113

وزیراعظم کا نوٹس

وزیراعظم عمران خان نے وطن عزیز میں جاری مہنگائی کے طوفان کا نوٹس لیا ہے ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق عمران خان نے اس حوالے سے 7دن کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے رپورٹ بھی طلب کی ہے‘ وزیراعظم عمران خان نے تشویشناک صورتحال سے نمٹنے کے لئے سرکاری افسروں کو دفتروں سے نکلنے کا حکم بھی دیا ہے‘ میڈیا رپورٹس کے مطابق سپیشل برانچ کو بھی اس حوالے سے متحرک ہونے کا کہہ دیا گیا ہے‘وزیراعظم نے گرانی کا نوٹس ایک ایسے وقت میں لیا ہے جب ملکی معیشت کو درپیش سنگین چیلنجوں کے نتیجے میں عام آدمی کی قوت خرید جواب دے چکی ہے‘ دوسری جانب متعلقہ اداروں کی جانب سے بار بار یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ یکے بعد دیگرے برسراقتدار آنے والی حکومتوں نے ملک کی معیشت کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا تو دیا ہے اب اس کو نکالنے کے لئے ٹیکس کی ادائیگی کرنا ہوگی‘ ٹیکس جس پر بھی لگے وہ اس کا لوڈ مارکیٹ میں عام صارف ہی کو منتقل کرتا ہے کسی کارخانے پر کوئی ڈیوٹی یا ٹیکس عائد ہو وہ اس کو مصنوعات کی پیکنگ پر درج کرکے مارکیٹ میں اپنی پراڈکٹ مہنگی کردیتا ہے جی ایس ٹی 16 فیصد ہویا17 فیصد وصول عوام سے ہی کیا جاتا ہے‘۔

یہی حال زرعی اور دوسرے شعبوں کا ہے صرف تیل کے نرخوں میں معمولی اضافے پر بھی فارورڈنگ چارجز بڑھ جانے کو جواز بناکر سبزیاں پھل اور کھانے پینے کی دیگر اشیاءمہنگی کردی جاتی ہےں‘ بجلی گیس کے نرخوں میں اضافے پر گھریلو صارفین کو بل کا اضافی بوجھ بھی اٹھانا پڑتا ہے جبکہ مارکیٹ میں روٹی کا نرخ بڑھ جاتا ہے یا پھر وزن مزید کم کرکے گیس مہنگی ہونے کا جواز دے دیا جاتا ہے‘ وزیراعظم کی ہدایات بعداز خرابی بسیار سہی تاہم قابل اطمینان اس لئے ہیں کہ اس سے ان کے احساس کا اندازہ ہوتا ہے‘ دوسری جانب یہ تلخ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ وزیراعظم کی ہدایات عام شہری کے لئے صرف اسی صورت ثمر آور ثابت ہوسکتی ہےں جب ان پر عمل درآمد کے لئے کوئی فول پروف میکنزم دیا جائے ‘یہ میکنزم اب صوبائی حکومتو ں کو انتظامیہ کی مشاورت سے ترتیب دینا ہوگا مہنگائی کیساتھ ضرورت ملاوٹ کی روک تھام یقینی بنانے کی بھی ہے‘ مردہ مویشیوں ‘مرغیوں کے گوشت کی فروخت اور دودھ میں مضر کیمیکلز کی ملاوٹ سے متعلق اطلاعات نے عوامی اعتماد کو متاثر کیا ہے جس کی بحالی ضروری ہے۔

پاک افغان تعلقات؟

اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان اور افغان صدر اشرف غنی کے درمیان بات چیت سے متعلق جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ دونوں ملک تعلقات کے نئے دور پر متفق ہےں‘ وزیراعظم عمران خان افغان مسئلے کا حل مذاکرات ہی کو قرار دیتے ہےں جبکہ افغان صدر مذاکراتی عمل میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہےں‘ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے نئے دور کا آغاز یقینا خوش آئندہے تاہم ماضی میں کابل سے پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات نے جس بے اعتمادی کی فضاءکو جنم دیا افغان حکومت کے لئے ضروری ہے کہ آئندہ اس سے اجتناب کیا جائے‘ اب اعتماد سازی کے لئے اقدامات کئے جائیں‘ امن کے قیام کے لئے پاکستان کی کاوشوں کاساتھ دیا جائے اوربارڈر محفوظ بنانے کے لئے پاکستان کے اقدامات کو سپورٹ دی جائے تاکہ دونوں ملک امن کے قیام کے ساتھ باہمی تجارت کو فروغ دے سکیں۔