167

مہنگائی میں اضافے کا عندیہ

بینک دولت پاکستان نے شرح سود میں اضافے کےساتھ گرانی کے طوفان میں مزید شدت کا عندیہ بھی دے دیا ہے‘ بینک کے مطابق وطن عزیز میں 9 ماہ کے دوران افراط زر کی شرح دگنی ہوگئی ہے جبکہ مستقبل میں مزید بڑھے گی‘ سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری ہونے والی مانیٹری پالیسی میں شرح سود میں اچانک ڈیڑھ فیصد اضافہ کردیاگیا ہے جو اب 12.25 فیصد ہوگئی ہے، بینک کے مطابق جاری خسارہ 13 ارب ڈالر سے کم ہوکر9 ارب ڈالر پر آگیا ہے جبکہ تجارتی خسارے سے متعلق مہیا اعداد وشمار کے مطابق یہ 13 ارب 17 کروڑ ڈالر سے کم ہوکر11 ارب ڈالر رہ گیا ہے، دوسری جانب قرضوں کے حجم کو دیکھا جائے تو شرح سود بڑھنے پر مقامی قرضوں میں300 ارب کا اضافہ ہوا جبکہ جولائی2018 سے مئی2019 ءکے دوران حکومت نے اڑھائی گنا زیادہ قرضے لئے جن کا حجم4.8 ٹریلین روپے بتایا جاتا ہے عین اسی روز جب سٹیٹ بینک اپنی نئی مانیٹری پالیسی دے رہا تھا، ڈالر کی قدر میں مزید اضافہ ریکارڈ ہوا اور خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس کی قدر 152 روپے سے بھی تجاوز کر گئی‘ ڈالر کی بڑھتی قدر کے اثرات غیر ملکی قرضوں کے والیوم پر مرتب ہورہے ہیں۔

 حزب اختلاف کی جانب سے مہنگائی میں مسلسل اضافے پر سخت ردعمل سامنے آرہا ہے، اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ ملک کو معاشی شعبے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے یہ بھی حقیقت ہے کہ اس سیکٹر میں قرضوں پر انحصار کا سلسلہ طویل عرصے سے چلا آرہا ہے‘ فنانشل منیجرزاس صورتحال میں پرانے قرضوں کی اقساط چکانے کیلئے نئے قرضوں کے حصول میں سرگرم رہتے رہے ہیں‘ نئے قرضے جاری کرنےوالوں کی شرائط کا بوجھ غریب اور متوسط شہریوں کیلئے زندگی اجیرن کرنے کا ذریعہ ہی بنتا چلاجاتا ہے، ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہو یا پھر ٹیکسوں کی شرح بڑھے بوجھ فوری طورپر غریب شہری ہی کو منتقل ہوتا ہے‘ دوسری جانب اسی شہری کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کا گلہ بھی ہے جبکہ سروسز کا معیار اور تعلیم اور علاج جیسی سہولتیں نہ ملنے کی شکایت بھی، اعداد وشمار میں بہتری آئے یا پھر مزید ابتری اس شہری کی بنیادی توجہ مہنگائی اور ملاوٹ کے کنٹرول، شہری سہولیات کے ملنے روزگار کے مواقع میں ہے‘ حکومت معیشت کی حالت سنوارنے کیلئے جو بھی کرے اگر غریب اور متوسط شہری کو براہ راست ریلیف نہ ملے تو اس کےلئے سب بے معنی رہتاہے حکومت کو دیگر اقدامات کےساتھ شہریوں کی ریلیف کیلئے کنکریٹ پلاننگ کرنا ہوگی بصورت دیگر عوام میں مزید مایوسی پھیل جائےگی۔

گیس سلنڈروں کا استعمال؟

پشاور کے ایک تندور میں گیس سلنڈردھماکہ میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے بعد نانبائیوں کو سلنڈر ہٹانے کا کہاگیا، حکم نامے پر عملدرآمد نہ کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاﺅن بھی شروع ہوگیا ہے، گزشتہ روز17 سلنڈر ضبط بھی کئے گئے، انتظامیہ کا اقدام بعد از خرابی بسیار سہی قابل اطمینان ہے تاہم یہ صرف تندوروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے‘ گیس سلنڈرز اور سی این جی کے پورے کاروبار میںقاعدے قانون کی پابندی ناگزیر ہے، گاڑیوں میں ناقص گیس کٹس حادثات کا موجب بن چکی ہیں‘ انتظامیہ کوسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت سے فوری کاروائی کرنا ہوگی، انتظامی حکمت عملی میںیہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ کسی بھی شعبے میں بڑے حادثے کا انتظار کئے بغیر اقدامات اٹھائے جائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔