214

آئی ایم ایف کی رپورٹ

پاکستان کےلئے 6ارب ڈالر کے قرض پروگرام کی منظوری کےساتھ ہی عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے وطن عزیز کی معیشت کے حوالے سے رپورٹ جاری کردی ہے عالمی ادارے نے پاکستان میں مہنگائی بڑھنے اور اسکی شرح13فیصد تک ہونے کا عندیہ دیا ہے‘ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پہلے سے موجود بھاری ٹیکسوں کیساتھ سالانہ 1500سے 2000ارب روپے کے مزید ٹیکس بھی لگیں گے بتایا یہ بھی جارہا ہے کہ پاکستان کو اگلے 3سال میں تقریباً38 ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی ‘دریں اثناءیہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آئی ایم ایف نے گیس اور بجلی کی قیمتوں کا تعین سیاسی مداخلت کے بغیر کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے خبررساں ایجنسی یہ بھی بتارہی ہے کہ عالمی ادارے نے جی ڈی پی میںٹیکسوں کا حصہ چار سے پانچ فیصد تک بڑھانے کا مطالبہ بھی کیا ہے وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت کے مشکل فیصلوں کا مقصد معیشت کی سمت درست کرنا اور ملک کو مشکلات سے نکالنا ہے‘ وہ یہ بھی کہتے ہےں کہ بے نامی جائیداد رکھنے والوں کو پورا موقع دیا اور اب بلا تفریق کاروائی ہوگی اس سے ہٹ کر کہ قومی دولت کے ضیاع پر کس کےخلاف کیا ایکشن لیا جاتا ہے اور کیا نہےں اس سے بھی صرف نظر رکھتے ہوئے کہ کس کا موقف اور دعویٰ درست اور کس کا غلط ہے۔

 دیکھنے والی بات صرف اتنی ہے کہ اصلاح احوال کےلئے کیا اقدامات اٹھانا ہوں گے مسئلے کا عارضی حل تو ایک قرضے کی قسط چکانے کےلئے دوسرا قرضہ لینا اور قرضوں کے حجم میں اضافہ کرنا ہے جس کا سلسلہ جاری ہے اس سلسلے مےں قرض دینے والوں کی شرائط مانتے ہوئے عوام کےلئے یوٹیلیٹی سروسز کے چارجز اور ٹیکسوں کا بڑھانے پر اکتفا کیاجارہا ہے‘ دوسری جانب بڑھتی مہنگائی نے لوگوں کی زندگی اجیرن کررکھی ہے وقت آگیا ہے کہ مسئلے کے پائیدار حل کی جانب بڑھاجائے ‘تجارتی خسارہ کم کرنے کےلئے اقدامات کی ضرورت ہے یہ بھی ضروری ہے کہ پیداواری لاگت کم کی جائے سمگلنگ کا خاتمہ کیا جائے‘ سرمایہ کاری کےلئے فضاءسازگار بنائی جائے غیر ضروری اخراجات میں کمی کی جائے اس سب کےساتھ ضرورت عام شہری کو ریلیف دینے کی ہے اس کےلئے مارکیٹ کنٹرول کے حوالے سے احکامات ریکارڈ پر موجود سہی نتیجہ خیز عملی اقدامات کا ہنوز انتظار ہے جو اسوقت چند چھاپوں تک محدود ہےں۔

سفر محفوظ بنانے کی ضرورت

وزیراعلیٰ محمود خان نے آبی سفر محفوظ بنانے کےلئے اقدامات کا عندیہ دیا ہے اس ضمن میں تربیلا جھیل سمیت پورے صوبے میں کشتیوں کی رجسٹریشن اور انہےں حفاظتی سازوسامان سے لیس کرنے کا بھی کہا گیا ہے سفر پانی میں ہویا سڑک پر چیئر لفٹ ہو یا کوئی بڑے جھولے سب کو محفوظ بنانے کےلئے اقدامات ناگزیر ہےں ان اقدامات کےلئے بڑے حادثات کا انتظار کئے بغیر بروقت ایکشن ہی مسئلے کا صحیح حل ہے صوبے میں آئے روز ٹریفک حادثات معمول کا حصہ ہےں سڑکوں کی حالت بہتر بنانا انہےں ضرورت کے مطابق دورویہ کرنا اور روڈ سیفٹی کےلئے طے شدہ قاعدے قانون پر عمل درآمد بھی ضروری ہے سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کی حالت اور بڑے روڈز پر سست رفتار ٹریفک کے معاملات بھی دیکھنا ضروری ہےں بہتر یہی ہے کہ آبی سفر کےساتھ مجموعی طور پر مسافروں کی سیفٹی کے حوالے سے جامع منصوبہ بندی کی جائے ساتھ میں ایمرجنسی کی صورت ریسکیو سروسز کو بھی فول پروف بنایا جائے۔