94

ٹیکس کلچر کا فروغ

وطن عزیز کاشمار ان ملکوں میں کیاجاسکتاہے جہاں براہ راست ٹیکس دینے والوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے بیس کروڑ میں سے بمشکل بیس سے پچیس لاکھ افراد فائلر ہیں جو براہ راست ٹیکس ادا کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف باالواسطہ طورپر ٹیکسوں کی وصولی پورے عروج پرہے جس میں پھرزیادہ نشانہ ملک کی غریب آبادی ہی بنتی ہے جو کھانے پینے کی اشیاءتک پر باالواسطہ ٹیکسوں کی ادائیگی کرتے ہیں گویا کروڑپتی اور ارب پتی لوگوں سے زیادہ بوجھ انہوں نے ہی اٹھایاہے جہاں تک براہ راست یا بلا واسطہ ٹیکسوںکاتعلق ہے تو ہمارے ہاںعام طورپر اس طرف سے آنکھیں بند ہی رکھی جاتی ہیں جس کی وجہ سے ملک تیزی سے قرضوں کی دلدل میں دھنستاجارہاہے ٹیکس کلچر کی کمزوری سب سے بڑی وجہ سے سرکاری اداروں اورحکومتی اقدامات پر قوم کا عدم اعتماد ہے کیونکہ دیکھاگیاہے کہ سرکاری وسائل کااستعمال بے دردی کےساتھ غیر ضروری امور میں کیاجاتارہاہے حکمرانوں نے ٹیکسوں کاپیسہ ہمیشہ غلط جگہ استعمال کیاوفاداریاں خریدنی ہوں یا پھر اپنے چہیتوں کو نوازنا،غیرضروری غیر ملکی دوروں پر بھاری اخراجات ہوں یا پھرسرکاری دفاتر میں وسائل کابے دریغ ضیاع اربو ں کھربوں روپے سابقہ تمام ادوار میں ضائع ہوتے رہے ہیںچنانچہ جو لوگ دل سے ٹیکس دیناچاہتے بھی تھے وہ بھی بددل ہوکر ٹیکس چوروںکی صف میں شامل ہوتے چلے گئے حالانکہ یہ تو وہ قوم ہے جو سالانہ اربوں ڈالر صدقات ،خیرات اورزکواة کی صورت میں اداکرتی ہے مگر حالت یہ ہے کہ جب بینکوں میںپڑی رقوم سے زکواة کی کٹوتی کامرحلہ آتاہے تو پھر اکاﺅنٹ خالی کرادئیے جاتے ہیں اس لئے نہیں کہ لوگ زکواة نہیں دیناچاہتے بلکہ اس لئے کہ وہ حکومت کے ذریعے زکواة کی تقسیم کے عمل پر اعتبار کرنے کیلئے تیار نہیں یہی حالت ٹیکسو ں کے معاملے ہیں ہے چندہزار کاٹیکس بچانے کیلئے اس سے دگنی رقم بطور رشوت خرچ کردی جاتی ہے ۔

مگر فائلر بننے پر آمادہ ہونے کیلئے کوئی بھی تیار نہیں ہوتا اس وقت کہ جب موجودہ حکومت ٹیکس سسٹم بدلنے اور اس پر قوم کااعتماد بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے تو سب کو ہر قسم کی مخالفت سے بالاترہوکر نہ صرف حمایت کرنی چاہئے بلکہ مقدور بھر تعاون سب کاقومی فریضہ بھی بنتاہے کیونکہ موثر ٹیکس سسٹم کی وجہ سے ہی اغیار کے قرضوں اور ان کی مالی غلامی سے نجات مل سکتی ہے بہتر ہوگاکہ حکومت ا س حوالہ سے کچھ ایسے غیر روایتی مثالیں سامنے لائے جس سے ٹیکس دہندگان کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ عزت افزائی بھی ہوجس کے بعددیگر خود بخود ٹیکس نیٹ میں داخل ہونے کیلئے تیار ہوسکیں گے سب سے پہلے تو یہ اعتماد بحال کرنا ضروری ہے کہ ٹیکسوں کاپیسہ صرف اورصرف قومی اوراجتماعی مفاد کے منصوبوںپرہی خرچ کیاجائے گا اس سلسلہ میں متعلقہ سرکاری اداروں کی مکمل اصلاح بلکہ اوور ہالنگ کی جانی چاہئے ساتھ ہی اس تجویز پر غور کیاجائے کہ ہر ضلع میں ایک عشرے کے دوران سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے کم از کم دس افراد کا کردار تسلیم کرتے ہوئے اہم عمارتوں ‘ یادگاروں‘سڑکوں ‘ٹرینوں اور منصوبوں کو ان کے نام کے ساتھ منسوب کیاجائے اسی طرح ائیر پورٹس پر فوری بورڈنگ کی سہولت ،امیگریشن کاﺅنٹر پر سفارت کاروں کی طرح خصوصی لائن کی سہولت بھی دی جاسکتی ہے ۔

علاوہ ازیںسرکاری تعمیراتی منصوبوں پر ان الفاظ پر مشتمل بورڈز یا بینرز آویزاں کیے جائیں ”ٹیکسوں کی رقم سے کام جاری ہے“اس سے شہریوں کویہ پیغام ملے گا کہ ان کے ٹیکسوں کی رقوم انہی کی فلاح وبہبودکیلئے استعمال ہورہی ہیں ان تجاویز کامقصد خصوصی ارکان پر مشتمل ایک ایسا کلب تشکیل دیناہے جس کی رکنیت سماجی رتبہ کے علاوہ ایک اعزاز بھی ہو یہ حقیقت ہے کہ اب اس قسم کے غیر روایتی اقدامات ہی کے ذریعہ ایک ایسے سماجی رویہ کو پروان چڑھایا جاسکتاہے کہ دیانتداری سے ٹیکس ادا کرنا قابل عزت امر ہے یہ حقیقت ہے کہ جب تک سرکاری اداروں پر اعتمادبحال نہ کرایاجائے ،ٹیکسوں کی رقوم مفادعامہ کے منصوبوں پرخرچ کے معاملہ پر شکوک وشبہات کی فضا کو ختم نہ کیاجائے اور ساتھ ہی سب سے زیادہ براہ راست ٹیکسوں کی ادائیگی کرنے والوںکو خصوصی مراعات نہ دی جائیں حکومتی کوششیں کچھ زیادہ بارآورنہیں ہوسکتیں اس سلسلہ میںحکومت کو اب کھل کر اقدامات کرناہوں گے براہ ٹیکسوں کادائرہ وسیع ہوگا تو باالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے میںمددملے گی اور غریب شہریوںکو ریلیف فراہمی کاخواب شرمندہ تعبیرہوسکے گا۔