112

کون سا سکول

آج سے بیس پچیس برس قبل جب ہم برطانیہ سے واپس لوٹے تو میرے بچوں کو سکول کا مسئلہ تھا۔ برطانوی سکولوں سے نکال کر یہاں داخل کروانا اور پھر ان کو مانوس کروانا ہمیں پہاڑ جیسا کام لگ رہا تھا۔ تاہم ہم نے ذہن میں دو شرائط رکھی تھیں : ایک یہ کہ سکول گھر سے قریب ہو اور دوسری یہ کہ سکول سے ان کو گھر پر کرنے کیلئے ہوم ورک نہ دیا جائے۔ ہماری خوش قسمتی سے انہی دنوں ایک نیا سکول کھلا تھا جو اگر چہ دوسرے سکولوں سے طویل ٹائم ٹیبل رکھتا تھا لیکن بچوں کو ہوم ورک سے نجات ملی ہوتی تھی‘ بلکہ بچے تو اپنے بیگ بھی سکول سے نہیں لاتے تھے۔ یہ سکول پرائیویٹ تھا اور اگرچہ یہاں کے اساتذہ بہت محنت سے کام لیتے تھے لیکن بعد میں ایک موازنے میں ہمیں معلوم ہوا کہ سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی تعلیم اور ان کا تجربہ کسی بھی پرائیویٹ سکول سے زیادہ ہوا کرتا تھا۔ واحد کمی یہ تھی کہ سرکاری سکولوں میں اکثر اساتذہ اپنی ڈیوٹی سے غیر حاضر رہتے یا سکول میں ہوتے ہوئے بھی کلاس مس کردےتے تھے۔ گزشتہ پانچ چھ سال سے حکومت نے اس صوبے میں کم از کم تعلیم کے میدان میں کچھ انقلابی اقدامات کئے ہیں جن میں اساتذہ کی حاضری یقینی بنانا سب سے اہم قدم ہے۔ اب دور دراز علاقوں میں بھی اساتذہ کی حاضری جی پی ایس کے ساتھ چیک کی جاتی ہے اور وہ دن ہوا ہوئے کہ اُستاد محترم دبئی میں کام کرتے تھے اور ان کا بیٹا یہاں سے ان کی تنخواہ سکول سے لے لیا کرتا تھا یا سکول میں چار اساتذہ باری باری ڈیوٹی دیتے۔ اسکے ساتھ ہی زیادہ تر اساتذہ کو ترقی کے سکیل دےئے گئے، ان کی تنخواہیں بہت نہیں توکم از کم مناسب کردی گئیں ۔ان اقدامات کا ایک مثبت اثر یہ پڑا کہ گزشتہ کئی برس سے مسلسل سرکاری سکولوں میں طلبہ کی تعداد بڑھ رہی ہے اور پرائیویٹ سکولوں سے بھی کئی طلبہ سرکاری سکولوں میں منتقل ہوئے۔

سرکاری سکولوںکی عمارتیں اکثر مناسب اور لیبارٹریاں سامان سے پُر ہوتی ہیں۔ اساتذہ کا نہ صرف تعلیمی تجربہ زیادہ ہوتا ہے بلکہ سروس کے دوران ان کی مزید تربیت بھی ہوتی رہتی ہے۔ ان کا احتساب بھی محکمانہ طور پر باقاعدہ ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں پرائیویٹ سکولوں پر والدین کا پریشر ہی اساتذہ کی بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے۔ اس لئے اگر والدین سرکاری سکولوں کو مناسب وقت دیں۔ اساتذہ کے ساتھ اپنے بچوں کی تعلیم کے بارے میں باقاعدہ بحث کریں اور اپنے بچوں کے بارے میں معلومات حاصل کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ سرکاری سکول کے نتائج پرائیویٹ سکولوں کے برابر نہ ہوں۔ جو والدین اپنے بچوں کو مہنگے سکولوں میں داخل کرنے کی استعداد رکھتے ہیں وہ اگر انہی سرکاری سکولوں کو سپورٹ کریں تو نہ صرف اپنے بچوں کو زیادہ پڑھے لکھے اور تربیت یافتہ اساتذہ سے مستفید ہونے دیں گے بلکہ ان کے پریشر اور محبت دونوں سے سکول کی کارکردگی مزید بڑھ جائے گی۔پرائیویٹ سکولوں میں ٹیوشن کا رواج زیادہ ہے۔ اگر پرائیویٹ ٹیوشن ہی کروانا ہے تو کیا بہتر نہ ہوگا کہ سرکاری سکول میں داخل کرکے اسی سکول میں ایک گھنٹہ دو گھنٹہ کی پرائیویٹ پڑھائی کا بندوبست بھی کیا جائے۔ اس طرح سے اساتذہ کی اضافی آمدنی کا بھی ایک سبب بن جائے گا۔ گھر کے قریبی سکول میں داخلے سے بچے کو سب سے زیادہ سہولت آنے جانے کی ہوتی ہے۔

میں دیکھتا ہوں کہ سردیوں میں فجر کی نماز کے بعد بچے آنکھیں مسلتے ہوئے بسوں کے انتظار میں کھڑے ہوتے ہیں۔ صبح کے وقت سڑکوں پر زیادہ اژدہام انہی سکول کے بسوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ پھر کسی قسم کی نگرانی کے بغیر غیرمعیاری گاڑیاں بھی استعمال ہوتی ہیں اور ہر سال کئی جانیں فضول حادثات میں ضائع ہوجاتی ہیں۔ سوائے چند ایک کے پرائیویٹ سکولوں میں بزنس کی وجہ سے ڈسپلن کی زیادہ پابندی نہیں لاگو کی جاسکتی۔ اس کے مقابلے میں سرکاری سکولوں میں اساتذہ صرف حکام بالا کو جواب دہ ہوتے ہیں اس لئے ان کو والدین کی حیثیت زیادہ متاثر نہیں کرسکتی۔ اگر چہ بدقسمتی سے ہمارے جیسے ممالک میں سکول کی حیثیت بھی اب سٹیٹس سمبل بن چکی ہے اور بہت سے نچلے اوسط کلاس کے لوگ بھی اپنی ناک اونچی رکھنے کے لئے بچوں کو کسی بھی پرائیویٹ سکول میں داخل کرنے پر تیار ہوتے ہیں لیکن اگر وہ صرف تھوڑی سی محنت کرکے اپنے قریبی گورنمنٹ سکول کے اساتذہ کے ساتھ مل کر اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں رابطہ جاری رکھیں تو کوئی وجہ نہیں کہ یہی سکول بہتر نتائج دینے لگیں۔ جب ان سکولوں پر طلبہ کا دباﺅ بڑھنے لگے گا تو حکومت کو بھی ان سکولوں کی تعداد اور معیار بڑھانا پڑے گا۔ گورنمنٹ سکولوں میں ایک اور عنصر جو طالب علم کی عملی زندگی میں رہنمائی کیلئے اہم ہے‘۔

 طلبہ کا مختلف طبقات سے ہونا ہے۔ پرائیویٹ سکولوں کے بچے عموماً ایک ہی طرح کے پس منظر سے آتے ہیں ۔ ان کے گھروں کے حالات تقریباً ایک جیسے ہی ہوتے ہیں اور ان کی عادتیں بھی ملتی جلتی ہیں۔ جبکہ عام معاشرہ مختلف النوع افراد اور عادات پر مشتمل ہوتا ہے۔ چنانچہ پرائیویٹ سکولوں سے تعلیم پانے والے ایک خاص طبقے اور عادات تک محدود ہو جاتے ہیں جبکہ گورنمنٹ سکولوں کے طلبہ میں ہر طرح کے خاندان سے بچے موجود ہوتے ہیں جو کہ معاشرے کی زیادہ عکاسی کرتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ معاشرے میں زیادہ گھل مل سکتے ہیں۔ اس کالم کی بنیاد ہرگز پرائیویٹ سکولوں سے عناد یا ان کے خلاف کسی بغض پر نہیںہے۔ میرے دل میں ان اداروں کیلئے بہت عزت ہے کیونکہ ان کی غیر موجودگی میں گورنمنٹ سکول کبھی بھی پوری آبادی کی ضروریات پوری نہیں کرسکتے۔ موجودہ حالات میں پرائیویٹ سکولوں پر اعلیٰ حکام کی طرف سے گرمیوں کی چھٹیوں کی فیسوں پر پابندی غیر منصفانہ ہے کیونکہ ان کے اساتذہ کی تنخواہیں تو گرمیوں کی چھٹیوں میں بھی جاری رہتی ہیں۔ تاہم اس کا حل یہی ہوسکتا ہے کہ پرائیویٹ سکول اپنے فیس سالانہ کے حساب سے لاگو کریں جو بے شک دس قسطوں میں وصول ہو۔ پرائیویٹ اور گورنمنٹ سکولوں کے علاوہ مدارس کا بھی سب سے اہم مسئلہ دراصل ایک نصاب کا نہ ہونا ہے۔لیکن اس موضوع پر پھر کبھی سہی۔