74

نا گزیراقدامات

پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے‘ایک ترقی پذیر ملک کو بہت سے اقدامات ایسے کرنے پڑتے ہیں کہ جن کا اُس وقت تو کوئی فائدہ نظر نہیں آتا مگرآگے جا کر وہی ا قدامات ملک کی معیشت کی بہتری کا سبب بنتے ہیں‘ ملک کے جو حالات افغان جنگ کے بعد ہوئے ہیں اور جس طرح دہشت گردی نے معیشت کا پہیہ روکا ہے وہ سب کے سامنے ہے‘دہشت گردی خصوصاً کراچی جیسے شہر میں جو دہشت گردی کا راج رہا ہے اُس نے معیشت پر بہت ہی برا اثر ڈالا ہے‘ تاجروں اور کارخانہ داروں کو مجبوراً اپنا سرمایہ ملک سے باہر لے جانا پڑا ہے‘ اس لئے کہ کراچی میں تاجر کو کسی قسم کا تحفظ حاصل نہیں رہا تھا‘ روزانہ کی بھتہ خوری اور جلاو¿ گھیراو¿ نے کاروبار کا بیڑا غرق کر دیا تھا اسی لئے سرمایہ دار اور سرما یہ کار اپنے سرمائے کے تحفظ کے لئے ملک چھوڑ کر چلے گئے اور باہر کے ملکوں میں جہاں اُن کے سرمائے کر تحفظ بھی تھا اور اُن ملکوں کوسرمایہ کاری کی ضرورت بھی تھی انہوں نے پاکستانی سرمایہ کار کی پذیرائی کی‘ یوں ہمارے ملک کا سرمایہ ملک سے باہر چلا گیا‘ اب جو ملکی حالات کچھ ٹھیک ہوئے تو ضروت یہ محسوس کی گئی کہ باہر گئے ہوئے سرمایہ کار کو واپس ملک میں لایا جائے ‘ اسی طرح بہت سے سرمایہ کاروں نے اپنی دولت منڈی سے نکال کر گھروں میں بند کر دی تھی‘ اب ایسی دولت کو دوبارہ منڈی میں لانے کےلئے کچھ ایسی سکیمیں لانی پڑیں کہ جو بظاہر ٹھیک دکھائی نہیں دیتی تھیں مگر بہت ضروری تھیں۔

 اس میں ایک تو ایمینسٹی سکیمیں تھیں جس کے ذریعے لوگوں کو کچھ ٹیکس ادا کرنے کے بعد اُن کی دولت کو منڈی میں لانا اور اُن سے باز پرس نہ کرنے کی لالچ دے کرمعیشت کو آگے چلانا مقصود تھا‘ اس پر بہت سی سیاسی پارٹیوں نے خصوصاً تحریک انصاف نے بہت زیادہ اعتراض بھی کیا یہاں تک کہ کہا گیا کہ اگر اُن کی حکومت بنی تو وہ ا سکیموںسے فائدہ اٹھانے والوں کی باز پرس کریں گے‘ مگر چونکہ دریا میں اترے بغیر دریا کی تندی تیزی کااندازہ نہیں ہوا کرتا اسی لئے تحریک انصاف کے لیڈر ایسی باتیں کرتے تھے‘ اسی طرح کی ایک سکیم اُس وقت لا گئی کہ جب پاکستان میں ڈالر کی بہت کمی ہو گئی تھی اور یہ بھی اسی دہشت گردی کے سبب ہوئی تھی تو ایک سکیم ایسی لائی گئی کہ بیرون ملک سے جو بھی کسی کو بھی ڈالر بھیجتا ہے تو بھیجنے والے اور بھیجے جانے والے سے کوئی باز پرس نہیں ہو گی ‘ چنانچہ اُس دور میں بیرون ملک دوستوں نے اپنے رشتہ داروں اور دوستوں وغیر کے نام بہت سے ڈالر بھیجے تھے مگر ان کو بعد کے آنے والوں نے منی لانڈرننگ کا نام دے کر رقوم حاصل کرنے والوں کو تنگ کیا‘ ایمینسٹی سکیموں سے فائدہ اٹھانے والوں کو بھی اسی طرح تنگ کرنے کی کوششیںکی گئیں ‘مگر جب خود تحریک انصاف اقتدار میں آئی تو آٹے دال کا بھاو¿ معلوم ہو گیا اور اب اُن کی طرف سے بھی ایک سکیم لائی گئی ہے ۔

‘مگر ان کا جو رویہ رہا ہے اس سے لگتا نہیں کہ یہ سکیم اُس طرح کامیاب ہو گی‘ اس لئے کہ اب سرمایہ دار اس حکومت پر اعتبار کرنے سے گریزاں ہے‘ خد اجانے کل کویوٹرن لے کر کیا کر دیا جائے‘ تا ہم یہ ایک ناگزیرا قدام ہے اور سرمایہ کاروں کو اس کا فائدہ اٹھانا چاہئے‘کل کو کیا ہوتا ہے اس کو چھوڑیئے آج کی سوچئے کہ آج ملک کوسرمائے کی از حد ضرورت ہے‘ اگر یہ سکیم اپنی افادیت حاصل کر لیتی ہے تو ہو سکتا ہے کہ ہمیں کڑی شرائط پر قرض لینے کی ضرورت ہی نہ پڑے‘ اسی طرح سندھ سے کچھ اور بھی گیس کے ذخائر ملے ہیں اور امیدہے کہ یہ گیس اور تیل کے ذخائر پاکستان کےلئے خوش بختی کا ذریعہ بنیں گے ‘ ہاں اس کے لئے پاکستانیت کو اجاگر کرنے کی از حد ضرورت ہے ہمارا دشمن ہر وقت ہمارے در پے ہے اور قوم کی بجائے قومیتوں کو ابھار کر اس ملک کے ٹکڑے کرنا چاہتا ہے اس لئے اس پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے‘جب تک ہم مرکز گریز قوتوںکے آلہ کار بنے رہے تو پاکستان کی سا لمیت کو بھی قائم رکھنا مشکل ہو جائے گا‘ اور جس طرح ہمارے دشمن نے کراچی اور بلوچستان میں امن سبوتاژ کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے اس سے ہمیں ہر وقت ہوشیار رہنا چاہئے‘ اس وقت وطن عزیز نازک دور سے گزر رہا ہے‘ ایک طرف اگر معاشی مشکلات نے عوام کی زندگی بری طرح متاثر کی ہے تو دوسری طرف سرحدات پر کشیدگی کا ماحول بھی ہے‘ ایسے میں تمام سیاسی جماعتوں اور حکومت کو مل کراس مشکل سے ملک کو نکالنے میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے آپس کے سیاسی اختلافات سے قطع نظر صرف ملکی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔