202

کابینہ اجلاس ‘بجٹ دستاویز

وفاقی کابینہ نے شمالی وزیرستان میں ہونے والے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قبائل کو ورغلایا گیا ہے اور یہ کہ حکومت کے پاس شرپسندوں کے لئے زیر وٹالرنس ہے‘ اجلاس میں قومی بجٹ11جون کو پیش کرنے کا فیصلہ کیاگیا اطلاعات ونشریات کے لئے وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ قومی بجٹ میں قبائلی اضلاع کے لئے 102ارب روپے مختص کئے جارہے ہےں‘کابینہ اجلاس سے متعلق معلوم ہوا ہے کہ اس میں ڈھائی گھنٹے تک قومی بجٹ پر بحث ہوئی اور ایف بی آر میں اصلاحات کو ناگزیر قرار دیاگیا ‘یہ بات ریکارڈ کا حصہ ہے کہ ملک میں ساڑھے پانچ کروڑ اکاﺅنٹ ہولڈرز میں سے ٹیکس جمع کرانے والوں کی تعداد صرف چند لاکھ ہے‘ ملک میں300کمپنیاں ایسی ہےں جو ٹیکس ریٹرنز میں منافع دکھاتی ہےں ایسے وقت میں جبکہ ضرورت محصولات کا ہدف پانے کی ہو تو ٹیکس نیٹ میں توسیع بھی ضروری ہوتی ہے جس کے لئے سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھنا ہی دیرپا نتائج دے سکتا ہے‘ دریں اثناءآنے والے قومی بجٹ میں سگریٹ اور مشروبات مہنگے کئے جانے کا بھی کہا جارہا ہے جبکہ 31 اثاثوں کی نجکاری کا عندیہ بھی دیا جارہا ہے۔

 بجٹ سے قبل ایک ماہ کے لئے بجلی کی قیمت میں55پیسے فی یونٹ اضافہ کردیا گیا ہے جبکہ یکم جون سے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں ایک بڑے اضافے کا خدشہ بھی ہے‘ وطن عزیز کی معیشت اور اس میں مہنگائی کے ہاتھوں سب سے زیادہ متاثرہونےو الے غریب اور متوسط طبقے کے شہری ریلیف کے متقاضی ہےں جبکہ اقتصادی اعشاریے بڑے پیمانے پر ٹیکسوں کے خدشات اور پٹرولیم مصنوعات کے بڑھتے نرخ عوام کی مشکلات میں مزید اضافے کا اشارہ دے رہے ہےں‘ایسے میں جب عالمی کساد بازاری اور ملکی معیشت کے تناظر میں عام شہریوں کے لئے خاطرخواہ ریلیف ممکن نہ ہو تو لے دے کہ صرف مارکیٹ ہی رہ جاتی ہے جس کو کنٹرول کرکے لوگوں کی مشکلات میں کمی لائی جاسکتی ہے یہ کنٹرول کوئی چھوٹا موٹا کام نہےں ہمارے ہاں اس کے لئے رائج طریقہ چند بڑے شہروں میں دوچار چھاپے مارنا ہی رہا ہے جو کسی طور اتنے بڑے اور سنجیدہ مسئلے کا مناسب حل نہےں ‘وزیراعظم کو خود صوبوں کے ساتھ مشاورت سے ا س مقصد کے لئے ٹھوس حکمت عملی طے کرنا ہوگی جس پر عملدرآمد کے لئے انتظامات بھی ضروری ہوں گے بصورت دیگر 5.5ٹریلین کا ریونیو ٹارگٹ اور لگائے جانے والے متوقع ٹیکس عام شہری کی زندگی اجیرن کرکے رکھ دیں گے۔

انفراسٹرکچر میں غیر ضروری توسیع؟

بعداز خرابی بسیار سہی خیبرپختونخوا حکومت کی حکمت عملی میں انفراسٹرکچر کو غیر ضروری توسیع دینے سے گریز اورخدمات کی فراہمی کو ترجیح قرار دیئے جانے کی خوشخبری سنائی جارہی ہے اس میں کوئی دوسری رائے نہےں کہ ہمارے ہاں اکثر ترقیاتی منصوبے ترتیب دیتے وقت برسرزمین ضروریات کو مدنظر نہےں رکھا جاتا اس حقیقت سے بھی انحراف ہوتا رہا ہے کہ خدمات عمارتیں نہےں بلکہ ان میں موجود ذمہ دار اہلکار فراہم کرتے ہےں ہم نے مختلف شعبوں میں اربوں روپے کی عمارتیں تعمیر کردیں جبکہ جن شہریوں کےلئے تعمیر ہوئیں وہ وہاں سروسز کےلئے ٹھوکریں ہی کھاتے رہے وزیراعلیٰ کا خدمات کی فراہمی سے متعلق عزم قابل اطمینان سہی تاہم اس کےلئے نگرانی کا موثر انتظام ترتیب دیئے بغیر ثمر آور نتائج کی کوئی توقع نہےں کی جاسکتی۔