277

بھارتی کرکٹ بورڈ اور دھونی نے آئی سی سی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے

بھارتی کرکٹ بورڈ اور سابق کپتان مہندرا سنگھ دھونی نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے اپنے دستانوں سے بھارتی فوج کا نشان ہٹا دیا۔

ورلڈ کپ 2019 میں بھارت نے جنوبی افریقہ کے خلاف اپنا افتتاحی میچ کھیلا تھا اور اس میچ میں دھونی نے وکٹ کیپنگ کے دوران جو دستانے پہنے ان پر بھارتی فوج کا نشان موجود تھا۔

آئی سی سی کے جنرل منیجر برائے اسٹریٹجک کمیونیکیشنز نے بتایا کہ بی سی سی آئی سے درخواست کی گئی ہے کہ دھونی کے گلوز سے اس نشان کو ہٹایا جائے۔

دھونی سے نشان پٹانے لا مطالبہ کرنے پر بھارت کے اندر کافی شور شرابا ہوا تھا لیکن عالمی کپ کے حوالے سے آئی سی سی کے واضح قوانین کے سامنے طاقتور بھارتی بورڈ کی بھی ایک نہ چلی اور دھونی کو اپنے دستانوں سے یہ نشان ہٹانا پڑا۔

جب اتوار کو آسٹریلیا کے خلاف میچ سے قبل بھارتی ٹیم پریکٹس کے لیے میدان میں اتری تو دھونی کے دستانوں پر وہ نشان نہیں تھا اور پھر میچ میں بھی انہوں نے مختلف دستانوں کے ساتھ میدان میں اترے۔

'بلیدان' بھارت کی خصوصی فوج کا نشان ہے اور اسے صرف پیراملٹری کمانڈوز کو پہننے کی اجازت ہے۔

دھونی کو 2011 میں پیراشوٹ رجمنٹ میں لیفٹننٹ کرنل کا اعزازی عہدہ دیا گیا تھا اور انہوں نے 2015 میں پیرا بریگیڈ ٹریننگ بھی حاصل کی تھی۔

بھارتی کرکٹ بورڈ کی جانب سے آئی سی سی سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ دھونی کو دستانوں پر بلیدان کا نشانہ لگانے کی اجازت دے لیکن آئی سی سی نے سابق بھارتی کپتان کو دو قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہراتے ہوئے اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔

یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ بھارتی ٹیم یا اس کے کسی کھلاڑی کی جانب سے جنٹل مین گیم کو سیاست کی نذر کیا گیا ہو بلکہ اس سے قبل رواں سال مارچ میں بھارتی کرکٹ ٹیم اپنے ہوم گراؤنڈ میں آسٹریلیا کے خلاف ایک روزہ میچ میں فوجی کیپ پہن کر آئی تھی۔

ان کے اس اقدام پر پاکستان سے انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس وقت کے وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فواد چوہدری، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی سے کارروائی کرتے ہوئے کھیل کو سیاست کی نذر کرنے پر بھارت پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔

تاہم آئی سی سی کا کہنا تھا کہ بھارتی کرکٹ ٹیم کو خاکی ٹوپی پہننے کی اجازت دی گئی تھی۔