غیر سرکاری‘ غیر حتمی نتائج نہیں آتے اسی لئے کنفیوژن بھی پیدا نہیں ہوتی‘ کوئی امیدوار پل پل بدلتے نتائج پر حیران یا پریشان نہیں ہوتا نہ ہی یہ کہتا ہے کہ میں تو جیت رہاتھا۔

 پھر مجھے ہرایا گیا‘اب تو الیکٹرانک مشینوں کے ذریعے ووٹ کاسٹ ہوتے ہیں مگر ماضی میں بھی پرچی کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے مواقع پر کبھی ایسا تنازعہ پیدا نہیں ہوا‘اس بار حکمران جماعت بھارتی جنتا پارٹی‘ نیشنل ڈیمو کریٹک الائنس اور اپوزیشن کانگریس‘ یونائیٹڈ پروگریسیو الائنس کے سیاسی اتحادوں کےساتھ مدمقابل ہیں جنکے درمیان لوک سبھا کی543 نشستوں پر براہ راست مقابلہ ہے‘ یاد رہے کہ لوک سبھا کی کل 545 نشستیں ہیں جن میں صرف2 ممبر سرکاری نامزد ہوتے ہیں543 پر الیکشن کے ذریعے براہ راست مقابلہ ہوتا ہے‘ان پر تقریباً 2000 سیاسی جماعتوں کے8000 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جن میں اکثریت علاقائی جماعتوں کی ہے جو مرکز میں بھی حکومت سازی کیلئے اہم کردار ادا کرتی ہیں اگرچہ بھارت میں بھی پاکستان اور دیگر ایشیائی ممالک کی طرح سیاست میں وراثت اور خاندانی اجارہ داریاں موجود ہیں مگر وہاں قومی سطح پر سیاسی جماعتوں میں جمہوریت موجود ہے اور پارٹی قیادت سے لیکر وزارت عظمیٰ تک کوئی بھی رہنما ترقی کرسکتا ہے‘ بھارت کی قدیم اور سب سے زیادہ عرصہ اقتدار میں رہنے والی آل انڈیا کانگریس کی قیادت کیلئے نہرو خاندان فیورٹ رہا ہے۔

 موتی لال نہروسے جواہرلال نہرو اور پھر اندراگاندھی سے راجیوگاندھی تک چارنسلیں کانگریس اور ملک کی قیادت کرچکی ہیں مگر 1984ءمیں راجیوگاندھی کے قتل کے بعد کانگریس کو حکومت بنانے کا موقع ملا تونہرو خاندان سے باہر کے پارٹی لیڈر ہی وزیراعظم بنتے رہے‘ اس بار ایک طویل عرصہ کے بعد اس خاندان کی پانچویں پیڑھی راہول گاندھی کی شکل میں کانگریس کی قیادت کر رہی ہے حکومتی پارٹی بی جے پی میں ایک پراسس کے تحت قیادت بدلتی رہتی ہے اور پارٹی قیادت حکومت سے الگ ہوتی ہے اگر موقع ملے تو پارٹی صدر کی بجائے کسی اور سینئر رہنما کو وزیراعظم نامزد کیا جاتا ہے اس بار پھر نسبتاً کم نشستوں کےساتھ مگر بی جے پی کے دوبارہ جیتنے کے امکانات ہیں مگر اسکے باوجود یہ یقینی نہیں ہے کہ بی جے پی کے وزیراعظم نریندرمودی ہی ہونگے‘پھربھی وہ پوری کوشش کر رہے ہیں کہ بی جے پی ہی الیکشن جیتے‘ بھارت کے انتخابات میں اب سوشل میڈیا کا بھی بہت دخل ہوگیا ہے انٹرنیٹ کے50کروڑ صارفین کےساتھ وہاں ہر سیاسی پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس جدید سہولت سے ووٹر تک اپنا پیغام پہنچائے مگر زیادہ زور دوسروں پر تنقید کرنے پر دیا جاتا ہے ۔

حالیہ انتخابات میں پاکستان کےساتھ تعلقات اور بالخصوص فروری میں ہونیوالی فضائی جھڑپ ایک گرم موضوع رہا‘ وزیراعظم مودی اپنی جنگی ناکامی پر جھوٹ کا پردہ ڈالنے اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے رہے جبکہ اپوزیشن اس جھوٹ کو بے نقاب کرکے مودی پر فوج کا مورال گرانے کا الزام بھی لگارہی ہے‘الیکشن کے ابتدائی مراحل میں توحکومتی کارکردگی یا پارٹی منشور سے زیادہ پاکستان کیساتھ دشمنی اور دوستی پر ہی ووٹروں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش جارہی ہے اور نریندرمودی نے اپنی حکومت کی ناکامیوںسے جان بچانے کیلئے پاکستان کے ایشو کواستعمال کیا اور اندازہ ہے کہ ہندو اکثریت کو جذباتی طورپر متاثر کرنے میں کامیاب بھی رہا ہے بہرحال اب چند دن کی بات رہ گئی ہے23 مئی کی شام تک یہ فیصلہ آجائے گا کہ آئندہ پانچ سال کیلئے کون بھارت کی قیادت کرے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔