211

پختون مزاحمتی تحریکیں

ویسے تو پختونوں کی تاریخ کئی ہزار سال پر محیط ہے لیکن پچھلے ایک ہزار سال میں انکی زندگیوں میں جواتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے وہ کئی حوالوں سے اہمیت اور توجہ کا حامل ہے پختونوں کی تاریخ اور انکے کارناموں پر خود انہوں نے تو کیا انکے دشمنوں اور سخت ترین مخالفین نے بھی بہت کچھ کہا اور لکھا ہے ‘بلکہ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے اور شاید اس پرآنیوالے وقتوں میں پہلے سے بھی زیادہ تحقیقی کام ہوتا رہے گا‘پاکستان سٹڈی سنٹر یونیورسٹی آف پشاورکے اسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹر شہباز خان نے بھی حال ہی میں کئے جانیوالے اپنی پی ایچ ڈی کے مقالے کا موضوع اسی بحث کو بنایاہے۔ پاکستان سٹڈی سنٹر کے ڈائریکٹر اور معروف محقق اور ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر فخر الاسلام کی زیر نگرانی ’مغلوں کیخلاف پختون مزاحمت‘ کے عنوان کے تحت کی جانے والی اس تحقیق کے مطابق ہندوستان کی سیاست اور اقتدار کے سنگاسن پر پختونوں کے کردار کا آغاز دسویں صدی عیسوی میں ہندو شاہی کے بادشاہ جے پال کی جانب سے شیخ عبدالحمید لودھی کو ملتان کا گورنر مقررکئے جانے سے ہوا۔بعد ازاں غزنویوں اور غوریوں کے علاوہ سلاطین دہلی کے دور میں پختونوں نے فوجی جرنیلوں اور کامیاب منتظمین کی حیثیت سے ہندوستان کی سیاست میں نہ صرف اپنی طاقت اور انتظامی صلاحیتوں کا لوہا منوایابلکہ1451 میں بہلول لودھی وہ پہلے پختون لیڈر قرار پائے ۔

جنہیں تقریباً سارے ہندوستان پر پختون راج قائم کرنے کا موقع ملا‘ہندوستان میں پختون سلطنت کومزید توسیع اور استحکام بہلول کے سیاسی جانشین اور انکے فرزند سکندر لودھی اور انکے بعد ان کے بیٹے ابراہیم لودھی نے فراہم کی البتہ1526میں جب ظہیرالدین بابر کے ہاتھوں ابراہیم لودھی کو اپنے ماتحت گورنروں جن میں پنجاب کے گورنر دولت خان لودھی قابل ذکر تھے کی سازشوں سے پانی پت کے میدان میں شکست ہوئی تو اس سے اگر ایک طرف بر صغیر پاک وہند میں پختونوں کے اقتدار کا خاتمہ ہوا تو اس سے دوسری جانب یہاں مغل دور حکمرانی کی داغ بیل بھی پڑی‘ البتہ یہ بات خالی از دلچسپی نہیں ہے کہ مغلوں کو ایک بارپھر پختونوں کے ہاتھوں اسوقت اقتدار سے محروم ہونا پڑاجب 1540میں دوسرے مغل حکمران نصیر الدین ہمایون کو اپنے ہی ایک ماتحت پختون جرنیل شیر شاہ سوری کی کامیاب بغاوت کے بعد اقتدار اس کے حوالے کرنا پڑا‘پندرہ سال پر محیط اس دوسرے پختون دور حکمرانی کا اختتام اس وقت ہواجب 1555میں شیر شاہ سوری کے پوتے سکندر سوری کو ہمایون کے ہاتھوں شکست کاسامنا کرنا پڑا۔ڈاکٹر شہباز نے نے پختون مغل کشمکش کا جائزہ چھ مقاصد کو سامنے رکھ کرلیا ہے جن میں پہلے دومقاصد ہندوستان کی سیاست اور مسند اقتدار پر پختونوں کے ظہور اورمغل پختون تنازعے کے اسباب سے متعلق ہیں جبکہ باقی چار مقاصد میں بایزید انصاری کی مغلوں کیخلاف مزاحمتی تحریک‘ سترویں صدی عیسویں میں یوسفزئیوں کی تحریک مزاحمت اور اسی صدی کے آخر میں چلائی گئی پختونوں کی اجتماعی مزاحمتی تحریک اور اس میں خاص کر خوشحال خٹک کے کردار کا احاطہ کیاہے۔

ڈاکٹر شہباز نے اپنی تحقیق کی بنیاد تین سوالات کو بنایا ہے جن میں پہلا سوال مغل پختون تنازعے میں ذمہ دار کے تعین سے متعلق ہے کہ آیا اس تنازعے اور کشمکش کا ذمہ دار کون تھا۔دوسرے سوال میں پوچھا گیا ہے کہ آیا مغلوں کیخلاف مزاحمتی تحریکیں منظم کرنے میں پختون کس حدتک حق بجانب تھے جبکہ تیسرا سوال متذکرہ سیاسی مزاحمتی تحریکوں کے اثرات اور نتائج سے متعلق ہے۔ محقق کے مطابق اکثر محققین اور مورخین مغل حکمرانوں کیخلاف بایزید انصاری کی تحریک کو مذہبی رنگ دیتے ہیں جبکہ بعض لوگ اس کو قوم پرستانہ جدوجہد کے تناظر میں دیکھتے ہیں‘اسی طرح بعض مورخین پیر بابا کی جانب سے مغلوں کی حمایت اور پیر روخان کی مخالفت کے حوالے سے بھی غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں‘جبکہ محققین کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو مغلوں کیخلاف یوسف زئیووں‘ آفریدیوں ‘ صافیوں ‘ خٹک اور مہمند قبائل کی مسلح مزاحمت کوہندوستان میں پختون اقتدار کی بحالی کی منظم تحریکیں سمجھنے کی بجائے لوٹ مار اور قتل وغارت پر مبنی وقتی تحریکیں قراردیتے ہیں ڈاکٹر شہباز نے اپنی تحقیق کے اختتامیہ میں پختونوں کی مغل حکمرانوں کیخلاف مزاحمت کو جہاں جائز اورزمینی حقائق کے مطابق قراردیا ہے وہاں انکا استدلال ہے کہ پختون چونکہ مغلوں سے بہت پہلے ہندوستان میں اپنا اثرورسوخ قائم کر چکے تھے اسلئے ان کیلئے مغل حکمرانوں کے ہاتھوں اقتدار سے محرومی کا گہرا زخم بھلانا ممکن نہیں تھا اور یہی وہ اصل سبب تھا جسکے باعث پختون مغل حکمرانوں کیخلاف آخر وقت تک نہ صرف مزاحمت کرتے رہے بلکہ انہوں نے ان کے زوال میں بھی کلیدی کردارادا کیا۔