118

سیاسی تناﺅ اور اہم قومی امور

حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں کی کانفرنس میں چیئرمین سینٹ کو ہٹانے کا فیصلہ کیاگیا ہے‘ آل پارٹیز کانفرنس نے 25جولائی کو یوم سیاہ منانے کا عندیہ بھی دیدیا ہے‘ اے پی سی کے فیصلوں سے متعلق پریس بریفنگ میں بتایاگیا ہے کہ اپوزیشن ارکان دھاندلی تحقیقاتی کمیٹی سے بھی مستعفی ہو رہے ہیں جبکہ عوامی رابطہ مہم بھی شروع کرنے کا کہاگیا ہے‘ اطلاعات ونشریات کیلئے وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس 10گھنٹے جاری رہ کر ناکام ہو گئی ہے اور حکومت کو گرانے دھمکانے والے کسی بیانیے پر متفق نہیں ہوسکے‘ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ اے پی سی کا اعلامیہ خود اپنی جگہ اعتراف جرم ہے‘ عین اسی روز جب آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد اور اس پر ردعمل میں بیانات کی تیزی نے سیاسی منظرنامے کو مزید گرما دیا‘ وطن عزیز میں ڈالر مزید مہنگا ہونے پر روپے کی قدر میں کمی ہوئی‘ اس کیساتھ ملکی معیشت پر موجود کھربوں روپے کے قرضوں کا والیوم بھی مزےد بڑھ گےا‘اےک جانب سونے کی قےمت بھی مزےد بڑھی تو دوسری طرف اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافے کی مشروط منظوری دیدی ہے‘ یکم جولائی کو نیا مالی سال شروع ہونے سے قبل ملک میں گرانی کی شرح بڑھ رہی ہے‘ ۔

نئے سال میں یہ گراف مزید اوپر جانے کا امکان ہے‘ سیاسی گرماگرمی کا سلسلہ ملک میں گزشتہ دور حکومت سے شروع ہے آف شور کمپنیوں کے شور سے اس کا درجہ حرارت بڑھتا گیا ہے‘ جمہوری نظام میں سیاسی مخالفت روٹین کا حصہ ہے‘ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات پارلیمانی نظام میں ضرور رہتے ہیں تاہم وقت کا تقاضا یہ ہے کہ تمام سیاسی اختلافات کیساتھ کم ازکم اہم قومی امور پر مل بیٹھ کر مشترکہ حکمت عملی تشکیل دیدی جائے‘ اس حوالے سے میثاق معیشت کی بات سابق حکومت کے دور میں بھی ہوئی اور اب بھی اس کی صدا سنی گئی ہے‘ اسی طرح آبی ذخائر سمیت عوامی ریلیف کیلئے بعض ٹھوس اقدامات سیاسی قیادت کی مشاورت کے متقاضی ہیں‘یہ بات بھی مدنظر رکھنی ہوگی کہ مستحکم معیشت ہمیشہ سیاسی استحکام سے جڑی ہوتی ہے۔

سپیشل فورس سے متعلق بڑا اعلان

وزیراعلیٰ محمود خان نے سپیشل پولیس فورس کو مستقل کرنے کا اعلان کردیا ہے موجودہ حالات میں وزیراعلیٰ کا فیصلہ یقینا قابل اطمینان اور ان کے احساس وادراک کا عکاس ہے‘ اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ عارضی یا کنٹریکٹ ملازمت میں ایمپلائز پورے اطمینان سے کام نہیں کرسکتے‘دوسرے یہ کہ ملازمت ختم ہونے پر عمر کی حد گزر جانے کے باعث وہ دوسری مستقل نوکری تلاش نہیں کرپاتے‘اس وقت صوبے کے کئی اداروں خصوصاً سرکاری یونیورسٹیوں میں متعدد ملازمین عارضی کنٹریکٹ بنےادوں پر ملازمت کررہے ہیں‘ بعض ملازمین ملازمت کی مستقلی کے لئے عدالتوں سے بھی رجوع کرنے پر مجبور ہوتے ہیں‘حکومت ایک اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ان ملازمین کی میرٹ پر مستقلی کے ساتھ آئندہ بھرتی کے لئے اصلاحات پر مشتمل قاعدہ کلیہ ترتیب دے تاکہ ملازمین اطمینان سے کام کرسکیں۔